علی محمد فرشی کی طویل نظم "مشینہ" کا پانچواں منظر



مشینہ ۵
.
مشینہ!
یہ میری ہتھیلی پہ سکہ ہے ،مٹی کا
ٹوٹا ہوا
جس کی اِک سمت
آد
ھی
برہنہ بدن مہر ہے
ناف تک آدمی کی 
.
یہ دولت کی نسلوں سے پہلے زمانے میں 
شاید اشرفی نما شے رہا ہوگا
دنیا اُدھر گھومتی ہو گی  
جس رُخ سے اِ س کی کھنک دار آواز
رستہ بنا کر نکلتی تھی دیوار سے
باغ میں
.
باغ کے ایک گوشے میں مٹی کا پُتلا تھا 
جس کے چرن چھو کے
آگے
گزرتا تھادریا
رواں نُور کی ندیاںرُک کے
پاؤں میں، سجدے سجاتی تھیں
انعام و اکرام پاتی تھیں
شاید یہ صورت اُسی کی ہے
سکے پہ!
.
یہ اُس دور کی بات ہے 
جب کرنسی نہیں،
اسمِ اَسرار چھپتے تھے کاغذ پہ   
تاریخ حرفوں کے پردے کے پیچھے 
کھڑی مسکراتی تھی
قصہ سناتے ہوئے
اپنی آواز میں اُس کی آواز آتی تھی
تاریخ حرفوں کے پردے کے پیچھے 
کھڑی مسکراتی تھی
قصہ سناتے ہوئے
اپنی آواز میں اُس کی آواز آتی تھی
رادھا کی خوشبو سےسسی کے تھل پھولتے
اور رانجھے کی بنسی سے بیلےمہکتے تھے
سوہنی کی لہروں میں لہراتی        
یادوں کی پریاں گزرتی ہیں 
سکرین پر رقص کرتے ہوئے
۔
یہ کرنسی کے کاغذ کی دیوار ہے 
جس کی دونوںطرف ایک انبوہِ مخلوق ہے
زندگی بھر کا 
یہ دن بہت مختصر ہے
کرنسی کی دیوار کو چاٹنے کے لیے
وقت کے پا ٹ کو پاٹنے کے لیے
جس کی چوڑائی
موسیٰ کی لاٹھی سے کم ہے 
۔
مشینہ!
مجھے کیا
کہ میں اِس تماشے سے باہر
ہتھیلی پہ مٹی کا سکہ سجائے کھڑا ہوں
یہ محشر ہے 
لیکن مجھے کس کا ڈر ہے
کہ میری ہتھیلی کا سکہ تو
سارے زمانوں میںرائج رہا ہے
میں جب چاہوں
جتنی بھی چاہوں 
اُٹھا لوں 
محبت

علی محمد فرشی کی طویل نظم "مشینہ" کا پانچواں منظر

مشینہ نے پہلی سطر ہی سے قاری کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا. متن محض جمالیاتی اظہار ہی کا نام نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ گہرے شعور کا عکاس بھی ہوتا ہے. شعری متن سے معنی کی بازیافت ایک قاری کی ذمہ داری ہے کیوں کہ نظم جمالیاتی اور شعوری ہر دو سطح پر اپنے استخراجی معنوں کی بدولت قاری کے رحم و کرم پر ہوتی ہے. مشینہ کا متن جس منطقی تجربیت سے جڑا ہوا ہے اسے سمجھنے کے لیے ہمیں نظم کے اس علامتی نظام کو دریافت کرنا پڑے گا جو گہرے فکری مکالمے کے باعث تشکیل پاتا ہے. نظم کا طبعی حوالہ معنی کے دریافت کے بہت ضروری ہے. ہتھیلی، سکہ،مٹی،پتلا ماضے کے کن گوشوں کی نشاندہی کرتا ہے کیا یہ کہیں یونانی فلسفہ حیات کے مانند تو نہیں ان سوالات کے جواب طے کیے بنا نظم کو مرکزیت کا دوشالا نہیں اوڑھایا جاسکے گا سکہ مٹی اور ہتھیلی میں مشترکہ قدر وہ معاشی صورت گری ہے جو انسان کے لا انسان ہونے سے قبل بھی کسی طرح مابعد الطبعیاتی بیانیے میں موجود تھی. پتلا مرکز نہیں مگر مرکز کا نگارندہ ضرور ہے. یہاں مٹی کا سکہ ایک مستقل نظام کی نشاندہی کرتادکھائی دیتا ہے. یہ نظام متن کے ادراک سے عبارت ہے. مٹی طبعی حوالوں سے ہمیشہ سے انسانی درک کا مرکز رہی ہے کیوں کے انسان مادی حوالوں سے جتنا مرضی ترقی کر لے مٹی کے جبر سے آزادی حاصل نہیں کر سکتا. کیوں کہ اس کا طبعی حوالہ براہ راست معاشی منظرنامے سے جڑا ہوا ہے. ہتھیلی مابعد الطبعیاتی حوالے سے قسمت کا نمائندہ رہی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ زمین کا سینہ چیر کے بنیادی ضروریات زندگی کا حوالہ بھی اسی میں پوشیدہ ہے اور مٹی کا سکہ تو ایک مکمل اور واضح علامت ہے یہ مٹی وہ واحد سکہ ہے جو آدم کی تخلیق سے لے کر اس کی بنیادی احتیاجات کی تسکین کا اہم جزو ہے. آج جب کہ ہمارے پاکیزہ جذباتی حوالے مادی تصور کے ساتھ جوڑ کر دیکھے جانے لگے ہیں ایسے میں یہ نظم ہمیں ایک ایسے نقطے کی طرف توجہ مرکوز کرانے میں کامیاب ہوجاتی ہے جو اپنی اصیل میں ہماری تہذیب کی معراج ہے یہ حوالہ اس نظم کے دوسرے حصے میں موجود ہے جہاں رادھا سسی جیسی محبت کی تہذیبی علائم کی مدد سے غربی و شرقی تہذیب کے مابین ایک بہت بڑا بنیادی تفاوت واضح کیا گیا ہے یہ ہماری شرقی تہذیب کا مرکزہ ہے. مابعد جدیدیت نے لامرکزیت کے اصول کے تحت ایک ایسا سبز باغ دکھایا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور ہو بھی کیسے سکتا ہے کہ مابعد جدیدیت حقیقت اور غیر حقیقت میں فرق کی قائل ہی نہیں. اس کے نزدیک جب کوئ مہا بیانیہ ہوتا ہی نہیں تو اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ گرنتھ گیتا بائبل قرآن جیسے تمام مہابیانیے اب رد ہوچکے ہیں اس لامرکزیت نے جو لاسمتی دی ہے اس کا درک ابھی تو ہمیں نہیں ہو پا رہا مگر مجھے یقین ہے کہ علی محمد فرشی جیسے ذہین تخلیق کار ضرور اس بات کا تعین کرنے میں کامیاب ہوں گے. اس نظم کی قرات کے دوران یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ شاعر نے کن تہذیبوں کی مدد لی اور کیوں لی. ہمارے جینیات میں جن تہذیبوں کا رس رنگ ہے ان میں اسلامی تہذیب اور ہندی تہذیب کی کارکردگی سے انکار ممکن نہیں اور ان دونوں تہذیبوں کا گٹھ جوڑ یا مشترکہ قدر مٹی ہی ہے اسلامی تہذیب جب انسان کی تخلیق کو گوندھی ہوئی مٹی سے منسلک کرتی ہے تو ہندی تہذیب مٹی کی محبت میں رادھا سسی اور ہیر جیسے کردار تخلیق کردیتی ہے گویا ان دونوں تہذیبوں میں مٹی سے محبت کا حوالہ ان کے درمیان مشترکہ بیانیہ بنتا ہے. یہ ایک ایسا سکہ ہے جس شاعر کے ہاتھ آیا ہے اور وہ اسی سکے سے عالمی گاوں کی بنیاد کا قائل دکھائی دینے لگتا ہے. نظم کا آخری حصہ ہمیں بالکل واضح کر دیتا ہے کہ اگر عالمی تہذیب کے ارتقا کے امکانات ہیں تو وہ ہماری مٹی کے سکے کو میں موجود ہیں کیوں کہ محبت اس دھرتی کا حوالہ ہے اور محبت تمام لایعنی نظریات سے کہیں بلند سطح پر اب بھی تابناکی کے ساتھ اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہے ہماری تہذیب میں مغربی بیانیے کے برعکس زیادہ مضبوط حوالے اب بھی موجود ہیں جن کی بدولت انسان مقابل انسان نہیں بلکہ انسان مساوی انسان کے جذبات کو پروان چڑھایا جا سکتا یہ ایسا سکہ ہے جس کی مدد سے کسی بھی لمحے محبت کی فصل اٹھائی جاسکتی ہے. میری طالب علمانہ رائے میں یہ نظم ہمارا اپنا بیانیہ مرتب کرنے جارہی ہے. 





Comments