مائکرو فکشن___؟ ایک نوٹ



یہ انہماک انٹرنیشنل فورم کے لیے اعزاز ہے کہ ... 
نظم / افسانہ / تنقید کے حوالے سے معتبر ترین نام ،
محترم پروفیسر ستیہ پال آنند صاحب نے مائکرو فکشن پر خصوصی توجہ دی اور نہایت شفقت فرماتے ہوئے مائکرو فکشن کے حوالے سے ہماری سمت نمائی کی -
ہم تہہ دل سے ممنون ہیں -
------------------------------------
تحریر : پروفیسر ستیہ پال آنند / امریکہ

مائکرو فکشن___؟ ایک نوٹ 
مائکرو فکشن، یعنی مختصر ترین افسانہ اردو میں انگریزی سے براہ راست اقرار بالسان کی طرح قبول کی گئی ایک ایسی اصطلاح ہے، جس کی اشد ضرورت تھی۔ "افسانچہ" یا "؛پوپ افسانہ" اس کے لیے موزوں عنوان نہیں تھا کہ ان میں طوالت ایک غیر طے شدہ امر ہے ۔۔۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی کےوسط تک طویل ناول اور افسانے تحریر کیے جاتے تھے، جوں جوں فرصت کے لمحے کم پڑتے گئے اور ایک ہی نشست میں (یعنی بس یا میٹرو پر سفر کرتے ہوئے ۔۔ وغیرہ) مطالعہ میں کسی افسانے کو آخری پنچ لائن تک پڑھ لینا ایک امر محال بنتا گیا ، ضورت محسوس کی گئی کہ طوالت میں مختصر ترین تحریر میں بھی وہ جامع خوبیاں برقرار رکھتے ہوئے، جن پر طویل افسانوں کا تکیہ تھا، اسے اس طرح پیش کیا جائے کہ نہ تو قاری آخر میں تشنگی محسوس کرے اور نہ ہی اس کےوقت کا ضیاع ہو ۔۔۔ افسانے عموماً plot-oriented or character oriented ہوتے ہیں،( حالانکہ یہ پارینہ اور کسی حد تک آج کے تناظر میں فرسودہ اصطلاحیں ہیں ، تو بھی ان کے توسط سے جو بات میں کہنا چاہتا ہوں، کہی جا سکتی ہے۔ ) ان دونوں اقسام کےافسانوں میں بیانیہ،(ذکر، تذکرہ ،تشریح، یا اشارہ، کنایہ ، سرگوشی، بات چیت) اور مکالمہ (اعتراف، انکشاف، اظہار،اطلاع، دو بدو اعلائے کلمۃ الحق، یا مانولاگ میں خود سے مشاورت،)، یعنی ہر وہ tool جو طویل افسانوں میں موجود تھا، قائم رہتا ہے۔ نفس مضمون، خیال بندی، معاملہ بندی، سب موجود و حاضر رہتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے (اور یہ بے حد ضروری ہے) کہ قلمکار اپنی کاسٹ، افرادِ ِ قصہ، پس منظر اور پیش منظر کو انکشاف exposition کی سطح پر مختصر ترین رکھے ۔۔۔ اس لحاظ سے یہ صنف، زمانہ حال و مستقبل، یکساں طور پر دونوں کی صنف ہے۔






مصنف کے بارے میں


...

سید تحسین گیلانی

- | بورےوالا


مدیر انہماک شاعر ۔ نقاد ۔ افسانہ نگار ۔ مائکروفکشنسٹ




Comments