ترقی پسند تحریک اور بھٹو .........سیاست پر ادب کے اثرات کے تناظر میں



عالمی منظر نامے پر ترقی پسند تحریک کے خدو خال اس وقت نمایاں ہوئے جب تیسری دنیا کے محنت کش طبقات معاشی و سیاسی بحران کا شکار تھے۔برصغیر میں ۱۹۲۰ کے بعد کا زمانہ سامراج کے ہاتھوں پسی ہوئی چھوٹی چھوٹی قومیتوں کے اشتراک کا زمانہ تھا۔وہ لوگ جو رات کی تاریکی میں اپنی پلکوں پر خوابوںکے بنتے بگڑتے نقوش کا افسانہ اپنے آپ کو سنانے سے گھبراتے تھے ،اب دن کے اجالے میں انھی خوابوں کی تعبیرکی عملی صورت دیکھنے کے لئے اپنا سب کچھ دائو پر لگانے کے لئے تیار تھے۔خوابو ں کی ارزانی کا موسم اپنی آخری سانسیں لے رہاتھا ۔معاشی بوجھ تلے دبے کھوکھلے بدن توانا ہو رہے تھے۔رگوں میں منجمد خون پگھل رہا تھا اور بے خواب آنکھوں میں نئے خواب سرسرا رہے تھے۔سر سید احمد خان کی ادبی تحریک کے ثمرات ایک بیدار ہوتی قوم میں واضح طور پر محسوس ہو رہے تھے۔ا س سیاسی تبدیلی میں اس زمانے کے ادبا کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اپنے مثالی معاشرے کے خدو خال تحریر کرتے ہوتے سقراط نے کہا تھا کہ اس کے مثالی معاشرے میں کسی شاعر یا ادیب کی کوئی گنجایش موجود نہیں ۔ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ شاعر یا ادیب معاشرے کی فلاح میں رکاوٹ کا سبب بنتے ہیں بل کہ اس کا مطلب یہ تھاکہ یہ تھا کہ یہی وہ واحد طبقہ ہے جو پوری قوم کی اجتماوعی ذہنی تشکیلات اور رجحانات کو بدل سکتا ہے۔سقراط جیسا فلاسفر کیسے چاہے گا کہ اس کا قائم کردہ مثالی معاشرہ کسی قسم کی تبدیلی کو محسوس کرے۔
ادب، تہذیبی سطح پر تغیرات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے منفی اور مثبت رویوں کی پیمایش کا بہترین پیمانہ ہے۔۱۹۳۲ میں پریم چند کی زیرِ صدارت ترقی پسند تحریک کا پہلا اجلاس ہوا جس کا مقصد ادب میں اشتراکی تبدیلیوں اور جحانات کو پروان چڑھانا تھا ۔ اس تحریک نے جہاں عالمی سطح پر تیسری دنیا کےمحنت کش طبقات کی آواز کو بلند کیا وہیں ادبی خدمات بھی سر انجام دیں اور ایسےنامور افسانہ نگا ر ، شاعر اور نقاد پیدا کئے جنھیں اردو ادب کی تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔
ادبی اور سیاسی تاریخ کا طالب علم پیش کی جانے والی دو قومی نظریے کی توضیحات نہیں سمجھ سکا ۔ دو قومی نظریے کی بنیاد دو بڑے مذاہب کے درمیان تصادم تو تھا ہی نہیں بل کہ دو بڑی تہذیبوں کےدرمیان پائے جانے والے عقلی تضاد کا نظریہ تھا۔لہذاٰ اسے مذہبی نکتہ نظر سے کم اور تہذیبی نکتہ نظر سے دیکھنے کی زیادہ ضرورت ہےکیوں کہ بہر حال مذہب اور تہذیب لازم و ملزوم ہونے کے باوجود کہیں نہ کہیں ایک دوسرے سے مختلف ہو جاتے ہیں اور دونوں میںکسی ایک کو کئی معاملات پرسمجھوتا کرنا پڑ جاتا ہے(حج کی مثال سامنے ہے)۔اس تمہید کا بنیادی مقصد اتنا تھا کہ جس نظریے کی داغ بیل ادبی تحریک نے برصغیر میں ڈالی تھی اس کا منطقی نتیجہ پاکستان کی صورت میں نکلا۔اس اعتبار سے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ نظریے کی کوئی بھی قسم ہو، رجحان ساز شعرا اورادبا کے بغیر اس نظریے کا کوئی بھی فلاحی پہلو معاشرے کےعام فرد کو متاثر نہیں کرسکتا۔لہٰذا ادیبوں کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے۔قیام پاکستان کے وقت ترقی پسند تحریک کو ۱۰سال کا عرصہ ہو چکا تھااور اس کے ثمرات آنا شروع ہو چکے تھے۔اس تحریک نےنہ صرف آزادی کی حمایت کی بل کہ بعد میں درپیش استحصال کی تمام صورتوں کی مذمت بھی کی۔اشتراکی نظریہ ، جس کی جڑیںبر صغیر کے زمینی حقائق کے ساتھ جڑی ہوئی تھیں، نے اس تحریک کو نظریاتی بنیاد فراہم کی اور نووارد مملکت کے محنت کش طبقے میں مقبولیت حاصل کی[یوسف حسن] ابتدا میں پاکستان کو جہاں معاشی مسائل کا سامنا تھا وہیں نئے دستور کا معاملہ وقت کی اہم ضرورت تھامگر شومی ِ قسمت کہ دستور بنا بھی تو اتنا کمزور کہ جنرل ایوب خان پاکستان کا کرتا دھرتا بن گیا۔ان حالات میں عام طبقے کا جتنا استحصال ہوا اس کا اثر ترقی پسند تحریک سے وابستہ شعرا ،افسانہ نگاروں اور نقادوں کے علاوہ غیر وابستہ لکھاریوں نے بھی اپنی اپنی اصنافِ سخن میں قبول کیا۔بھٹو جو اس وقت پاکستان کے وزیرِ داخلہ تھے، معاشی بدحالی میں پسے ہوئے عوام کی آواز بن کر سیاسی منظر نامے پر وارد ہوئے۔عُمرانی علوم کا طالب علم اس بات کا اندازہ لگا سکتا ہےکہ بھٹو کا طرزِ فکر ترقی پسندانہ اور نظریاتی تھا۔سہولت سے نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ بھٹو پر بلا واسطہ نہ سہی بل واسطہ تحریک کے اثرات مرتب ہوئے۔تحریک کا منشور سائنسی تعقل ، معاشی حقائق کی معاشرے میں اہمیت ، سرمایا دارانہ و جاگیردارانہ نظام کے غیر انسانی رویے ، طبقاتی کشمکش سے پاک معاشرے کی تشکیل اور محنت کش طبقے کے حقوق وغیرہ پر مشتمل تھا۔بھٹو کی سیاست پر نظر دوڑائیں تو انھی مندرجات پر ان کی تقاریر آسانی سے نکالی جا سکتی ہیں۔ان کے جلسوں میںحبیب جالب کی نظمیں اور سجاد ظہیر کا سیاسی کردار بھی اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ بھٹو ازم اصل میں ترقی پسند تحریک کی عملی صورت کا ایک نام ہے۔۱۹۶۸سے ۱۹۷۷ تک کے قلیل عرصے میں بھٹو نے جن ملکی مسائل کا سامنا کیا اس کی مثال ہمارے ملک کے سیاسی منظر نامےمیں قدرے مشرف کے زمانے میں نظر آتی ہے۔ترقی پسند تحریک بوجوہ اس وقت تک بکھر چکی تھی ، اس کے اثرات بحر حال ایک جمہوری قیادت نے قبول کر لئے تھے۔روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے نے سیاسی بساط کو بدل کر رکھ دیا تھا کیوںکہ پہلی بار کسی سیاست دان نے عوامی جذبات کی ترجمانی کی تھی۔یہ فقط روٹی، کپڑا اور مکان کا معاملہ نہیں تھا بل کہ یہ نعرہ غریب عوام کی بنیادی ضروریاتِ زندگی کے مسائل کا حوالہ بن کر ابھرا تھا۔خود حبیب جالب بھٹو کے ہم قدم تھے، وہ اس دور کے کرب اور عوامی امنگوں کو اپنی شاعری کا حصہ بنا رہے تھے۔ان کی نظم جمہوریت کے یہ اشعار دیکھئے:
بولنے پہ پابندی سوچنے پہ تعزیریں
پائوں میں غلامی کی آج بھی ہیں زنجیریں
آج حرفِ آخر ہے بات چند لوگوں کی
دن ہے چند لوگوں کا رات چند لوگوں کی
یہ ، وہ زمانہ تھا جب ملک سیاسی اورآئینی بحران کا شکار تھا۔بیرونی طاقتیں بنگال کو الگ کرنے میں کامیاب ہو چکی تھیںاورباقی صوبے بھی بے یقینی کے عالم میں تھے۔ہمارے دانشور ابھی ہجرت کے تلخ ذائقے کو نہیں بھولے تھے کہ اس سانحے نے انھیں ایک نئے کرب سے دوچار کر دیا۔پے در پے رونما ہونے والے ان تلخ حقائق نے ہمارے ادیبو ں کو Passiveکر دیا تھا۔فیض نے تحریک کے وقار میں اضافہ کیا اور اس کے منشور پر تا دم آخر عمل پیرا رہے۔انھوں نے معاشرے کے کرب کو جس انداز میں اپنی شاعری کا حصہ بنایا اس کی مثال اردو ادب میں کہیں نہیں ملتی۔اس کی اہم ترین وجہ فیض کا نظریاتی ہونا تھا۔لہٰذا یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ادبا و شعرا کا نظریاتی ہونا کتنا اہم ہوتا ہے۔کیوں کہ یہی نظریاتی اساس کسی بھی سیاسی جماعت کے میلانات کو بدلنے کی طاقت رکھتی ہے۔
میری ذاتی رائے کے مطابق بھٹو نے ترقی پسندانہ نظریے کو قبول کر لیا تھا۔ان کے دورِ حکومت تک اقوام عالم میں سوشل ازم کا نعرہ لگ چکا تھا۔سوشلسٹ نظریہ کاروں نے طبقاتی نظام کو بڑی توانائی کے ساتھ رد رکیا اور تمام انسانوں کے مساویانہ حقوق کےلئے آواز بلند کی۔اس وقت تک ترقی پسند تحریک اپنا دور مکمل کر چکی تھی اور سوشل ازم کی ابتدا ہو گئی تھی۔میرے خیال میں سوشل ازم ، ترقی پسند تحریک کا اگلا پڑائو تھا۔کیوں کہ تحریک کے غیر تحریری منشور میں طبقارتی کشمکش سے متاثرہ افراد کے تحفظات پر کئی مندرجات پر مشتمل تفصیلی بحث کی گئی ہے۔اگر دوسرے زاویے سے دیکھا جائے تو فیض کا ٹریڈ یونین کا رہنما بننا کیا ایک Social Activityنہیں تھی؟ اس اعتبار سے بھی سوشل ازم کو ترقی پسند تحریک کا اگلا پڑائو کہنا بے جا نہ ہوگا۔
ترقی پسند تحریک نے جس سائنسی عقلیت کی بات کی اس کے فوائد دنیا کی بڑی قوتوں نے حاصل کئےمگر پاکستان میں بدقسمتی سے ادبی سطح پر ویسا کام نہیں ہوا۔تنقیدی حوالے سے البتہ علی سردار جعفری ، باری علیگ اور ڈاکٹر محمد حسین نے سائنسی بنیادوں پر ادب اور سماج کے باہمی ربط کا جائزہ لیتے ہوئے فن پاروں کی اہمیت کا تعین کرنے کی کوشش کی۔ ایک بات قابلِ غور ہے کہ بھٹو نے ۱۹۷۳ کے دستور میں جہاں اردو زبان کی اہمیت کو واضح کیا وہیں پاکستان میں بولے جانے والی دوسری زبانوں کو بھی مجروح نہیں ہونے دیا۔اس کے علا وہ اکادمی ادبیات پاکستان کا سنگ بنیاد رکھ کر انھوں نے ادب دوست ہونے کا ثبوت دیا۔لہٰذا تحریک کے ان کی سیاست پر اثرات بعید از قیاس نہیں۔
جس سائنسی عقلیت کا تقاضا ترقی پسند تحریک کر رہی تھی اس کا عملی نمونہ جوہری توانائی پر تحقیق کی صورت ہمارے سامنے آیا۔ایک اچھا سیاست دان معاشرے کے برے بھلے پہلوئوں سے واقف ہوتا ہے۔ وہ معاشرے کا نہ صرف نباض ہوتا ہے بل کہ عکاس بھی۔ذوالفقار علی بھٹو نے عالمی سیاسی تبدیلیوں کو اچھی طرح محسوس کر لیا تھا۔وہ اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ ہمارے معاشرے میں موجود طبقاتی کشمکش صحت مند پاکستان کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ترقی پسند تحریک سے وابستہ لکھاریوں نے آغاز ہی سے اس کشمکش کے نتیجے میں پیدا ہونے والے غیر صحت مند رویے کی نشاندہی کر دی تھی۔بھٹو نے زرعی اصلاحات نافذ کر کے اور معاشی طور پر نچلے طبقے کے افراد کو اپنے پائوں پر کھڑا کر کے عوام دوستی کا ثبوت دیا۔ جاگیر داروں نے اور مذہبی جماعتوں نےکمیونسٹ کہ کر عوام کے دلوں میں بھٹو کی جگہ کم کرنے کی ناکام کوشش کی۔مذہب کے نام پر جذبات سے کھیلنا ہمیشہ ہی سہل رہا ہے مگر ۱۹۷۳ کے دستور میں مسلمان کی تشریح کر کے اور اس کے علاوہ کئی اسلامی دفعات شامل کر کے انھوں نے اپنے دامن سے اس داغ کو دھو ڈالا۔اگر کوئی بین المذاہب ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے کی جانے والی کوششوں کی بنا پر انھیں کمیونسٹ کہے تو شاید ہر بڑا مذہبی اسکالر کمیونسٹ ہی ہوتا ہے ۔ اس موقع پر مجھے عمر خیام کی ایک رباعی یاد آرہی ہے:
سر مست ز میخانہ گذر کردم دوش
پیری دیدم مست و سبوئی بر دوش
گفتم ز خدا شرم نہ داری اے پیر
گفتا کہ کریم است خدا، بادہ بنوش
عمر خیام کا سرمست انسان خدا کی رحمانیت کے سبب میخواری سے بہرہ مند ہو سکتا ہے تو کیا بین المذاہب ہم آہنگی کا پرچم بلند کرنا کمیون ازم ہو گا؟
بھٹو نے ملکی سلامتی کے حواسے عالمی سطح پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ میرا پاکستان(جیل کے آخری ایا م میں ایک خط بنا م بے نظیر بھٹو جو ایک کتاب کی صورت میں شائع تو ہوا مگر اس کی اشاعت و تشحیر پر پابندی عائد کر د ی گئی) میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ’’ مملکت کی سلامتی پر بلند بانگ مباحث کرنے سے پہلے ہمیں ایک عام آدمی کے معدے کی سلامتی کو تحفظ دینا ہوگا‘‘۔ یعنی ان کے نزدیک ملکی سلامتی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ایک عام آدمی کی بنیادی ضروریات زندگی پوری نہ ہوں۔تو کیا یہ ترقی پسندانہ رویہ نہیں کہ جس کے سامنے تختہ دارہو وہ عوام کی بات کرے۔ فیض کا شعر دیکھئے:
مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سےنکلے تو سوئے دار چلے
بھٹو کے کردار پر فیض جیسےکٹڑترقی پسند شاعر کا کتنا اثر ہوا ہوگا کہ انھوں نے اپنے نظریات بدلنے کے بجائے تختہ دار کو ترجیح دی۔کسی نے بھٹو کے بارے میں کیا خوب جملہ لکھا کہ:
The Bhutto is not the name of a politician;Bhutto os the name of key to open the vista of democracy
آغاز سے لے کر اب تک بنیادی طور پر میں نے دو ادبی تحریکوں یعنی سر سید احمد خان کی ادبی تحریک اور ترقی پسند کے کردار اور ان کے سماجی و سیاسی اثرات کے حوالے سے گفتگو کرنے کی کوشش کی ہے کیوں کہ ان دو بڑی تحریکوں نے دو بڑے مقاصد کی تکمیل کے لئے اہم کردار ادا کیا۔اس کی سب سےاہم وجہ یہ ہے کہ ان تحریکوں سے وابستہ ادیب نظریاتی تھے۔ اگر ہم عصر حاضر کی بات کریں تو ہمارے معاشرے میں موجود انتشاری کیفیت کیا اسی سبب ہے کہ ہمارا ادیب نظریاتی نہیں ہے۔ جب تک ہمارا دانشور کسی بڑے نظریے کی آبیاری نہیں کرے گا اس وقت تک سیاسی تبدیلی ممکن نہیں کیوں کہ جتنا بڑا نظریہ ہوتا ہے اتنا ہی بڑا نتیجہ بر امد ہوتا ہے۔





Comments