شاہد ذکی کی شاعری




شاہد ذکی

دیوانگی اپنی مکمل تعریف میں دو مختلف حالتوں کی محتاج ہے, ایک انسانی فکر کی کمزوری اور دوسری ملکوتی جذب یعنی روح کی رسم و رواج کی قید سے آزادی. ملکوتی جذب روح کی آزادی ہے, روح دو گھوڑوں اور رتھ پہ سوار ہے, ایک نیک اور ایک بد اور یہ دونوں روح کو اپنی اپنی طرف کھینچتے ہیں, روح کی اصل چار کیفیات پر مشتمل ہے اور وہ چار کاہنانہ, عارفانہ, عاشقانہ اور شاعرانہ ہیں اور یہ چاروں اپنی اپنی حالت میں دیوتاؤں کی میراث ہیں اور میں ہر اس روح کو دیوتا کی روح سمجھتا ہوں جو ان چار جزئیات پہ مشتمل ہو لیکن یہ ممکن نہیں کہ چاروں حالتیں مکمل اظہار کے ساتھ حالتِ موجود میں ہوں, کل جزویات کے بغیر کچھ نہیں اور جزو کسی بھی کل کو مخصوص تعریف دیتے ہیں. ہر بڑے فن کی وقعت جاننے کے لیے بحث اور گفتگو ضروری ہوتی ہے اور روح کے شاعرانہ جزو کا اظہار اور پھر اس اظہار پر بحث بھی قسمت والوں پہ کھلتی ہے
مثبت اور منفی کی بحث مجھے اپنی زندگی سے زیادہ عزیز ہے, مثبت کبھی منفی نہیں ہو سکتا لیکن منفی کبھی مثبت ضرور رہا یا پھر ضرور ہو گا, کسی بھی پہلو پر بات کرنے سے پہلے اس پہلو کی روح اور روح کی جزو کا کم سے کم اندازہ لگا لینا ہی نتیجے کی طرف پیش قدمی کر سکتا ہے , کوئی بولنے اور سوچنے والا اگر لکھ بھی سکتا اور الفاظ کو معنی بھی دے سکتا ہے تو کیا وہ ان الفاظ سے صرف دل لگی کرے گا یا ان الفاظ کا بیج اپنی روح کی زمین میں بو کر ایک ایسی فصل کی امید کرے گا جو امر ہو گی, مجھے دکھ ہے اس پر جو الفاظ کو صرف دل لگی کی نذر کرے گا اور رشک ہے اُس پر جو اپنے الفاظ اور اپنے خیالات کو اگر سطحِ آب پہ بھی لکھے تو وہ الفاظ مٹ نہ پائیں
شاہد ذکی, اپنے الفاظ کی روح سے واقف اور روح کی جزئیات کی حقیقت سے واقف, تخلیق کار وہ ہے جو اپنی تخلیق کی معنویت کا نظریہ پیش کرے اور پھر اس نظریہ کے معروضات کی اس حد تک تقسیم کرے کہ مزید گنجائش نہ ہو اور اپنے الفاظ کی طبیعت دریافت کر سکے اور وہ طرز معلوم کر سکے جو مختلف طبیعتوں کے لیے ایک ہی وقت میں باعثِ اطمینان ہو , سادہ طبیعت سے سادہ اور پیچیدہ طبیعت سے پیچیدہ طرز میں خطاب کرے اور شاہد ذکی اس طرز سے واقف ہیں
میں کسی بھی کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے اچھے اور اہم نکات پہ نشان لگاتا جاتا ہوں اور شاعری کی کتاب پڑھتے ہوئے اس شعر پہ نشان لگاتا ہوں جو اپنی اصل اور روح کے ساتھ مکمل شعر ہو اور میں نے شاہد ذکی کی کتاب پڑھتے ہوئے بھی ایسا کیا کہ نشان لگاتا گیا ,عام طور پر کسی کتاب کو پڑھتے ہوئے پانچ سات غزلیات کے بعد ایک شعر پر نشان لگاتا تھا لیکن شاہد ذکی کی کتاب سفال میں آگ پڑھتے ہوئے میں چند ایک غزلیات کے بعد نشان لگانا چھوڑ دیے کیونکہ ہر ایک غزل میں اشعار کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ میں نشان لگاتے ہوئے تھک گیا اور اشعار بھی وہ جو اپنے مکمل اظہار اور جمالیات کے ساتھ ستون کی صورت دکھائی دیے اور اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے مجھے جھجھک نہیں ہوئی کیونکہ کسی بھی تخلیق پر گفتگو کرتے ہوئے اسے تسلیم کرنا تخلیق کی امانت ہے اور امانت میں خیانت کرنے والا عطا سے محروم ہو جاتا ہے اور میں عطا کے سہارے پر زندہ ہوں
شاہد ذکی کی شعری جمالیات پہ بات کرنے سے پہلے کسی بھی غیر معمولی ذہن اور نفیسات کو دیکھتے ہیں, کوئی بیدار اور بے قرار ذہن اپنے اردگرد کے ماحول کو ایک ٹھوس چٹان کی طرح نہیں دیکھتا بلکہ ایک ٹھوس چٹان کو بھی نیم روشن حقیقت کے طور پر بیان کرتا ہے, شاہد ذکی کے پاس اپنی دنیا کے اسرار کا تیز بہاؤ والا چشمہ موجود ہے جو غیر قطعی اور نا مانوس تو ہو سکتا ہے لیکن غیر موجود نہیں اور پھر وہ ہر جگہ موجود رہنے والی حقیقت کی دنیا کو اپنا گھر سمجھتا ہے اور خود کو اجنبی پاتا ہے اور اس اجنبیت کے بل بوتے پر وہ اپنے بہت قریب موجودات کو بھی اپنے اندر کی طرف بہت دور محسوس کرتا ہے اور یہ طلسماتی باب شاہد ذکی کو اپنی وہ پہچان اور عرفان دیتا ہے کہ اس کا باب شعری باب کی ضرورت بن جاتا ہے
شاہد ذکی کی شاعری میں فطری بے اطمینانی اور نارسائی کا احساس, الفاظ سے لگاؤ اور ان الفاظ کے معانی کا احترام اور اس وسعت کی علامتی حیثیت کی تصدیق اور اظہار کے وسیع المعنی ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی کائنات اور باہر کی کائنات سے بھی باہر کے اسرار کی تلاش اور اسراری فضا نہ صرف اسے بلکہ اس کی تخلیق کو بھی اپنے سحر میں گم رکھتی ہے اور یہ اسراری فضا صرف تخلیقی تاثر پہ مشتمل نہیں بلکہ تخلیقی معنی کا کام بھی دیتی ہے, ہمارے یہاں کتنے ہی شاعر ملتے ہیں جو طلسماتی فضا تو قائم کر لیتے ہیں کہ پڑھنے والا واہ کر دیتا ہے لیکن وہ طلسماتی فضا معنی خیز نہیں بن پاتی اور غیر تکمیلیت کا احساس واضح طور پر ہوتا ہے اور تخلیقی معنویت ہمارے عہد کی نام نہاد جدت کی ریاضیاتی اور بنجر عقلیت میں مفقود ہوتی ہے لیکن شاہد ذکی کی شعری تخلیقیقت اور معنوی تکمیلیت اپنی جگہ پر چٹان کی طرح دکھائی دیتی ہیں
شاہد ذکی کی لفاظی اور علامتی اظہار کے متعلق بات ہو تو الفاظ کو معروضی حقیقت سے اس طرح پیوست کر دیا گیا ہے کہ وہ خود معروض کی شکل اختیار کر جاتے ہیں اور ایسی علامتیں جو دوسری علامتوں کے جھرمٹ میں اپنا رنگ بدل لیتی ہے اور ایک شکل رکھتے ہوئے مختلف اشکال کا در کھولتی ہیں اور مخلتف مفاہیم کے حامل یہ معروضات جو موضوع کی وسعت سے جگہ جگہ رنگ بدل کر بھی مرکزی علامتی منظر سے پیوست رہتے ہیں اور اپنی کیفیت اور معنی دونوں کے اعتبار سے کسی ایک حد کے تابع نہیں اور یہ طرز اس قدر شدت اور وقعت رکھتی ہے کہ ان کی خاموشی بھی کسی بہت بڑے لسانی اظہار اور کسی بھی چیخ سے زیادہ سنائی دیتی ہے اور بے زبانی الفاظ کی روانی کو اپنے ساتھ بہا لے جاتی ہے
تنہائی اور اداسی کا احساس اور اظہار ہر آنے والے دن کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے اور ہمارا عہد اس اداسی اور تنہائی کی شدت سے مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے, انسان شاعری ہی اس لیے کرتا ہے کہ وہ تنہا محسوس کرتا ہے اور اگر ایک شاعر دوسرے عام انسانوں کی طرح دیکھتا اور سوچتا ہو تو اسے اپنی الگ زبان کی ضرورت ہی کیوں پڑے, شعر کو شعر کہلوانے کے لیے کسی خاص تجربے کی ضرورت نہیں ہوتی خاص زبان کی ضرورت ہوتی ہے اور کسی بھی زبان کی تاریخ اور تہذیب اس بات کو واضح کرتی ہے کہ اس میں بہتری کا مقصد بہتری ہو اس بہتری کی آڑ میں بگاڑ نہ ہو , شاہد ذکی نے زبان کی ہیئت اور تقدس کو ساتھ لے کر الفاظ کی دنیا تخلیق کی جو مشکل سے مشکل تر کی طلب کرتے ہوئے خود کو منفرد سے زیادہ معتبریت کی طرف مائل کرتی ہے چاہے اسے زندگی کے عام لمحوں میں کبھی کبھی اور داخلی احساسات کے لمحات میں اکثر پچھلی نسلوں سے زیادہ تنہائی کا کرب محسوس ہو
ہمارے دور کے لوگ ہر رات اس امید اور پرفریب خواہش کو لے کر سوتے ہیں کہ آنے والی صبح اس قدر روشن اور نیک ہو گی کہ سب بگڑے ہوئے حالات خود ہی سدھر چکے ہوں گے اور ہر ٹوٹی ہوئی چیز خود ہی بن چکی ہو گی لیکن لوگوں کو کیا معلوم کہ کتنے افکار و احساسات کی چکی میں خود کو پیس کر کچھ بنانا پڑتا ہے اور تخلیق اور شعری تخلیق کس کرب اور کس اندرونی احساسات و جذبات کی توڑ پھوڑ سے ہوتی ہے وہ یہ فیشن فارمولا شاعر نہیں جان سکتے اور نہ سطحی جذباتیت اور تھرتھراہٹ سے بھرپور پوپلی شاعری کرنے والے اور نہ ہی فلسفیانہ حکمت اور صوفیانہ تفکراتی بہروپ دھارے ہوئے نثری بیانات دینے والے , بالکل ان خوش فہم لوگوں کی طرح جو ہر حال میں کسی انہونی معجزاتی قوت کی طرف سے ہی مدد پر انحصار کرتے ہیں , شاہد ذکی اس عہد کی تاریکی اور بربریت سے واقف ہیں اور خارجی ماحول کو اپنی گرفت میں لے کر اسے دوبارہ خلق کرنے کے لیے شاہد ذکی کو جس ہوش مندی سے اپنے اندرون کے ریشوں کو دوبارہ جوڑنا پڑتا ہے اس کا بدل ملنا مشکل ہے اور یہ انتشار صفت ہوش مندی کسی بھی دنیا کے گوشے کو اپنی گرفت میں لینے کی اہل ہو سکتی ہے جو صرف شاہد ذکی کا خاصہ ہے
عشق کائنات کی تعریف ہے اور عشق کی تعریف خدا کی تعریف ہے, علم اور جہالت کا بیان ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں اور مجھے جہالت کا علاج علم سے زیادہ عشق میں دکھائی دیتا ہے, غلط اور صحیح راستے کی پہچان بعد کا معاملہ ہے لیکن راہ پر چلتے رہنے منزل پہ لے ہی جاتا ہے, راحت و الم تو سب ہی محسوس کر سکتے ہیں لیکن ایک درمیانی حالت جو تمام کیفیات کو اپنا رنگ دے کر پیش کرتی ہے اس کیفیت کا اظہار عشق سے نسبت کی بنا پر ہو سکتا ہے اور روح کے سب سے اہم جزو عشق نے شاہد ذکی کو اپنی کیفیات میں شامل کر کے نئی کیفیت متعارف کروائی جسے وہ محسوس بھی کر سکتے ہیں اور اظہار بھی اور اظہار پہ قدرت ارتکاز کی مرہونِ منت ہے اور انہوں نے نہ صرف عشق کا تفاعل بیان کیا بلکہ عشق کی ماہیت بھی بیان کی جو نہ صرف صفات بلکہ ذات تک رسائی دیتی ہے اور عشق ایک کائناتی حقیقت بلکہ ماورائے حقیقت معلوم ہوتا ہے, انسانی حد بندیوں اور انسانی فکری کمزوریوں , کمالات کے غرور کے غرور, بلندیوں, پستیوں, سوال اور جواب کی الجھنوں , راز و نیاز اور نشیب و فراز کی پیچیدگیوں , اپنے آپ سے اجنبی ہونے اور آمادہ بہ ایذا ہونے سمیت ہر کیفیت کا لحاظ رکھا اور انسانی حدود میں رہ کر ان حدود سے ماورائیت شاہد ذکی کو وجود بخشتی ہے جو کائناتی احساس کی مانند ہے






مصنف کے بارے میں


...

ڈاکٹر وقار خان

- | ملتان


ڈاکٹر وقار خان کا تعلق ملتان سے ہے ، نشتر ہسپتال ملتان میں ڈاکٹر ہیں ، 2006 سے شاعری کا باقاعدہ آغاز کیا، پہلا شعری مجموعہ انایا کے نام سے آ چکا ہے، غزل اور نظم کہتے ہیں




Comments