تخلیقی گریہ ...کیا واقعی تخلیقی عمل درد ِ زہ کی طرح تکلیف دہ ہے؟



آئینہ در آئینہ سے ایک اقتباس
تخلیقی گریہ
کیا واقعی تخلیقی عمل درد ِ زہ کی طرح تکلیف دہ ہے؟
سوال : تخلیقی گریہ میں آنکھوں کی خوبصورتی کا بند وبست کیسے کرتے ہیں ؟آپ کثیر گریہ گزار( بطور شاعر) ہیں ، رونا عادت تو نہیں بن گیا ، قلبی تاثیر کے بغیر ۔؟
جواب: گریہ ہمیشہ ہی تخلیقی ہوتا ہے، یہ بارود خانہ بھی ہے اوردل کو پگھلا دینے والا بیَن بھی، پھٹ پڑتا ہے تو تباہی کی یاد دلاتا ہے۔ (رثائی ادب اس کی ایک مثال ہے، مرزا انیسؔ اس قدر نہیں جتنا مرزا دبیرؔ اور دولھےؔ میاں ) .... اور صرف ہچکیوں ، سسکیوں سے مرتب ہوتا ہے تو بقول مقدس انجیل : گریہ زاری شاید ایک پوری رات تک جاری رہے لیکن صبح ہوتے ہی اسی شد و مد سے خوشی طلوع ہوتی ہے۔
بہر حال گریہ کبھی رفتار و گفتار کا ، یا نشست و برخاست کانمائشی مسلک نہیں بن سکتا۔ شاعری کے ریشے اس سے مرتب ہوں تو شاعری دل کو چھوتی بھی ہے اور اسے پگھلا بھی دیتی ہے.
خدا جانے کیوں لیکن یہ سوال میں نے خود سے کبھی نہیں پوچھا کہ تخلیقی گریہ میں آنکھوں کی خوبصورتی کا بندوبست کیسے کیا جاتا ہے۔ یہ تو ظاہر ہے، کہ نظموں کی چلمن سے جھانکتی ہوئی ، اپنی پلکیں جھپکتی ہوئی تخلیقی آنکھ دھلی دھلی سی دکھائی دیتی ہے، کچھ کچھ لال ڈورے بھی ابھر آتے ہیں لیکن غزل گو شعرا کے استادوں کے استاد کے مطابق وہ کیفیت نہیں آتی: ع ۔ جو آنکھ ہی سے نہ ٹپکے تو پھر لہو کیا ہے
تو اگر یہ بات طے ہو ہی گئی کہ گریہ ہمیشہ تخلیقی ہوتا ہے، اور جو تخلیقی نہیں ہوتا وہ گریہ ہی نہیں ہوتا، تو آگے چلیں؟ آپ نے، قبلہ ، یہ کیسے فرض کر لیا کہ میں ’’کثیر گریہ گذار ہوں، بطور شاعر ؟ ‘‘ جی نہیں، کچھ کچھ گریہ گذار ہوں، لیکن کثیر گریہ گذار نہیں ہوں۔ میری انگریزی نظموں کے بارے میں ممتاز نقاد محترمہ کیرولین گرؔ ین نے کہا ہے کہ ستیہ پال آؔ نند زندگی کا جشن مناتا ہے، اس کا ماتم نہیں کرتا۔
میری اردو نظموں میں صرف وہی نظمیں گریہ زاری کی تخلیقی جہت کے ضمن میں آتی ہیں، جن میں حالاتِ حاضرہ کو اساطیریا تاریخ یا لیجنڈ یا داستانوں کے چوکھٹے میں رکھ کر پیش کیا گیا ہے۔ یعنی اگرمیری ایک پنجابی نظم کا سر خیل شعر یہ ہو گا
پیاسا بھٹکدا پھردا سی، دھُپ سی بڑی کڑی
سِر تے مرے یزید دی اک فوج سی کھڑی
تو پیاس، دھوپ، یزید کے ذکر سے لفظ ’کربلا‘ کہے بغیر ہی کربلا کا منظر نامہ پینٹ ہو جائے گا ، اور ظاہر ہے رقیق القلب قاری کی آنکھوں میں ایسے ہی آنسو آ جائیں گے جیسے کہ تلمیحاً یہ شعر کہتے ہوئے میری تخلیقی آنکھ میں آئے ہوں گے۔
جی نہیں، رونا عادت نہیں بنا کہ ایک حسین چہرے کو دیکھ کر صرف ’’ماشا اللہ‘‘ کہہ کر ہی گذری ہوئی جوانی کا سوگ نہیں مناتا ، ’’انشا اللہ ‘‘ بھی کہتا ہوں۔ (اور شرارتی انداز میں کہتا ہوں  یہ قلبی تاثیر کا ہی اثر ہے کہ ماضی کو حال اور مستقبل کے تناظر میں دیکھتا ہوں، نہ کہ حال اور مستقبل کو ماضی کے آئینے میں .... قبلہ، گہری بات ہے نا؟
سوال : آپ کی زندگی پر کونسا حصہ ایسا آیا ،جب آپ پر الم نشرح ہوا کہ آپ ’’صاحبِ نظریات ‘‘ ہو رہے ہیں ۔۔۔۔ کوئی خاص واقعہ ، حادثہ یا تخلیقی کشف جس نے آپ کو نظریاتی سطح پرمنظوم کیا ہو ؟
جواب: خاص واقعہ؟ جی ہاں۔ لیکن میں نے اس کا تباہ کن اثر بلوغت کی پہلی کچی عمر (ساڑھے سولہہ برس) میں اپنے ذہن پر مرتب ہوتے ہوتے ہی اس کو کہیں دور نیچے تحت الشعور میں دفن کر دیا، یا کم از کم دفن کرنے کی کوشش کی۔ یہ ایک چھلاوے کو زنداں میں قید کرنے کے مترادف تھا۔ چھلاوہ تو سا لہا سال تک ،رینگ کر، سرک کر، ہوا کے ساتھ تحلیل ہو کر پھر ذہن کے زنداں سے ان لمحوں میں باہر نکل آتا رہا جب عالم خواب (یا عالم بیداری میں بھی) ہپناٹزم یا سبات جیسے خواب گراں میں بیدار لمحے سو جاتے ہیں۔شعوری کوشش ہمیشہ یہی رہی کہ اس سانحے کو بھول جاؤں۔
تقسیم وطن کے دوران ہمارا پریوار (بابو جی یعنی والد صاحب، ماں، میں خود، مجھ سے ایک بڑی بہن ، ایک چھوٹا بھائی اور ایک چھوٹی بہن) یعنی اس ٹبّر ٹیر کے چھہ افراد، بلوائیوں سے بچ بچا کر راولپنڈی سے ریل گاڑی میں بارڈر کراس کرنے کے لیے سوار ہوئے جس میں ہمارے جیسے سینکڑوں اور کنبے بھی تھے۔راستے میں جگہ جگہ بلوائیوں کے گروہ انجن کے سامنے کھڑے ہو کر ٹرین روک دیتے اور لوٹ مار کرتے۔ نوجوان بہن کو ہم نے پرانے بستروں کے پیچھے یعنی سیٹ کے نیچے چھپا دیا تھا کہ نوجوان لڑکیوں کا اغوا ایک عام بات تھی۔ لالہ موسےٰ سٹیشن پر گاڑی انجن میں پانی بھرنے کے لیے رُکی تو بابو جی بھی ایک جگ لے کر گاڑی سے اتر گئے کہ اوپر کے نل سے انجن میں پانی بھرتی ہوئی دھار سے جگ میں پانی بھر لائیں۔ ان کی کلائی کی گھڑی اتارنے کے لیے ایک بلوائی نے ان پر حملہ کیا اور یہ سمجھ کر کہ وہ جگ سے اپنا دفاع کریں گے، اس نے انہیں چھرا گھونپ دیا۔ زخمی حالت میں لڑکھڑاتے ہوئے وہ ڈبے کے دروازے تک واپس پہنچ گئے۔ ہم نے اور کچھ دیگر مسافروں نے اوپر ڈبے میں کھینج تو لیا اور کوشش کی کہ ان کا خون رک جائے لیکن ان کی انتڑیاں باہر لٹک آئی تھیں اور ہمارے پاس سوائے چادریں پھاڑ کر پٹیوں سے ان کے زخم کا دہانہ بند کرنے کے اور کوئی چارہ نہیں تھا ۔ دو تین گھنٹوں میں ان کی موت واقع ہو گئی اور ہم ، یعنی گھر کے پانچ ا فراد، بیوہ ماں اور چار بچے ان کی لاش کو لے کر سرحد پار پہنچے ......
اس جانکاہ واقعے کے زہریلے پودے کی جڑ کو اپنے دل سے اکھاڑنے کے لیے میں لگاتار جتن کرتا رہا۔مبادا کہ میں ایک بلوائی کے مکروہ کام کے لیے مسلمانوں سے نفرت کرنے لگوں۔ میرے تو تقسیم سے پہلے بھی اور تقسیم کے بعد بھی زیادہ دوست مسلمان ہی تھے۔ ایک پھوپھی مسلمان تھی۔میں نے آج تک اس واقعے کا کسی بھی کتاب، کسی بھی افسانے، کسی بھی نظم میں ذکر نہیں کیا ، یہاں تک کہ اپنی خود نوشت ’’کتھا چار جنموں کی‘‘ میں بھی اس واقعے سے کنی کترا کر نکل گیا ہوں، سوائے ایک جملے کے ’’اور راستے میں بابو جی کی موت واقع ہو گئی‘‘ میں نے اور کچھ نہیں لکھا اب بھی نہیں چاہتا تھا، کہ لکھوں۔ اب لکھ ہی دیا ہے تو رہنے دیتا ہوں۔
تو صاحب، اب آپ کے سوال کی طرف آئیں۔ ’’جب آپ پر الم نشرح ہوا کہ آپ ’’صاحبِ نظریات ‘‘ ہو رہے ہیں ۔۔۔۔ کوئی خاص واقعہ ، حادثہ یا تخلیقی کشف جس نے آپ کو نظریاتی سطح پرمنظوم کیا ہو ؟‘‘... جی ہاں یہ جانکاہ واقعہ ہی الم کے ’’پرارمبھ، مدھیہ اور انت‘‘(شروع، وسط اور اختتام) کا مصنف تھا۔ صاحبِ نظریہ ہونا یعنی مذہب کے حوالے سے میرے اندر سب مذاہب کو تسلیم کرنے والی روح و جوع کا ظہور ہونا اسی واقعے کا مرہونِ منت ہے۔ اس نظریہ کو اگر میں نے ستر برسوں تک ، کسی بھی ترمیم کے بغیر، زندہ رکھا ہے تو اس میں میرا کمال یہ ہے کہ قدم قدم پر ادبِ عالیہ میں مجھے ایسے شواہد ملے ہیں، جن سے یہ اعتقاد پختہ سے پختہ تر ہوا ہے۔
انگریزی تراجم کی وساطت سے قدیم یونان، رومائے قدیم اور قرون وسطےٰ سے لے کر نشاۃ ثانیہ سے ہوتے ہوئے آج تک کا یورپی ادب میری گرفت میں ہے۔ سنسکرت پڑھ لیتا ہوں۔ عربی میں شد بد رکھتا ہوں۔ تقابلی ادب پڑھاتے ہوئے تقابلی مذہبیات اس کا صرف عشر عشیر نہیں، بلکہ نصف حصے پر قابض ڈسپلن آف سٹڈی بن جاتا ہے، جو میری تحویل میں رہا ہے۔اس بات کے باوجود کہ اردو کے سٹھیائے ہوئے کچھ غزل گو شاعر جن کی شہرت اس بات میں مضمر ہے کہ انہوں نے ہزاروں غزلیں لکھی ہیں، اور جو’’ رن ٓان لائنز‘‘ کی تکنیک سے واقف نہیں ہیں، اور صرف غزلیں کہتے ہیں، میری عروض دانی پر اعتراض کرتے ہیں، میں اپنے منشی فاضل امتحان کے وقت (۱۹۵۲ء) سے لے کر آج تک (گویا) گھول کر پی ہوئی ’’حدائق البلاغت‘‘ کے متن سے ’’ الف‘‘ تا ’’ یے‘‘ واقف ہوں۔ کمپیریٹِو لٹریچر (تقابلی ادب) کے کورسز میں مشمولہ ’’تقابلی عروض‘‘، یورپ اور امریکا کی جامعات میں پڑھاتا رہا ہوں۔اورایسے لوگوں کو کوئیں کے مینڈک سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔

ستیہ پال آنند







مصنف کے بارے میں


...

ستیہ پال آنند

1931 - | کوٹ سارنگ


ڈاکٹر ستیہ پال آنند کو ان کی علمی و ادبی خدمات پر اعزازات سے بھی نوازا گیا، جواہر لعل نہرو فیلو شپ، اردو مرکز ایوارڈ ، لاس اینجلس اور حکومت پنجاب، بھارت کی جانب سے Shiromani Sahityakar Award سے نوازا گیا ہے۔




Comments