جدت اور تخلیقی معیارات





تنقید اور تخلیق دو نوں اپنے کثیرالابعاد پہلوؤں کی بنا پر کسی بھی اعتبار سے ایک دوسرے سے کم تر نہیں , کچھ لوگ تخلیق کو فوقیت دیتے ہیں اور کچھ تنقیدی معیارات کے بغیر تخلیق کی تکمیلیت پر یقین نہیں رکھتے, میں سمجھتا ہوں ایک تخلیقی فن کار کی تخلیقی حیثیت اس وقت تک مشکوک و مشتبہ رہتی ہے جب تک وہ خود اعلیٰ و احسن تنقیدی شعور بھی رکھتا ہو, ہاں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ جس طرح تخلیق کار کسی تخلیق سے پہلے اپنی تخلیق پر ناقدانہ نظر ڈالتا ہے اسی طرح نقاد کو بھی تخلیق کار کی ذہنی سطح پر جا کر تخلیق کا جائزہ لینا چاہیے, تخلیقیت اپنے اندر بہت وسیع مفہوم رکھتی ہے اگر کوئی تنقیدی تحریر خود اپنے اندر نئے امکانات و تخلیقی شواہد و رمز لیے ہوئے ہو جو تخلیق کے نئے پن کے لیے مفید ہو تو وہ بھی تخلیقیت کے زمرے میں ہی آئے گا تو پھر کچھ تخلیق کار تنقید سے اتنا چڑتے کیوں ہیں ؟ تخلیق کار جب تک تنقیدی شعور نہ رکھتا ہو گا وہ تخلیق کی ضروریات سے واقف ہرگز نہ ہو گا اپنے تئیں جتنی باتیں بناتا رہے اسی طرح کوئی نقاد بھی تخلیقی طرز سے دور رہ کر تنقید نہیں لکھ سکتا , میں کئی مرتبہ بیان کر چکا کہ ہم مغربی مستعار نظریات پر خوش ہیں حالانکہ ہمارے پاس کتنے ہی نظریہ دان گزرے جنہیں ہم نے روندا اور ضائع کیا , کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ کلاسیکل دور میں تو تنقید تھی ہی نہیں اردو میں تنقید تو بیسویں صدی میں آئی ان کے لیے یہ عرض کروں غالب ہی کو لیں تو آپ کا کیا خیال ہے غالب تنقیدی شعور نہیں رکھتے تھے ؟ میر, یگانہ, انیس اور کلاسیک کے جتنے ہی شعراء پر نظر ڈالیں وہ نہ صرف باکمال تخلیق کار تھے بلکہ بہت کڑے نقاد بھی تھے جو نہ صرف اپنی تخلیق پر نظر رکھتے بلکہ اردو کے ابتدائی دور میں بھی ایسی تخلیقات سامنے لائیں جو تنقید کے لیے ضروری جزو مانی جاتی ہیں, مغرب میں تنقید کا آغاز تو بہت پہلے ہوا اور شعری حوالوں سے بھی زمانہ جاہلیت میں بازار لگا کرتا تھا اور مدرسہ ہوا کرتا تھا جہاں شعرا اپنا کلام پیش کرتے اوت باقاعدہ تنقیدی محافل ہوا کرتیں تھیں اس کے علاوہ فراعینِ مصر کے دور سے پہلے ایک تنقیدی تصنیف موجود ہے جس میں تخلیق اور تنقید پر مکمل جواز سے مظاہر پیش کیے گئے جو اخونپ نے لکھی
مغرب میں جدیدیت انیسویں صدی کے آخر میں شروع ہوئی جو ادبی اور تخلیقی حوالہ کے طور پر سامنے آئی لیکن معاشرتی و سائنسی علوم کے حوالے سے ان کے یہاں جدیدیت کا آغاز سولہویں صدی سے ہی ہو چکا تھا اور انہوں نے اپنے سائنسی علوم کے حوالے سے اس جدیدیت کے ذریعے نئے سوالات اٹھائے جو ان کی کامیابی کا ذریعہ بھی بنے اور اب تک وہ مابعدجدیدیت سے لے کر انکشافاتی حوالوں سے کہاں کے کہاں پہنچ گئے لیکن ہمارے اردو دان حضرات کو اب تک جدت پسند ہونے اور نہ ہونے سے فرصت نہیں ملی, ایک شاعر دوسرے کو ساتھ نہ بیٹھنے دے کہ تم پرانے فرسودہ خیالات و اطوار کے شاعر ہو جبکہ میں جدید اور جدت پسند شاعر ہوں اب اگر اسی شاعر صاحب سے modernity, modernization, modernism کے دائرہ کار پوچھے جائیں تو پھر وہ کہیں کہ میں بس جدید شاعر ہوں مجھے اس بات سے غرض نہیں, خیر اردو ادب میں جدیدت کا سال 1957 کو کہا جاتا ہے , راشد میرا جی اور فیض کے بعد اب ہمیں خیال آ پڑا جدید شاعر ہونے کا, جدیدیت کے اس رحجان کو دو محرکات ملے ایک سارتر اور کرکے گارڈ کا وجودی فلسفہ اور دوسرا برِ صغیر کے بدلتے ہوئے رحجانات, وجودیت ایک بہت بڑا فلسفہ ہے اور شاید یہ موت کے تصور کی سب سے بڑی وجہ , اسی طرح برصغیر کے بدلتے ہوئے حالات نے ادب کو آزادی اظہار, داخلی جمالیاتی عناصر و معروضات اور خیال کی خود مختاری کی طرف بڑھایا, جدیدیت شاید ترقی پسند کی ضد تھی اور اسی کے مقابل ہی لائی گئی , ویسے جدیدیت کے فلسفہ پر بات کریں تو تین عناصر سامنے آتے ہیں
عقلیت
داخلیت
خودمختاریت
ان عناصر پر بات کریں تو خارجی عوامل سے دوری اور داخلی عناصر اور ان کا شدت سے احساس , کرب اور اس کرب کا اظہار اور پھر آزادی اظہار اور شعوری سطح پر اپنے آپ کا شعور جدیدیت کے زمرے میں آنے لگا, جدید شاعر کو اپنی ذات کے دروں خانے میں تنِ تنہا قیام پذیر ہونے پر مجبور کر دیا اس احساس کی شدت بڑھتی گئی کہ اس کا خارجی دنیا سے تعلق ختم ہو چکا ہے اور وہ اجتماعیت خارجیت وابستگی کے مقابلے میں فردیت داخلیت اور غیر وابستگی پر مجبور ہو چکا ہے اور اس کی شعری دنیا محسوس اور نامحسوس طور پر متاثر ہوئی, اس نے خارجی حالات و واقعات سے مکمل انحراف کر کے انتہائی ذاتی و داخلی موضوعات کو اپنایا اور اسلوبیاتی طور پر دیکھا جائے تو تجریدی اور علامتی اظہار نے شدت اختیار کی اور اساطیری طرزِ اظہار نے شعریات کو بری طرح مجروح کیا اور اس طرح قاری اور جدید ادب کا رشتہ ختم ہو چکا اور آتے آتے 18 سال کے عرصے میں ہی یعنی 1975 تک جدیدیت بے اثر ہو چکی تھی اور اس بات کا علم اور مطالعہ اس نسل کو ہے ہی نہیں اور وہ ابھی بھی سنی سنائی جدیدیت کے نام پر خود کو جدید شاعر تسلیم کروانے کے چکروں میں ہلکان ہوئے جاتے ہیں میں کیسے کہوں مرے دوستو وہ جدیدیت تو پیچھے رہ گئی اور ادب کے رحجانات کس قدر بدل چکے تقاضے اور ہیں اور تم ہو کے پہلے خود کو جدید کے زمرے میں لانے پر تُلے ہو, جدیدیت کے چکر میں لایعنی اور اوچھے قسم کے شعروں کی بھرمار ہوئی اور جنسی طلب میں یکسر محروم طبقے نے بھی اسی آڑ میں ننگی غزلیں کہنے کا ڈھنگ پیش کر کے یہ سوچا شاید کچھ نیا ہو رہا ہے لیکن ان کے مطالعے میں نہ ہو وہ اور بات ہے کہ لکھنو کی غزل میں ان کی سوچ سے زیادہ ہو چکا ہے, خیر جدیدیت نے خارجیت سے انحراف و انقطاع کی رسم جوڑ کر اور خود ساختہ داخلی پیچیدہ مسائل پیش کر کے ترقی پسندی کی حقیقت پسندی جو رد کیا, آج کے دور میں شاعر ایک طرف تو ترقی پسند ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں اور جدید شاعر ہونے کے تقاضوں کی طرف بھی رحجان رکھتے ہیں اور انہیں اصل معنوں میں جدیدیت کا علم ہی نہ ہو سکا, نقاد حضرات کہتے تھے کہ ایسا بھی ہو گا کہ جدیدیت اپنا کام کر چکے گی یا کر رہی ہو گی کہ کوئی اور نظریہ آ جائے گا اور یہ عہد مرے خیال سے اس نئے نظریات کا دور ہو تو کتنا ہی اچھا ہے, ویسے تو مغرب میں مابعد جدیدیت اور اس سے بھی آگےطکے نظریات سامنے لائے جا چکے لیکن میں صرف اس حد میں رہ کر اپنا مدعا پیش کرنا چاہوں گا کہ ہمیں مستعار نظریات کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ ہم جدید یا قدیم کے چکر سے کب نکلیں گے ؟ ہم ایک دوسرے کو تسلیم کریں یا نہ کریں تخلیق کو تو تسلیم کرنا چاہیے اور تخلیق ہی ہمارے ادب کی ضرورت ہے, ادب اس بات پہ دھیان نہیں دے گا کہ مجھے ترویج دینے والا فلاں واحد فرد تھا اس کی طلب تخلیق اور تخلیق کی تکمیلیت ہے , میں سوچتا ہوں ہمیں اس جدید اور قدیم کے طعنے چھوڑ کر تخلیقیت پر توجہ دینی ہو گی تب ہی ہمارا ادب اس صف میں آ سکے گا جہاں اس وقت دنیا کے دوسرے ادب اور زبانیں ہیں
تخلیق کی ضروریات و معیارات کیا ہیں ؟ آئے روز یہ بحث جاری ہوتی ہے کہ فلاں بڑا شاعر ہے اور فلاں جدید , مجھے حیرانی بھی ہوتی ہے کہ صرف باتیں ہی کیوں کی جاتی ہیں, کہہ دیا کہ فلاں شاعر اہم ہے اور فلاں غیر اہم, بھئی اس بات کا فیصلہ باتوں سے کرنے والے صرف آپ ہی ہوئے ؟ تخلیق اس وقت تخلیق ہوتی ہے جس وقت وہ فنی معیارات اور معنویت و مقصدیت کے ساتھ پیش کی گئی ہو, ہوا میں تیر چلانا بالکل قبول نہیں, کسی بھی تخلیق کو آسان طریقے سے پہچانے کے لیے پہلے اس تخلیق کو مکمل معیار پر پرکھا جائے گا, اب بات یہ ہے کہ وہ معیار کیا ہے جو مستند ہے ویسے تو ہر شاعر یہ کہے کہ مجھے معیار تسلیم کیا جائے,
*تجزیہ : کسی بھی تخلیق کو سب سے پہلے دیکھا اور پرکھا جائے گا, اس فن پارے کو متعلقہ صنف کی روایات اور شعریات و اجتہادات کی روشنی میں پرکھا جائے گا اور اس کا لسانی جمالیاتی ادبی و فنی اقدار کی روشنی میں تجزیہ کیا جائے گا
* موازنہ : تجزیہ جب مکمل احتیاط اور مشاہداتی و تجرباتی حوالوں سے مکمل ہو جائے اس کے بعد علمی موازنہ کیا جائے گا, اس تخلیق اور فن پارے کو دوسرے مقرر کردہ معیار کے مطابق فن پاروں سگ مشابہت و مغائرت کے حوالوں سے جوڑنے کی کوشش کی جائے گی, نقاد کی ادبی و علمی آگہی کس قدر ہے اور وہ دوسری زبانوں کے ادب و روایات اور مخصوص زبان کی روایت و قوانین سے کس قدر واقف ہے اور اس میں تخلیقی و تنقیدی صلاحیت کس حد تک ہے اس بات کو بھی سامنے رکھا جائے گا, اب مسئلہ پھر وہی کہ معیار کون ہو گا, ویسے تو اس عہد میں بھی معیار موجود ہو گا اور اگر کسی کو پھر بھی اپنی بڑائی اور جدید و مابعد جدید ہونے کا زعم ہو تو غالب کس مرض کی دوا ہے ؟ غالب ہر دور میں مکمل جدید شاعر کے طور پر سامنے آیا ہے تو پھر اس فن پارے کا موازنہ غالب کے معیار کے مطابق ہی کیا جا سکتا ہے اور اگر کوئی صاحبِ علم غالب کو بھی معیار نہ مانے تو میں اس کے بارے میں کچھ کہنے سے قاصر ہوں
* تجزیہ و علمی عقلی و تجرباتی مشاہدے اور موازنے کے بعد مخصوص حد تک نتائج مل چکے ہوں گے اور ان کی ترسیل اور مختلف پہلوؤں کی اس عہد کے دوسرے تخلیق کاروں اور ناقدین سے گفتگو و مباحث ہوں گے
اس طریق پر چل کر ہم کسی بھی فن پارے کی تخلیقیت اور معیار مقرر بھی کر سکتے ہیں اور تب جا کے کہہ سکتے ہیں کہ فلاں شاعر اہم ہے اور فلاں غیر اہم
ادب ادبی زندگی کا عکاس ہوتا ہے اور مقصدیت تخلیق کی روح, ہم اس وقت تک سفر میں رہیں گے جب تک آگے بڑھنا نہیں سیکھیں گے
ڈاکٹر وقار خان





مصنف کے بارے میں


...

ڈاکٹر وقار خان

- | ملتان


ڈاکٹر وقار خان کا تعلق ملتان سے ہے ، نشتر ہسپتال ملتان میں ڈاکٹر ہیں ، 2006 سے شاعری کا باقاعدہ آغاز کیا، پہلا شعری مجموعہ انایا کے نام سے آ چکا ہے، غزل اور نظم کہتے ہیں




Comments