گل و گلزار از شہزاد نیر ( گلزار پر ایک مضمون)



تحریر ۔ شہزادنئیر

 

۔ گل و گلزار

 

یہ لوگ حیرانیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور پریشانیوں میں جوان۔ چہروں پہ لکھی داستان حیات پڑھتے اور کتابوں میں لکھے ہوئے سے موازنہ کرتے جاتے ہیں ۔ کہیں بھی کوئی مماثلت نہیں بنتی تو اور زیادہ پریشان ہو جاتے ہیں ۔ یہ دنیا کو ویسے نہیں دیکھنا چاہتے جیسی  ہے بلکہ ایسی جیسی یہ چاہتے ہیں ۔ اب دنیا تو بدل نہیں سکتی ۔ وہ تو ویسی ہی ہوتی ہے جیسی کہ وہ ہوتی ہے سو یہ لوگ اور پریشان ہو جاتے ہیں ۔کچھ اور تو کر نہیں سکتے قلم کی نوک سے دنیا کو ویسی بنانے بیٹھ جاتے ہیں جیسی یہ چاہتے ہیں ۔ یوں بھی دینا سے عدم اطمینان کا اظہار فن کی بنیاد بنتا ہے ۔ ہر نئی ایجاد نئی کہانی یا نظم گویا دنیا کو بہتر بنانے کی کوشش ہے یا کسی خلا کو پر کرنے کی کاوش۔

یہ لوگ نغمے اور کہانیوں میں دنیا کی ایک اپنی تصویر بناتے ہیں سو ان کی تحریروں میں ایک دنیا بس جاتی ہے جوکہ پڑھنے والے کی آنکھوں میں بس جاتی ہے اور دنیا در دنیا وجود میں لاتے ہیں ۔ یہ فنکار ، شاعر اور ادیب ہوتے ہیں پھر ایک مدت بیت جاتی ہے تو ان کو خیال آتا ہے کہ دنیا میں تو کچھ بھی بدلاو نہیں آیا ۔ سچے لوگ ہیں خود ہی مان لیتے ہیں ۔

" نظم ہو یا افسانہ ان سے علاج نہ نہیں ہوتا ۔ وہ آہ بھی ، چیخ بھی ، دہائی بھی ہیں مگر انسانی دردوں کا علاج نہیں ہیں " { گلزار ۔پیش لفط دستخط}۔

لیکن پھر بھی لکھتے رہتے ہیں ۔ شائد کبھی کہیں کچھ بدل جائے تو خواب دیکھنے والی آنکھوں میں ان کا شمار ہو جائے ۔ شائد کہیں کچھ بدلتا بھی ہو ۔ باہر نہیں تو اندر کسی معصوم اقلیت میں جو بے رحم اکثریت کے ساتھ چلتے ہوئے بھی ۔ ان کے ساتھ نہیں ہوتی چونکہ زمانے کے راستے ان کے آدرش کی منزل کو نہیں جاتے سو یہ لوگ رک جاتے ہیں کبھی زہر کا پیالہ پی کر ، کبھی دار پر جھول کر ، کبھی کال کوٹھری میں ۔ کبھی نوک تلوار تلے کبھی ریل کی پٹری پر ۔ یہ لوگ رکتے ہیں تو کئی اور چلتے ہیں ۔آنکھوں کی جوت سے چراغ جلتے ہیں ۔ یہ وہی لوگ ہیں جو خوش نصیب ہو جائیں تو شاعر ادیب ہو جائیں ۔ گلزار کے پاس کہنے کو بہت کچھ تھا سو انہوں نے خوب کہا ۔ فلم میں کہا ، نظم و غزل میں کہا ، کہانی میں کہا ، جوانی میں کہا اور اب بھی کہہ رہے ہیں ۔ کیا کہتے رہنا زندگی ہے ؟

گلزار کی ایک ہی جیتی جاگتی کہانی ہے بوسکی جس کے نام کتاب کی گئی ۔

سوتی جاگتی کہانیاں کر دیتے ہیں ۔ یہ کہنے کو بھی عجیب کہانی ہے ۔ کبھی تو یہ کہتے رہتے ہیں پر کوئی نہیں سنتا اور کبھی "

زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا ۔

ہمی سو گئے داستان کہتے کہتے"

لیکن گلزار کا کہا ہوا کڑوڑوں دلوں تک پہنچا ، سرحدوں کے پار گیا ، لکیروں کا جال ہار گیا ۔ برقی مواصلات نے فضا میں ایسا جال بن رکھا ہے جو زمینی لکیروں کی شناخت نہیں کر سکتا ۔ ویسے بھی فن کی کوئی لکیر تو ہوتی نہیں ۔ گلزار کو فن آیا تو دنیا بے لکیر چلی آئی ۔ "

کسی نے پوچھا

یہ بمبئی کی فلمی صنعت میں گلزار ہیں 

کیا یہ ہندو ہیں ؟ہا ہم میں سے ہیں 

 

 ہم نے کہا

گلزار کو بس گلزار سمجھیں تو اچھا ہے

 پھول کا ایمان تو آنکھوں کو جچنا ہے

 "وحید احمد { پیش لفظ شفافیاں}

گلزار نے پردہ سیمی پر گل بوٹے کاڑھے تو دنیا سجی سجی لگنے لگی ۔ فلمی مکالموں سے روزمرہ ترتیب پایا اور پھر نظمیں ان کی نظموں کی بات ذرا دھیاں سے کہنا ضروری ہے ۔ گلزار نے نئی نظم کو وہ سوچتا ہوا رنگ دیا جو زمیں سے اٹھتا ہے ۔ خاکستری رنگ ۔ اسی خاک رنگ سے سات رنگ دھنک سجتی ہے ۔ اس زمیں کے لوگوں کی باتیں ، فلیٹوں میں رہنے والے لوگ جب سیلاب آجائے ، بتی چلی جائے ، خط کا انتظار ہو ، چادر کھینچ کر سوئی پڑی حسینہ ، خون میں لت پت اخبار، آکاش میں پستے ہوئے لوگ ، یہ سب کچھ گلزار کی نظم میں ہے اور ان کی زبان وہی نکھری متھری ، گنگا جمنی اردو زبان جو ایک طرف عربی اور فارسی تو دوسری جانب ہندی اور سنسکرت سے سیراب ہوتی ہے ۔ گلزار کی نظم کی زبان جب سبک ملائم رو میں بہتی ہے تو معنی کے کنول سطع پر تیرتے ہیں ۔ یہ گلزار کی نظم ہے ۔ جدید نظم نگاری سے نہ صرف ہم آہنگ بلکہ آگے بڑھ کر سوچتی ہوئی ۔ غزل کی روائتی تلازمہ کاری ا ور طرز ادا سے بچ بچا کر اپنی راہ چلتی ہوئی نظم ۔ جن پر گلزار کے دستخط ثبت ہیں ۔ جو راست بھی ہیں گہری بھی ۔ "

سارا دن میں خون میں لت پت رہا ہوں 

سارے دن میں سوکھ سوکھ کے کالا پڑ جاتا ہے

خونکی  پپڑی سی جم جاتی ہے

کھرچ کھرچ کے ناخونوں سے چمڑی چھلنے لگتی ہے 

ناک میں خون کی کچی بو

اور کپڑوں پہ کچھ کالے کالے سے چکتے سے رہ جاتے ہیں 

روز صبح اخبار میرے گھر خون میں لت پت آتا ہے 

"{آشوب}

غزل کہی سبک کہی ، تازہ کہی اور غزلیہ کہی ، گاتی ہوئی رقص کرتی ہوئی بات ۔

" تنکا تنکاکانٹے توڑے ساری رات کٹائی کی 

کیوں اتنی لمبی ہوتی ہے چاندنی رات جدائی کی

آنکھوں اور کانوں میں کچھ سناٹے سے بھر جاتے ہیں 

کیا تم نے اڑتی دیکھی ہے ریت کبھی تنہائی کی

 

گرم لاشیں گری فصیلوں سے

، آسماں بھر گیا ہے چیلوں سے 

پیاس بڑھتی رہی میرے اندر

، آنکھ ہلتی رہی جھیلوں سے

ایسا خاموش تو منظر نہ فنا کا ہوتا 

میری تصویر جو گرتی تو چھناکا ہوتا

 

کیوں میری شکل پہن لیتا ہے چھپنے کے لئے 

ایک چہرہ کوئی اپنا تو خدا کا ہوتا

 

افسانے کی کہانی وہ خود بیان کرتے ہیں "

ہم نثر بھی پڑھتے تھے ۔ کبھی کبھی کوئی کہانی ڈس جاتی تو دنوں ہائے ہائے کرتے ۔ شیعر پہ شیعر تو چڑھ جاتے لیکن کہانی مہینوں نہ اترتی ۔ تب جی چاہتا ہم بھی ایک بار کہانی لکھیں گے "

{گلزار پیش لفظ دستخط}

 

اب یہ صورت ہے کہ ہم لوگ مہینوں ہائے ہائے کرتے ہیں پھر بھی ان کی کہانی کیپھانس دل سے نکلتی نہیں ۔ یہ کہانی اپنی کہانی خود کہہ دیتی ہے ۔ میں کیا کہوں " فنون میں گاگی اور سپرمین پڑھی تو آخری فقرہ آج بھی سوئی کی طرح پیوست ہے ۔

خدا بھی سپرمین کی طرح ہے کتابوں میں بہت کچھ کر لیتا ہے اور سرطان میں ننھی گاگی مر گئی " 

" اوور" پڑھا یہ فقرہ کانوں میں رک گیا بم سے تو بیڑھی بھی نہیں سلگا سکتے " اور وہ شاہکار افسانہ جو پورے کا پورا یوں وجود میں گھل گیا ہے جیسے پانی میں نیل ۔ کپڑا بھگو کر نکالو تو نیلا زہر بھرا۔ عنوان ہے مائیکل انجیلو ۔ یہ کہانی کبھی خود کو کہنا بند نہ کرئے گی " میں وہی یسو ع ہوں جیسے تم یہودہ نقش کر رہے ہو "

کہانیاں اور کہانی کار ہے ۔ نظمیں اور نظم نگار ہے ۔دونوں ایک ہیں تو گل و گلزار ۔ کچھ لوگ کہتے ہیں گلزار وہاں کے ہیں ۔ میں دل پہ ہاتھ رکھ کے کہتا ہوں گلزار یہاں کے ہیں ۔ اورجو یہاں کے ہیں وہ  ہر جگہ کے ہیں ۔







مصنف کے بارے میں


...

شہزاد نیر

29 May 1973 - | Gujranwala


شہزاد نیر نظم ، غزل ، تنقیدی مضامین اور مائکرو فکشن میں تخلیقی اظہار کرتے ہیں۔ ان کی شاعری کے تین مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔




Comments