نذیر قیصر کا فلسفہِ محبت



نذیر قیصر کا فلسفہِ محبت

نذیر قیصر کی شاعری الگ ہے اسکا منظر نامہ الگ ہے۔  نذیر قیصرکی شاعری صرف ایک مخصوص جمالیاتی دائرے میں قید نہیں ہے اور نہ ہی رومانویت کی طرح صرف ماضی اور مستقبل کی طرف نشان دہی کرتی ہے  بلکہ یہ اس بارش کی طرح ہے جو برس رہی ہے  اور تمام چیزوں میں تروتازگی بھرتی جا رہی ہے ۔ درختوں کے پتے اس یقین سے دھل چکے ہیں جیسے انہیں نئی زندگی عطا کی گئی ہو۔  راستوں پر پڑی  مٹی میں وہ  مہک پھر سے  بھر چکی ہے جو اس مٹی کا خاصہ تھی۔
یہ اس معاشرے کی مزاحمتی شاعری ہے جہاں تبلیغ کی جاتی ہے کہ عورت تمھارے لیے آزمائش ہے اور  ستر حوروں سے قرب کی خواہش   کرنے والے لوگ  اپنی سب سے قریبی دوست یعنی عورت کو کبھی  ثواب کی لذت میں بھلا دیتے ہیں  تو کبھی  احساس گناہ کی ندامت میں گنوا بیٹھتے ہیں  ۔
سرمایہ دارانہ نظام  میں جہاں تصورِ محبت تک دھندلا چکا ہے  ہر تعلق معاشی مجبوری کے تحت پروان چڑھتا ہے ۔فیمنسٹ کا نعرہ لگوایا جاتا ہے عورت آزاد ہوتی ہے تاکہ وہ سرمایہ دارانہ نظام کی  گرینڈ ورک فورس میں شامل ہو سکے ۔  محبت کو سستے ڈراموں اور فلموں  کی مدد سے  چینلائز  کیا جاتا ہے  تاکہ ایسی محبت کی بنیاد ڈالی جاسکے جس سے نظام کو کوئی خطرہ نہ ہو بلکہ سرمایہ دار کو فائدہ پہنچے ۔   یہاں تو  ماں کی مامتا جیسے جذبے کو  کمرشلز میں فروخت کیا جاتا ہے   مامتا  کبھی  ڈبے کے دودھ کی شکل میں بکتی ہے تو کبھی پیپمرز کی کبھی کسی کوکنگ آئل کے ہاتھوں فروخت ہوتی ہے تاکہ اہلخانہ لذیذ پکوانوں کو کھا کر اپنی انگلیاں چاٹ سکیں ۔
یا پھر ان اونچے پرائویٹ اسکولوں کے ہاتھوں جن میں اسکے بچےکا  داخلہ  اسے ایک زمہ دار  ماں کا خطاب دلا سکتا ہے  ۔
انسان نے اپنے بنائے ہوئے نظام سے فطرت کو بے تحاشا نقصانات پہنچائے۔ بادشاہوں، مذہبی پیشواؤں اور سرمایہ داروں نے انسان کو کنٹرول کرنے کے لیے ہر طرح کی جہالت گھول کر پلائی مگر محبت کسی نہ کسی شکل میں اپنا سر اُٹھاتی رہی ہے ۔

حتی کہ تصوف کی بنیاد بھی اسی قوت پر رکھی گئی ،  کیونکہ مذہب کے پاس ۔۔۔ خدا کی کوئی مجسم صورت موجود نہیں تھی اور یہی وجہہ تھی کہ  لوگ آہستہ آہستہ  روحانی الجھنوں کا شکار ہونے لگے تب ایک مجسم مرشد کے  کونسپٹ کو تصوف میں  انٹروڈیوس کروایا گیا ۔
یہ کونسیپٹ ویسے ہی تھا جیسے کوئی مرد کسی عورت سے پیار کرتا ہے تو اس میں اتنی ہی قوت کارفرما ہوتی ہے جتنی کہ خدا کو منانے کے لیے چاہیے۔
وہ باغیانہ قوت جو تمام تر سسٹم کو رد کر دے۔۔۔۔ اتنی ہی قوت جتنی کہ ایک راکٹ کو درکار ہوتی ہے کہ وہ زمین کی کشش ثقل کے پار جا سکے  ۔
دنیا محبت کرنے والوں کے خلاف نہیں ہوتی دراصل  اسے یہ دکھ ہوتاہےکہ  جو تعلق معاشی مجبوریوں کے قید و بند میں بندھنا تھا اسے یہ کونسی قوت ہے جو جھٹلانے کی جرات کر رہی ہے اپنے سٹیٹس اپنی ویلیو والے سے تعلق بنتا تو بات بھی تھی اور جب یہی قوت تمام تر مخالفت کے باوجود ایک ہونے کا فیصلہ کر لیتی ہے تو معاشرے کو اس سے  بھی بڑا دھچکہ لگتا ہے ، رسوم شرمندہ ہو جاتی ہیں ۔جو پکوان چولھے پر چڑھنے تھے نہیں چڑھ پاتے ، لین دین طے نہیں ہو پاتا  ۔
نذیر قیصر اپنی شاعری میں جس تصورِ محبت کی تبلیغ کرتے ہیں  وہ نہ تو سرمایہ دارانہ نظام کی  وجہ سے جنم لیتی ہے اور نہ ہی مذہبی عقیدوں کی محتاج ہے حتی کہ نذیر قیصر کا فلسفہ محبت تصوف کی مسخ شدہ رائج الوقت تعبیروں سے بھی بہت وسیع ہے ۔
کیونکہ یہ فلسفہ ایک سچے انسان کا فلسفہ ہے ، ایک ایسے شاعر کا فلسفہ ہے جو خطرناک حد تک خوبصورتی کو اپنانے کی جرات رکھتا ہے ۔
وہ ساری زندگی پچھلی محبت کے شواہد ہی تلاش نہیں کرتا ہے بلکہ اس کا ہر دن نیا دن ہوتا ہے ۔
محبت اگر انسان میں یہ شعور بیدار کروانے میں ناکام رہتی ہے تو اسکا مطلب یہ ہوا کہ ہم محبت نہیں۔۔۔  دراصل قید کرنا چاہتے تھے اس خوبصورتی کو جو اس پل ہمارے احساس پر طاری تھی ۔ اور پھر قید نہ کرپانے کا شکست خوردہ احساس ہمیں   کوسنا شروع کر دیتا ہے ۔
پُرسکون اور ڈری ڈری فضاؤں میں پہلی بار انا الحق کا نعرہ بلند ہوتا ہے  اور آسمان کے مرتبان میں قید خدا پہلی بار مٹی میں نمو پانے لگتا ہے ، انسان کی شہہ رگ کے اندر سے بولنا شروع کرتا ہے ،محلوں کی چھتوں پر لٹکتے  فانوسوں میں قید کی گئی  حق کی روشنی پہلی بار مٹی سے بنے انسان کے اندر داخل ہوتی ہے اور دیے سے دیے جلنے لگتے ہیں ۔
نذیرقیصر اپنی شاعری  میں پوری کائنات کے لیے  ایسی ہی  محبت کا درس دیتے نظر آتے ہیں جس میں ہر چیز کی حقیقت ایک ہی ہے اور کوئی کسی سے کمتر نہیں ہے ۔
نذیر قیصرمحبت کا نیا گیت گا رہے ہیں  انکا وصال انکا اپنا وصال ہے انکا ہجر انکا اپنا ہجر ہے نذیر قیصر کی شاعری ہجر کے  روایتی کونسیپٹ کو ایسی  کڑی ضرب لگاتی ہے ۔کہ تصوف کا  نظریہ وحدت الشہود بھی دہل جاتا ہے ۔ ،کہ سچا انسان ہر جگہ سچاہوتا ہے محبت کرنے والا انسان ہر محبت پہلی بار کرتا ہے ۔
اپنے تصورِ محبت کو نذیر قیصر ایسی جادوگری سے بیان کرتے ہیں کہ کائنات اور بلڈ انوائرنمنٹ کی تمام اشیا شعور کی ارفع منزل پر نظر آنے لگتی ہیں  ۔
مولانا رومی فرماتے ہیں ۔
جمادات جب اپنے شعور کے ارفع مقام پر پہنچتی ہیں تو بناتات میں تبدیل ہو جاتی ہیں
نباتات جب اپنے شعور کے ارفع مقام پر پہنچتی ہیں تو حیوانات میں تبدیل ہو جاتی ہیں
حیوان جب اپنے شعور کے ارفع مقام پر پہنچتے ہیں تو انسان میں تبدیل ہو جاتے ہیں
انسان جب اپنے شعور کے ارفع مقام پر پہنچتا ہے تو اس ذات حق میں شامل ہو جاتا ہے ۔
مگر نذیر قیصر کے ہاں ضروری نہیں کہ وہ شعور کا ارفع مقام کسی زات حق میں جا کر شامل ہو۔    انکی کائنات کی ہر شے انکے محبوب تک اپنا شعوری سفر طے کرتی دکھائی دیتی ہے ۔

کوئی پھول مہکا تو
اس نے جاگ جانا ہے
سیر کرتی ہے وہ حویلی میں
چاند بھی کھڑکیاں بدلتا ہے
بہت بارش ہے دروازے کے باہر
مگر وہ بھیگ جانا چاہتی ہے
مٹی کھلونا بن گئی
بارش میں بچوں کے لیے
نذیر قیصر اپنی شاعری میں ہزاروں صدیوں پر محیط  اس ارتقائی  عمل کو  دکھاتے نظر آتے ہیں  جو ہر مادی چیز میں جان بھرتا چلا جا رہا ہے۔ یعنی  ہر چیز کا شعوری سفر انکی شاعری میں انکے محبوب کی معرفت حاصل کرنے کے لیے بے چین ہے ۔ 
(فیضان ہاشمی)





مصنف کے بارے میں


...

فیضان ہاشمی

7-8-1986 - | Sargodha


فیضان ہاشمی لٹریری سوسائیٹی یو ای ٹی لاہور ، کے صدر رہے ، یونیورسٹی میگزین ایکو کے چیف ایڈیٹر ، کولاج کے جنرل سیکٹری ،یونیورسٹی آف لاہور سرگودھا کیمپس کی لٹریری سوسائیٹی کے ایڈوائزر ، آرکیٹکچرل انجینئر اور شاعر ہیں




Comments