عشرہ ایک سوالیہ نشان ۔۔۔۔



کیا عشرہ گذشتہ ۹۰ برس بعد اردو شاعری کو ایک نیا وسیلہ اظہار دے رہا ہے؟
بی بی سی اردو میں چھپی اس رپورٹ ( اردو شاعری کی ایک نئی صنف کا آغاز ) میں محترم ظفر سید کے اُٹھائے گئے اس اہم سوال کا جواب ابھی تک ٹھیک سے نہیں دیا جا سکا. ہمارے بیشتر سرسری فلیپ نگار و دیباچہ نویس نقادوں کی نظر تو ابھی پچھلی دہائیوں میں لکھی جانے والی نظموں اور غزلوں پر نہیں پڑی تو عشرہ تو دور کی چیز ہے ۔
۔
دوہزار چودہ میں ادریس بابر نے ( جو ایک باکمال غزل گو شاعر ہیں )عشرے کی صنف کا باقائدہ اعلان کیا ۔عشرہ ایک دس سطری صنف ہے مگر کسی روایتی یا جدید صنف تک محدود نہیں. یہ شاید واحد صنف ہے جو دوسری اصناف کے رد یا تکفیر پر آمادہ نہیں ۔عشرہ منظوم بھی ہو سکتا ہے مقفی بھی ، غزلیہ بھی ہو سکتا ہے اور نثری بھی ۔
میں کوئی باقاعدہ تنقید نگار تو ہوں نہیں جو عشرے کے مستقبل کے بارے میں کوی فیصلہ صادر کر سکوں، تاہم عشرے کی بطور صنف برتری نہیں تو بڑھوتری کا آنکھوں دیکھا حال ضرور میرے سامنے ہے . کیونکہ جن دنوں ادریس بابر عشرہ کی صنف متعارف کروا رہے تھے میں زیادہ تر انکے ساتھ ہی تھا ۔ اسلام آباد میں ہمارا فلیٹ ہوا کرتا تھا جس میں ادریس بھائی دن بھر لکھتے رہتے تھے اور کبھی کبھار کوئی عشرہ مجھے بھی سنا دیا کرتے تھے ۔ ادریس بابر کو بھائی ہم لوگ اس لیے بھی کہتے ہیں کیونکہ وہ یوای ٹی لاہور کی لٹریری سوسائیٹی کے سینیر پریزیڈنٹ رہے تھے جبکہ میں اسی سوسائیٹی کا ۲۰۰۸ میں پریزیڈنٹ رہا ہوں تو ہم نے اپنی ڈگری کے چار سال اپنے انہی سینزر (جیسے شاہین عباس، ذوالفقار عادل، رحمان حفیظ، طیب رضا، سلیم ساگر، سمیت متعدد جانے مانے احباب) کے اشعار سُن کر گزارے تھے. ۲۰۱۲ میں جب ادریس بھائی کی پہلی کتاب یونہی ( غزلیات کا مجموعہ ) شایع ہوی تو میں اسلام آباد ہی تھا ۔۲۰۱۳ میں ادریس بابر کی کتاب یونہی کو فیض احمد فیض ایواڈ ملا ۔ اسلام آباد میں ہم دوستوں نے ادریس بھائی کے ساتھ ۳ سال گزارے اس دوران ادریس بابر کا اُٹھنا بیٹھنا جہاں امداد آکاش , وحید احمد , اختر عثمان ، ظفر سعید ، رحمان حفیظ ،منظرنقوی جیسے سینر احباب کے ساتھ رہتا تھا وہیں عاصم بٹ ، اختر رضا سلیمی ، علی اکبر ناطق ، شہاب صفدر ، اشفاق عامر ، حسن نقوی ,ظفر شاہین جیسے ممتاز معاصرین سے بھی ملاقات چلتی رہتی تھی ۔ادریس بابر کی شخصیت کے بارے میں میں بس اتنا کہوں گا کہ وہ ایک خوبصورت انسان ہیں ۔انکی شخصیت کی کئی پرتیں ہیں جو ایک آدھ ملاقات میں نہیں کھلتی ۔ کبھی وہ آپکو اپنی شخصیت کی دبیز اندھیروں میں چھپے ملیں گے تو کبھی وہ انتہائی روح پرور روشنی کے ساتھ بیٹھے ہوئے مسکرا رہے ہوں گے ۔
مجھے ادریس بھائی کی وہ بات آج بھی یاد ہے کہ جب نئے نئے عشرے لکھے گئے ان دنوں ادریس بھائی توانائی سے بھر پور دکھائی دیتے تھے انکی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی اور وہ چاہتے تھے کہ میں انہیں اپنے آفس سے ان کے عشروں کے پرنٹ چھوٹے سائز میں لا دیا کروں تاکہ وہ انہیں لیمینشن کروا کر کسی سڑک کنارے کھڑے ہو کر اپنے عشروں کو بانٹ سکیں ۔
مجھے یاد ہے کہ میں نے اس بات پر ادریس بھائی کا کافی مذاق اُڑیا اور اس کام کو کرنے سے سختی سے منع کیا پر اگر میں آج اس بات کو سوچوں تو ،عشرہ کیا ہے اس کا جواب ادریس بھائی کی اسی بات میں موجود تھا ۔ کہ دس سطریں ایک صفحے کے چوتھے حصے میں با آسانی نظر آسکتی ہیں اور عشرے میں بیان کی ہوئی بات ہمارے سماج کی ضرورت ہے۔ ایک زمہ دار ادیب کی ایسی عجیب و غریب خواہش کہ وہ اس سماج میں وہ شعور خود کھڑے ہو کر بانٹنے کے لیے تیار ہے جس کی وہ سمجھتا ہے کہ اس سماج کو ضرورت ہے ۔ایسی خواہش ایک درد مند تخلیق کار ہی کر سکتا ہے ۔ ادریس بھائی کے عشرے آج واقعی سڑک پر بٹ رہے ہیں یہ وہ استعارہ ہے جس سے وہ سماجی سیاسی اور اقتصادی فلسفہ جسے پڑھنا عام قاری کے بس کی بات نہی اسے عام فرد تک پہنچاتا ہے ۔ ایسے منظر نامے پر جہاں میڈیا بک چکا ہو اور تجزیہ کار اپنے جیبیں گرم کر رہے ہوں شاعری کے لطیف پیرائے میں سچ کو پیش کرنا ویسی ہی خواہش ہے جیسی ادریس بابر نے اس وقت ظاہر کی تھی ۔
اور یہ وہ زمانہ نہیں جب لوگ پانچ دس صفحات پر پھیلی طویل نظمیں پڑھیں۔ خاص طور پر جب ان طویل نظموں میں اکثر کھودا پہاڑ نکلا چوہا والی صورت حال ہو.
ہمارا موجودہ عہد سوشل میڈیا کا دور ہے فرد کی آزادیِ اظہار کا دور ہے ۔ روائیتی شعرا اس دور میں حالات حاضرہ کا جیسا سطحی بلکہ مضحکہ خیز نقشہ کھینچتے ہیں آپکو فیس بک سے اسکا اندازہ ہو جائے گا ۔ جیسے ہی کوئی حادثہ ہوتا ہے اور سوشل مڈیا پر ٹریںڈ بنتا ہر شاعر کی کوشش ہوتی ہے کہ جیسے تیسے اس ٹرینڈ میں اپنا حصہ ڈال دے غزل کا شعرجو اس شاعر کے عمومی معیار سے بھی کم تر ہو بس لگا دیا جائے ۔ پشاور اے پی ا یس سکول کے بچوں کی قبریں ہوں یا زینب کی کوڑے میں پڑی لاش ہر شاعر اپنا گلا سٹرا بدبودار پھول پیش کرنے کو تیار ہےچاہے اس میں پوری کیا کوئی بھی بات بیان ہوپائے یا نہ ہو پائے ۔
عشرہ روز مرہ کی طرح ہلکا پھلکا بھی ہو سکتا ہے اور سیاسی فلسفے سے بھرپور بھاری بھرکم بھی تاہم یہ کسی صورت میں سماجی سچ کی قیمت پر ادبی جھوٹ نہیں بیچتا ۔ نہ ہی ایک مسئلے کا فوری مصنوعی حل کے لیے کوئی پھکی یا چورن۔۔۔ جو زبردستی زیبِ حلقوم کر دیا جائے!
یہ ایک مستقبل گیر راستہ دکھانے کے قابل ہے مگر ماضی کے مزاروں پر دھمال ڈالنے کا قائل نہیں ۔ عشرہ انفرادی اور اجتمائی مائنڈ سیٹ کے نفسیاتی تجربے و تحلیل کے زریعے تبدیلی کا اشاریہ ہے ۔
میری زاتی رائے یہ ہے کہ عشرہ وہ شاعر لکھ ہی نہیں سکتا جو واقعی موجودہ
وقت میں نہ جی رہا ہو اور یہی مطالبہ اپنے قاری سے بھی نہ کرے. ماضی کے مزاروں پر جینے والوں کے لیے یہ صنف ہے ہی نہیں کچھ مُردہ مائینڈ سیٹ کے لوگوں نے عشرہ لکھنے کی کوشش کی بھی تو میرے خیال میں وہ کامیاب نہیں ہو سکتے. محض سطروں کے اوپر عشرہ لکھ دینے سے عشرہ نہیں بنتا ۔ عشرہ اس زمانے کی صنف ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ اسے لکھنے والا اسی زمانے میں سانس لے رہا ہو۔
اس جدید ، ترقی پزیر معاشرے کے ادیب کا کام ہے کہ وہ اپنے ادب و فن میں معروضی احوال کے تقاضوں کی تپش کو منتقل کرے ۔ ترقی پزیر معاشرے میں فن کار اور ادیب کو اپنے مقام اور منصب کا شعور ہونا چاہیے ۔ یہ شعور اپنے اردگرد کے مسائل پر غور و فکر سے پیدا ہوتا ہے ۔ ادب یا آرٹ محض جمالیاتی حظ کشی کے آلات نہیں بلکہ ممکن حد تک فرد اور معاشرے کے سمت نما ہیں۔ فرد کے اظہار زات کے علاوہ ادب یا آرٹ سے ایک قوم یا سماج کے اجتماعی شعور کا اظہار بھی ہوتا ہے جو معاشرے کی فرسودہ قدروں اور کلیشے زدہ رسومِ فکر کو پامال کرکے نئی صحت مند قدروں کی آبیاری کرتا ہے ۔
عشرے کی خوش نصیبی یہ ہے کہ نوجوان نسل عشرہ لکھ رہی ہے. متعدد اعلی تعلیمی اداروں میں نظم و غزل کے مقابلوں کے ساتھ عشرے کے مقابلے بھی منعقد ہو رہے ہیں . یو ای ٹی لاہور اور یونیورسٹی آف گجرات میں ایسا کئی سال سے ہوتا آرہا ہے. اسی طرح پاکستان، انڈیا کے نامور رسالوں میں یکسر مختلف پس منظر رکھنے والے لکھاریوں کے عشرے مسلسل چھپ رہے ہیں. سماجی ویب سائیٹس پر عشروں کی اشاعت کا سلسلہ جاری ہے ۔ جو نوجوان اپنے وقت میں جی رہے ہیں وہ عشرے کہہ رہے ہیں اور خوب کہہ رہے ہیں عشرے کے قاری بھی روز بہ روز بڑھ رہے ہیں ۔
عشرہ میں موجود سماجی شعور اور اسکے نوجوان نسل میں مقبول ہونے کی وجہ کا اندازہ آُپکو حال ہی میں پیش آنے والے ایک واقعے سے ہو جائے گا جس واقعے کی وجہ سے میں یہ مضمون لکھ رہا ہوں ۔
ہوا یوں کہ سرگودھا میں اپنی یونیورسٹٰی کی طرف سے (جہاں میں پڑھاتا ہوں) مجھے کہا گیا کہ چند نظمیں قرات اور نعت کے بعد ایونٹ میں شامل کر لی جائیں جو پشاور اے پی ایس کے بچوں کے اور زینب کے نام کر سکیں ۔
تو میں نے اپنی یونیورسٹٰی سے کچھ بچیوں کو چنا اور پہلی بار انہیں عشرے دیے کہ انہیں تیار کرو یہ آپ لوگوں نے پڑھنے ہیں یہ وہ بچیاں تھیں جنہوں نے شاید ہی کبھی کوئی نظم پڑھی ہو کیوںکہ یہاں ادبی سرگرمیوں کی روایت نہیں خیر جب بچیوں نے عشرے تیار کر لیے تو آخری دن انہیں سربراہ کے سامنے پیش کیا گیا تاکہ کونٹینٹ چیک کر لیا جائے اور وہ فائینل کر سکیں ۔
جس عشرے پر اعتراض ہوا وہ یہ تھا
عشرہ ء زینب
لاش فقط زینب کی تھی غلطی تو ہم سب کی تھی
مجرم چاہے ایک ہی ہو ، کتنا نمازی نیک بھی ہو
اُس پہ بھروسا کرنا کس نے سکھلایا ہے
وہ سسٹم کیسا ہے جس نے سکھلایا ہے
جنسی استحصال کی کھلی اجازت ہو
مدرسوں میں بھیڑیوں کی تربیت ہو
بھائی کو شیر اور بہن کو بکری سمجھا جائے
عورت کو بس پائوں کی جوتی سمجھا جائے
اُس کو چھوڑ کے گئے ہوئے ماں باپ بھی ہیں
زینب کے دشمن تو میں اور آپ بھی ہیں!
اعتراض ہوا کہ مدرسوں کا لفظ تبدیل کر دیں ۔ تو میں نے اپنے سینر کے حکم پر کہا کہ ٹھیک ہے سر کر دیتے ہیں پر حیرانی اس بات پر ہوئی کہ ان بچیوں نے جنہیں نہ عشرے کا پتا نہ نظم کا وہ سب کی سب کہنے لگیں کہ سر حقیقت تو یہی ہے نا تو اسے کیوں تبدیل کروا رہے ہیں ۔ میں ان بچیوں کی ہمت پر داد دیناچاہوں گا جنہوں نے اتنی معصومیت سے ایک تاریخی بات کہی اور وہ بھی اپنے سربراہ کے سامنے ۔جسے سُن کر نہ صرف وہ بو کھلا گئے بلکہ جب کچھ دیر تک کوئی جواب نہ بنا تو کہنے لگے ہر حقیقت سامنے لانے کے لیے نہیں ہوا کرتی ۔
ہوا یوں کہ اس بچی کا نام جس نے زینب پر عشرہ پڑھنا تھا خفیہ طور پر سے سٹیج پر کٹوا دیا گیا ۔ بالکل ویسے ہی جیسے آج کل کے دور میں حق بات کہنے والے کو اُٹھا لیا جاتا ہے ۔ ایسے ہی مجھے یاد پڑتا ہے کہ یو ای ٹی لاہور کا مشاعرہ مشال خان کے نام کرنے کے لیے ادریس بھائی بضد تھے ۔ مگر انکی اپنی سمجھی جانے والی سوسائیٹی ڈری یا اڑی رہی ۔
دیکھا جائے تو میری یونیورسٹی اس لحاظ سے بھی داد کی مستحق ہے کہ انہوں نے خود مشال خان ،اے پی ایس اور زینب جیسے سنجیدہ واقعات کو ایونٹ میں شامل کیا تھا ۔ یعنی ایسی باتیں جن پر بولنا پہلے مشکل لگتا تھا آہستہ آہستہ اس معاشرے میں اتنی ہمت پیدا ہو رہی ہے کہ ان پر بات کر سکیں ۔
خود مندرجہ بالا واقعات معاشرے پر قابض طبقات کی بوکھلاہٹ اور نئی نسل کے بڑھتے ہوے اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہیں.
اس سے در حقیقت ثابت ہوتا ہے کہ عشرہ جوسماجی شعور اپنے اندر رکھتا ہے وہ نوجوان نسل کا بیانیہ ہے اس نسل کا بیانیہ ہے جو اس عصر- حاضر میں زندہ ہے۔ ۔
ادریس بابر کے کچھ عشرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماڈل مڈل کلاس ھائی سکول میں ایمرجنسی کی ریہرسل
سدا مسکرانے والی مس شگفتہ فرحت خاص خیال رکهیں گی چهوٹی کلاسوں کے بچوں کا
وہ آرام سے سسک پائیں گے، بازو اٹهائے پیچهے ہٹتے ہوئے دیکھ سکیں گے مسلح اجنبی کی آنکهوں میں آنکهیں پهاڑ کے،
''امی!!'' پکارے بغیر
ہر دل عزیز مسز سعدیہ شیرازی سکهائیں گی نسبتن بڑے بچوں کو، مقابلتن آرام سے
چیخنا، کرسیوں میزوں سے ٹکرانا، ڈیسکوں کے نیچے چهپنا، حملہ آور کو خدا وغیرہ کے واسطے دینا
میڈم شاہین اقبال صرف بڑی کلاسوں کو عملی مشق کرائیں گی
دوسری منزل سے کود کر بهاگنے، گرنے، پلٹنے، جهپٹنے کی، دشمن کو گالیاں موقع ملے تو دهمکیاں دینے کی
آشوب-چشم کے مارے بیکار، میری بصورت-دیگر تجربہ کار نائب-سلطنت
چاند بی بی کر بائیں گی محض زخمیوں کی گنتی
میں، آپ کی اپنی پرنسپل، سلطان رضیہ سلطان، مرتب کر کے پیش کروں گی
نقصانات کا فوری تخمینہ اور لاشوں کی حتمی فہرست، دہشت گرد کے شناختی کارڈ سمیت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہاں ہے کوئٹہ، کیا ہے کوئٹہ
بم دھماکہ ہوا وہاں؟ نہ کرو!
ہاسٹل کا کرایہ چڑھ گیا ہے
اچھا، پہلے بھی ہوتے ہیں! کس وقت؟
حبس بارش سے اور بڑھ گیا ہے
بیسیوں لوگ مارے گئے؟ لو سنو!
چلتے ہیں تم نے چائے پی کہ نہیں
پہلے بھی مارے جاتے ہیں! اس وقت؟
فلم وہ ڈان لوڈ کی کہ نہیں
کیا وہاں ڈائیوو کا اڈا ہے
اوہو، تھری جی میں کوئی پھڈا ہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ع // تمہیں کیا چاہئیے پیارے لوگو
کیا تمہیں ایسا بادشاہ چاہئیے
جس کا کشادہ صحن سب پر تنگ ہو
جس کی بلند ممٹی پر سے کیڑے مکوڑے نظر آو تم
بغض بھرا ہو جس کے سینے میں آدھوں کے لیے
اور باقی کے لیے دل میں کوئی جگہ نہ ہو
سوائے ان کے جن پر بس نہ چلے وہ کسی کو خوش نہ دیکھ سکے
جسے تم لگتے ہو عقل سے پیدل، اونے بونے پونے سے
جو بے نیاز ہو تمہارے ہنسنے رونے سے
تمہارے جینے مرنے سے ہونے نہ ہونے سے
کیا تمہیں ایسی ملکہ چاہئیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جشن آزادی پر لکھا گیا ادریس بابر کا ایک عشرہ دیکھیں
عشرہ // اس پرچم کے سائے تلے
گنے چنے نیشنل فلیگز کی ضرورت ہے
سٹاف کاروں پر جگمگانے کے لیے
فارم ہاوسز میں ڈگمگانے کے لیے
بہت سارے جھنڈے چاہئیے ہوں گے
مڈل کلاس عمارتوں پر لہرانے کے لیے
ریس کے ساتھ بائیک پر لگانے کے لیے
بے شمار پرچم درکار ییں
تابوتوں پر لپیٹنے کے لیے
بے شمار سپاہی درکار ہیں
تابوتوں میں لیٹنے کے لیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ع/ ایک بار پھر
دہشت گرد، وہ جو بھی تھے
ان کا منصوبہ، وہ جو بھی تھا
ناکام ہو گیا
کامیاب ہو گیا
سیکیورٹی ادارہ
وہ جو بھی ہیں
بھول جائیے
یاد رکھیے
بال بال بچ گئے آپ
اور خود یہ بات آپ تک سب سے پہلے کس نے پہنچائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میٹنگ
اس نے میٹنگ بلائی اور کہا
لوگ، دن رات کنٹرول میں ہیں
ٹیپ منہ پر لگائی اور کہا
سب بیانات کنٹرول میں ہیں
اس نے گولی چلائی اور کہا
سر جی، حالات کنٹرول میں ہیں
سب زمیں پر خدا کے نائب تھے
سب زمیں پر خدا کے نائب ہیں
وہ جو اپنی رضا سے مارے گئے۔۔
وہ جو اپنی خوشی سے غائب ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مارکس انہیں مار کر مرے گا
چھین لی گئیں کتابیں، جلا دیے گئے اخبار
دھکے دیے گئے اسے ایک سے دوسرے ملک
وہ کوئی پیغمبر تھوڑی تھا!
پڑھ لکھ کر نزدیک کے چشمے میں آب۔حیات کم پڑنے لگا تھا
پھر بھی ہزار ہا میل دور برپا جنگ پر گہری نظر تھی اس کی
جسے آقاوں نے جیت کر غدر کا نام دیا، غلاموں نے تسلیم کیا
رنگ، نسل، یا مذہب .. سرماے کی کوئی بھی شکل ہو
افضل جاننے والے ظالم، ماننے والے مظلوم
ڈرتے ہیں ..
مارکس انہیں مار کر مرے گا
وہ کوئی خدا تھوڑی ہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔





مصنف کے بارے میں


...

فیضان ہاشمی

7-8-1986 - | Sargodha


فیضان ہاشمی لٹریری سوسائیٹی یو ای ٹی لاہور ، کے صدر رہے ، یونیورسٹی میگزین ایکو کے چیف ایڈیٹر ، کولاج کے جنرل سیکٹری ،یونیورسٹی آف لاہور سرگودھا کیمپس کی لٹریری سوسائیٹی کے ایڈوائزر ، آرکیٹکچرل انجینئر اور شاعر ہیں




Comments