ادریس بابر اور اردو غزل کی روایت




اٹھارہ سو ستاون کے غدر کے بعد جہاں فنونِ لطیفہ کا ہر شعبہ ” متاثرہ ” نظر آتا ہے وہاں اردو ادب بھی ایک دوراہےپر کھڑا نظر آتا ہے۔اردو نثر کے ساتھ ساتھ اردو شاعری پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوئے۔
اردو نظم حالی و آزاد کی کوششوں سے ثمربار ہوئی اور غزل کو ماضی کی صنف قرار دیا گیا۔بعد ازاں کلیم الدین احمد نے نیم وحشی صنف سخن کہہ کر اردو غزل کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ۔لیکن غالب کے بعد داغ، یگانہ، جگر اور حسرت نے غزل کی آبیاری اپنے خون جگر سے کی۔اور اس کے امکانات میں اضافہ کیا۔
بیسویں صدی اردو غزل کی جدوجہد کی صدی ہے۔اقبال کے بعد نظم کو وہ عروج حاصل ہوا کہ غزل گوئی کہیں پس منظر میں رہ گئی لیکن اس کے باوجود ہر دور میں کچھ ایسی مضبوط آوازیںمینائے غزل کو دستیاب رہیںکہ اس کی بقا کو کوئی مسئلہ درپیش نہیں رہا۔جب ترقی پسند تحریک کا غلغلہ بلند ہوا اور فیض ، راشد، میراجی،تصدق حسین خالد کی نظموں نے ساری ادبی فضا کو مسحور کیا ہوا تھا اسی دور میںفراق، ناصر، ندیم اور خود فیض صاحب نے غزل کواس کے امکانات سمیت زندہ رکھنے کی کامیاب سعی کی۔
غدر کے بعد تقسیم ہندوستان کا واقعہ ایک بار پھر ادبی انقلاب کا باعث بنا۔لیکن نظم و غزل سے زیادہ اس نے نثری ادب پر اثرات مرتب کیے۔لیکن احساس کی سطح پر غزل و نظم نے بھی اس کو ایک نمایاں تبدیلی کے طور پر محسوس کیا۔اور اس دور کے شعراء نے ضرورت محسوس کی کہ اب اردو غزل کو اردو نظم کی طرح بہت سی ہیئتی اور لسانی تجربات سے گزارنا ہوگا ۔اس ضمن میں ظفر اقبال ، ساقی فاروقی، خلیل رامپوری نے بہت کام کیا لیکن اس سلسلے میں جس تواتر اور تسلسل سے ظفر اقبال نے کام کیا اس سے غزل کو بہت حوصلہ ملا۔
احمد مشتاق، بشیر بدر، شکیب جلالی، عرفان صدیقی،احمد فرازاور اس طرح اردو کے بہت سے شعراء نے ادریس بابر کی نسل کے شعراء کو غزل کی ایک توانا اور مضبوط روایت وراثت میں دی ہے۔اب اگر غزل گو شاعر اس پڑائو سے آگے کی طرف سفر کرے تو یہ اس کی کامیابی کی دلیل ہے وگرنہ محض چند مضامین اور اسالیب کی جگالی تک معاملہ محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ ادریس بابر ان خوش قسمت شاعروں میں سے ایک ہے جو اردو غزل میں نئے احساس اور اکیسویں صدی کے تمام انفرادی و اجتماعی دکھوں کا ترجمان ہونے کے باوجود تغزل سے عاری نہیں ہونے پاتا۔
اپنی ذات سے اور کائنات سے خوف اس صدی کے انسان کا سب سے عظیم مسئلہ ہے۔ادریس اپنے آپ سے خوف زدہ ہو کر زمانے کی نرم نرم بانہوں میں لپٹ جاتا ہے لیکن جب اسے زمانے سے خوف لاحق ہوتا ہے تو وہ پھر اپنے آپ میں پناہ لے لیتا ہے۔ادریس کو یہ خوف پرندوں، درختوں،چراغوں،گھروں اور شہروں پہ مسلط نظر آتا ہے۔
ع راہ تکتے ہیں کہیں دور کئی سست چراغ
اور ہوا تیز ہوئی جاتی ہے،اچھا، مرے دوست !
ع جنگ چھڑی تو اب کی بارکوئی نہ بچ کے جا سکا
پیڑ جو تھے بچے کھچے،گھاس جو تھی رہی سہی
ع آج تو جیسے دن کے ساتھ دل بھی غروب ہوگیا
شام کی چائے بھی گئی ،موت کے ڈر کے ساتھ ساتھ
ادریس بابر اسی ناسٹلجیا کا شکار ہے جو برِعظیم کے ہر تخلیق کار کا المیہ ہے۔وہ تہذیبی اقدار کی پامالی کا نوحہ خواں ہے۔ادریس کے ہاں نئے اور پرانے انسان کی کشمکش اس کا بنیادی مسئلہ بن کر ابھرتی ہے۔وہ نئے سچ کو قبول توکر بیٹھا ہے لیکن پرانا سچ اس کی رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہے۔ اس کے اندر بسنے والا پرانا انسان ابھی تک نئے انسان کے ساتھ تعلق قائم نہیں کر پایا
ع ادھر خرابہ ء دنیا میں عشق ذات کے لوگ
گئے دنوں میں رہے ہوں گے،آج کل کوئی نئیں
ع کوئی باغ سا ہے ،جو اجنبی نہیں لگ رہا
یہ جو پیڑ ہے اسے چکھ، وہی نہیں لگ رہا؟
ع کن زمانوں کے سوتے جگاتا ہوا میں کہاں آگیا
کون ہو تم؟ کہانی سناتا ہوا میں کہاں آگیا
ادریس بابر اس کشمکش اور محاذ آرائی کے باوجود امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا۔اس کے ہاں آنے والے دور میں روشنی کی ایک کرن کہیں کہیں ضرور چمکتی نظر آجاتی ہے ۔اور اسے جیت کا امکان نظر آنے لگتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ بہت جلد اس کے اندر کا نیا انسان پرانے انسان سے تعلقات قائم کر لے گا اور پھر اس کا ماضی مستقبل کا لبادہ اوڑھے لوٹ آئے گا
ع میں جنھیں یاد ہوں اب تک یہی کہتے ہوں گے
شا ہزادہ کبھی ناکام نہیں آ سکتا
ع نیا دل جو بازار سے مل گیا
تو لے آئوں گا اِس پرانے کے خواب
جب نئی غزل کی تلاش میں لسانی تجربات ہوئے تو بہت سے شعراء نے انگریزی،پنجابی اور دوسری زبانوں کے الفاظ غزل میں کھپانے کی کوشش کی۔لیکن غزل کی تہذیب نے اسے قبول نہیں کیا کیوں کہ اکثر ان الفاظ نے تغزل کو مجروح کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ادریس کے ہاں جب جب لسانی تجربات کی سعی ہوتی ہے وہ اس روانی اور بے ساختگی سے ہوتی ہے کہ بے محل معلوم نہیں ہوتی۔
میں اس کے قتل کو نوٹس میں لانا چاہتا ہوں
کہ چپ رہا تو مرے ساتھ بھی یہی ہوگا
موت اکتا چکی، ریہرسل میں
روز دو چار شخص مرتے ہیں
وہ چاک اداس بہت تھا شکستِ انجم پر
تو دل نے اُس کو دلاسا دیا ،کہ چل،کوئی نئیں!
المختصر آنے والا وقت ثابت کرے گا کہ ادریس بابر غزل کے لیے ناگزیرتھا۔





Comments