رومانیت کا شاعر



، عجب سی بے قراری ہے ،، یہ نام ہے اس کتاب کا جو ہمارے زیرِ نظر ہے ۔ اس نام سے کوئی کیا سمجھتا ہے ۔ ؟ کہاں تک صحیح سمجھتا ہے ۔ ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی گہرائی میں کیا ہے ۔ ؟ ۔۔۔۔۔۔ گیرائی اسے کیا معانی پہناتی ہے ؟ ۔۔۔۔۔۔۔ بے قراری تو بے قراری ہے اس میں عجب کیا ہوا ۔ ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کئی سوالات ذہنوں میں ابھر سکتے ہیں لیکن ان سوالات سے اس لئے کوئی سروکار نہیں رکھا جا سکتا کہ ,, عجب سی بے قراری ہے ،، میں کوئی ایسا پہلو نہیں کہ جسے سمجھنے میں دقت ہو ۔ صفحات سامنے ہیں اگر دل میں کوئی سوال پیدا ہوتا بھی ہے تو ورق الٹیے ۔۔۔۔۔۔۔ الٹتے جائیے ۔ جواب خود ہی سامنے آ جائے گا ۔ بشرطیکہ اوراق الٹ کر ان کا مطالعہ کریں ۔
ارشد محمود ارشد کی ساری بے قراری اس کی محبت کے باعث ہے ۔ محبت کی بے قراری ہی تو انسان کے اندر ایک ایسے انسان کو جنم دیتی ہے ۔ جو بہت کچھ سوچتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ بے قراری تب وجود میں آتی ہے ۔ جب انسان محبت کی تلاش کرتا ہے ۔ اسے پانے کی تگ و دو کرتا ہے۔ کبھی پالینے کی خوش گمانی پیدا ہوتی ہے اور پھر یہی خوش گمانی ناکامی کا سبب بنتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ صحرا بہ صحرا اور کو بہ کو تلاشنے کے باوجود ناکامی یقین کو بھی گمان میں بدل دیتی ہے تو اندر کا انسان اپنے ہی الفاظ کا سہارا لیتا ہے ۔

پھرے صحرا بہ صحرا کو بہ کو جس شخص کی خاطر
گماں کب تھا وہ یوں مل کر دوبارہ کھو بھی سکتا ہے

یقیں تھا سامنے ہے یہ میں جا پہنچوں گا منزل تک 
گماں کب تھا مقدر کا ستارہ کھو بھی سکتا ہے

یہ یقین جب گماں کی صورت اختیار کر لیتا ہے تو صحرا میں سراب کا منظر ہوتا ہے ۔ اور سراب تو ہے ہی دھوکا ۔۔۔۔۔۔ ایسا دھوکا ، جو خوش فہمی سے چل کر مایوسی پر آ کر دم توڑ دیتا ہے ۔ اور پھر شاعر خود سے مخاطب ہو کر اپنی سوچوں کے دھارے کو بدلنے پر آمادہ کرنے کے لئے کہتا ہے ۔

جانے والے جب تمہیں اب لوٹ کر آنا نہیں 
بے سبب دل کو جلاتا ہوں تمہاری یاد میں

تند لہروں سے وہ آخر کب تلک بچ پائے گا 
ریت کا جو گھر بناتا ہوں تمہاری یاد میں

رومان میں ہجر و وصال کو غزل کا اہم حصہ کہا جاتا ہے اور جب ہجر و وصال کی کیفیت کو ظاہر نہ کیا جائے تو اسے ہم رومانویت سے تعبیر نہیں کر سکتے ۔ یوں رومانیت کی زندگی ہجر و وصال کی سانسوں سے ہے تو گویا ارشد کی غزل زندہ ہے ۔ جس میں اس نے فراق کو بھی ملاقات بنا دیا ہے ۔ اور وصال کو ہجر کے پر لگا دیئے ہیں ۔ ایسے کہ قاری ہجر و وصال کی معنویت کو بھول کر الجھ جاتا ہے کہ کیا سوچے اور کیا سمجھے ۔ اسے جاننے کے لیے اس کی نظم ،، اداسی گھیر لیتی ہے ،، کا مطالعہ ضروری ہے ۔
میں یہ نہیں کہتا کہ ارشد نے ادبی ماحول میں آنکھ کھولی یا اسے بھر پور ادبی شعری ماحول زیادہ ملا۔ ایسی بات نہیں بلکہ اس نے اپنے اندر ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا کہ وہ سر تا پا شعری ماحول ہے اور محبت نے اس کو مزید مہمیز دی ۔ کچھ لوگوں بلکہ اکثریت کا یہ خیال ہے کہ شاعری کے لیے صنف مخالف سے محبت کرنا ضروری ہے ۔ میں یہ تو یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ ارشد نے محبت کی ہے ، محبت پرکھی ہے یا اسے برتا بھی ہے لیکن یہ جاننے کے لیے اس کی شاعری کو کھنگالنا ضروری ہو جاتا ہے بلکہ زیادہ گہرائی کی بھی ضرورت نہیں پڑتی جستہ جستہ پڑچول سے بھی یہ احساس پختہ ہو جاتا ہے کہ ارشد محبت کا سخنور ہے ۔ رومان کا شاعر ہے اور شعر کہتے ہوئے سوچ سے جب آ گے نکلتا ہے تو رومانویت کو خود پر طاری کر لیتا ہے ۔ اور وہ بھی کچھ ایسی کہ :

کاش ایسا ہو کہ ارشد مجھ سے آ کر وہ کہے 
آ چلیں ہم ساتھ دونوں ضد پرانی چھوڑ کر

کہا اس نے محبت ہے مگر اک شرط لازم ہے 
کہا میں نے کبھی ہوتی نہیں یہ ضابطوں کے ساتھ

کہا اس نے کہ ارشد دن میں سپنے دیکھتے کیوں ہو
کہا میں نے کروں میں کیا بہت نادان ہیں آنکھیں

ارشد محمود ارشد نے کئی بار دل سے ہٹ کر دماغ سے شعر کہنے کی بھی کوشش کی لیکن شاید وہ اس میں ناکام رہا ۔ کیونکہ ایسے اشعار جو اس نے دماغ سے سوچ کر نکالے ،، عجب سی بے قراری ہے ،، کے مطالعے میں بالکل الگ دکھائی دیتے ہیں ۔ ان میں جان بھی ہے روانی بھی ہے ایک تسلسل بھی ہے لیکن جذبوں کی بات بہر حال اپنی ہوتی ہے ۔ اور اس کا رنگ یہاں بھی علیحدہ نظر آتا ہے اور ایسی بات ذہن کے ساتھ جذبوں کی سچائی مل کر ہی قرطاس پر کامیابی سے الیک سکتی ہے ۔

جو شاخیں خشک ہو جائیں تو ان پر گل نہیں کھلتے 
جو راہِ زندگانی میں بچھڑ جائیں نہیں ملتے

وہ شاید اس لیے بھی پھول تحفے میں نہیں دیتے
کہ ہم تخلیق نہ کر لیں کوئی شہکار پھولوں سے

بدل ڈالی ہے ہر شے موسموں کے اس تغیر نے 
جدا ہونے لگی ہے اب یہاں مہکار پھولوں سے

میں نے اپنی زندگی کا تجزیہ کرتے ہوئے ایک بار اس حقیقت کا اظہار کیا تھا

جو کام بھی کیا بڑی تا خیر سے کیا 
کیا کیا مذاق ہم نے بھی تقدیر سے کیا

اور آج مجھے زیرِ نظر صفحات اور ان کے خالق کو دیکھ کر اس کے بارے کہنا پڑا کہ :

اپنا ہر اک کام پہلے وقت سے کرتا رہا
اس طرح سے اک تماشا بخت سے کرتا رہا

کیونکہ ارشد محمود ارشد سے جو لوگ ملے یا جنہیں اس سے واسطہ ہے وہ اس حقیقت سے اچھی طرح با خبر ہیں کہ اس نے ہمیشہ وقت سے پہلے اپنا کام نمٹانے کی کوشش کی ہے ۔ اس کی شاعری کو پڑھنے والے بھی محسوس کریں گے کہ یہ جوان جذبوں ، جوان امنگوں ، جوان خواہشوں اور آدرشوں کی شاعری ہے ۔ عام طور پر ہم ایسی شاعری کو رومانوی شاعری کہتے ہیں اور اسی لیے مجھے ارشد کو رومانیت کا شاعر کہنا پڑا ۔






Comments