ندا فاضلی

...

ندا فاضلی

ندا فاضلی اردو کے مشہور شاعر ، فلمی گیت کار اور مکالمہ نگار گزرے۔ ان کا پورا نام مقتدا حسن ندا فاضلی ہے۔ لیکن ندا فاضلی کے نام سے مشہور ہوئے۔ ندا فاضلی گوالیار میں پیدا ہوئے۔ دہلی میں تعلیم پائی۔ ان کے والد ایک شاعر تھے۔ تقسیم کے بعد ان کے والدین اور خاندان کے افراد پاکستان چلے گئے، لیکن فاضلی بھارت ہی میں رہ گئے۔ 1969ء میں انہوں نے اپنا مجموعہ کلام 1969ء میں شائع کروایا۔ ان کے کلام میں بچپن، غم انگیزی، فطری عناصر، زندگی کا فلسفہ، انسانی رشتے، گفت اور فعل میں تفریق وغیرہ موضوعات پائے جاتے ہیں۔ کئی گلوکاروں نے اور غزل گانے والوں نے ان کی غزلیں، نظمیں اور گیت گائے، جس سے ان کو شہرت ملی۔ ان کے شہرہ یافتہ غزلوں میں، " دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونہ ہے، مل جائے تو مٹی ہے کھوجائے تو سوناہے" مشہور ہے۔ فلمی گیتوں میں "آ بھی جا" ( سُر - زندگی کا نغمہ)، تو اس طرح سے میری زندگی میں شامل ہے ( فلم - آپ تو ایسے نہ تھے) "ہوش والوں کو خبر کیا زندگی کیا چیز ہے" (فلم - سر فروش) وغیرہ بہت مشہور ہوئے ۔