انفعالی متن اور عمار اقبال



جدیدیت جمالیاتی حوالوں سے وجودیت کے متوازی یا اس کے تابع جس ادبی نظریے کو جنم دیتی ہے وہ ادبی فن پارے کی ہیئتی اور نفسیاتی انتقادکے ذریعے تفہیم کرتی ہے ۔ ما بعدِ جدیت بنیادی طور پر سوال اٹھاتی ہے کہ ادب کو کن سوالات کی روشنی میں مطالعے کا حصہ بنانا چاہئے، ایک فنکار اپنے اردگرد وقوع پذیر تبدیلیوں کو کیسے دیکھتا ہے اور اسے کیسے دیکھنا چاہئے۔میرے نزدیک مابعدجدیت کوئی ادبی تھیوری نہیں بلکہ خالص اصولِ انتقادیات پر بحث کرتی اور تخلیق کار کوتشکیلی نظام میں رہتے ہوئے آزادانہ کام کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔بقول ڈاکٹر ناصر عباس نیر(مابعدجدیدیت اس بات کو اپنی راہ کا پتھر نہیں بناتی کہ ادب کو کیسا لکھا جانا چاہئے ،یعنی کوئی اجنڈا نہیں دیتی، تخلیق کار کو لکھنے کی آزادی دیتی ہے۔)آزادانہ کام کرنے کی ترغیب دینا مابعدِ جدیدیت کا اہم نکتہ ہے جسے سرسری انداز میں نہیں دیکھا جا سکتا۔کیوں کہ یہی نکتہ بذات خود مابعدِ جدیدیت کے خلاف اس وقت جاتا ہے جب اسی نظریے کا پرچار کرنے والے ادب کو ان سوالات کی روشنی میں پرکھتے ہیں جو بہر حال تنقیدی تھیوری کے زیرِ اثر اٹھائے جاتے ہیں اور ایک تخلیق کار کو انہیں سوالات کے تحت پابند بنادیتے ہیں اور اس کی فکری آزادی کا نعرہ لگا کر اس کی اس آزادی کو صلب کر لیتے ہیں۔اس اعتبار سے جدیدیت زیادہ وسیع امکانات رکھتی ہے کیوں ایک طرف تو یہ واضح ادبی تھیوری ہے اور دوسری طرف نفسیاتی حوالے سے اد ب کی تفہیم کرتی اور رویوں کی پرکھ پرچول کرتی ہے۔یہ بات بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ حالی کے علاوہ تمامی نقاد بدیسی نظریات کے ساتھ اس خطے کے ادب کو دیکھنے کی سعی کرتے آرہے ہیں۔میرا ماننا ہے کہ اپنی مٹی کے خمیر سے اٹھے ہوئے ادب کے لئے اپنی مٹی میں گندھا ہوا تنقیدی نظریہ ہی صحیح معنوں میں یہاں کے ادب کے تفہیم کرسکے گا ورنہ ہم تنقیدی مباحث میں الجھ کر نہ تو اپنے ادب کی خدمت کرسکتے ہیں اور نہ ہی عالمی سطح پر اپنا تشخص قائم کر سکتے ہیں۔ ہماری تہذیبی صنفِ سخن غزل نے روایت کے ساتھ کڑی سے کڑی ملاتے ہوئے اپنا سفر طے کیااور ان موضوعات کو بھی چھیڑا جو کلاسیکی یا نیم کلاسیکی غزل کا حصہ کبھی نہیں بن پائے ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ تمام موضوعات ان ادوار میں موجود تھے ہی نہیں،موجود تھے مگر ا ن کی صورت آج سے مختلف تھی۔ معاصر غزل لکھنے والے شعرا اپنے اپنے تخلیقی وفورکے مطابق نئے سے نئے موضوعات کو غزل کا حصہ بنانے میں مصروف ہیں۔ عمار اقبال ایسے ہی شعرا کی فہرست میں رہتے ہوئے بھی ان سے الگ کھڑا نظر آتا ہے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں تفکر سے کام لیتا ہے ۔ اپنی شاعری کے لئے اپنی تمام تر حسیات کو بروئے کار لاتا ہے اور زندگی کے ہر جذبے کو اپنی گرفت میں لانے کے لئے انھیں اپنی ذات کے اندر اتار لیتا ہے ۔اسے اپنے ذات کے انکشاف سے لطف آتا ہے اسی لئے وہ بار بار اپنے وجود کے اندر ڈبکی لگاتا ہے اور ہر بار ایک نئے انکشاف کے ساتھ دوبارہ سانس لیتا ہے۔اس کے لئے یہ قطعی اہم نہیں کہ ہر بار اپنی ذات کے انکشاف کا تجربہ مثبت علائم ہی لے کر آئے ،اس کایہ عمل جز وقتی نہیں۔اسے جیسا جیسا جس جس انداز میں اپنا آپ دریافت ہوتا ہے وہ اسے تسخیر کر لیتا ہے۔ تسخیر کا یہ عمل انفعالی متن کو جنم دیتا ہے اور صفحہ قرطاس پر بکھرتا چلا جاتا ہے۔انفعالی متن کا مطلب ہر گزصرف یہ نہیں کہ کوئی رجعت پسندی ہی کو اپنے تجربے کاحاصل سمجھے ۔عمار جیسا شاعر انفعالی متن کے اندر داخل ہو کر اسکے اندر ایسی ان دیکھی تبدیلی لے کر آتا ہے کہ معنی اپنے تمام تر مثبت توانائی کے ساتھ قاری پر کھلتا ہے۔
میں اپنی خستگی سے ہو ا اور پائیدار
میری تھکن سے مجھ میں توانائی آئی تھی
میں نے تصویر پھینک دی ہے مگر
کیل دیوار میں گڑی ہوئی ہے
دشت گذرا ہے میرے کمرے سے
اور دیوار و در کھڑے ہوئے ہیں
ایک بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ جدیدیت اگر نفسیاتی اساس پر تنقید کی بنیاد اٹھاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تخلیق کار اپنے تما م تر رویوں میں روایت کے ساتھ انحراف کرتے ہوئے بھی اپنا رشتہ روایت کے ساتھ استوار کرنے پر مجبور ہے کیوں کہ جبلی طور پر یا جینیاتی حوالے سے گذشتہ کا رنگ رس لاشعور میں بہر حال اپنا کام کر رہا ہوتا ہے۔عمار اقبال اپنے تمام تر معاملات میں مختلف ضرور ہے مگر وہ جینیاتی جبر سے آزاد نہیں۔
میں کیفیاتِ درد کولکھتا چلا گیا
اتنا لکھا کہ درد کا دیوان کر دیا
بولتا کچھ نہیں تھا میں لیکن
یاد مجھ کو کہا سنا سب تھا
ٖغم قصیدے پڑھ رہے ہیں میرے دل کی شان میں
اور بڑھتی جا رہی ہے وسعتِ دربارِ دل
یہ اشعار اس بات کا واضح اشاریہ ہیں کہ جدید سے مابعدِ جدید تک سفر کرنے والا ہرشاعر اپنی شعریات میں روایت سے منحرف ہونے کے باوجود بھی گذشتہ سے تعلق نہیں توڑ سکتا ۔اور اگر ایسا ممکن ہو بھی جائے تو پھر وہ شاعری موجود تہذیبی رویے میں تنہائی کے احساس کے ساتھ ہی دم توڑ جائے گی۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ عمار اپنے اندر کے انکشاف کو منفی اور مثبت دونوں انداز میں یکساں طور پر قبول کرتا ہے یا رد کرتا ہے اور اپنے کشف کو شعر ی اظہار میں لے آتا ہے۔ اس کے ہاں ایک اور مختلف صورت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے تجربے سے حاصل ہونے والے عمودی نتائج کوصعودی صورت میں تخلیق کا حصہ بنا کر قاری کو حیران کر دیتا ہے۔
کیا قیامت کسی پہ گذرے گی
آخری آدمی بناتے ہوئے
مجھے لباس نہیں آئنہ بدلنا ہے
کوئی بتائے میں کس آئنے میں اچھا ہوں
عمار اقبال کے اشعار کے مطالعے کے دوران ایک نکتہ بار بار اپنی طرف متوجہ کرتا ہے کہ روایت کے تحت اگر ہم تغزل کو اپنی تخلیقی رویے کا حصہ بنائیں تو ہم معاصر شعرا کی بیشتر غزلیات سے لطف اندوز کیسے ہو سکتے ہیں ۔ معاصر شاعری جن موضوعات کو جس انداز میں اپنے اندر سرعت کے ساتھ سمو رہی ہے اس بات کا احساس اور بھی شدید ہوجاتا ہے کہ ظفر اقبال کے عہد میں لکھی جانے والی غزلیات کے لئے غزل اور تغزل کے مروج روایتی ڈھانچے سے نکل کر ایک نئی تعریف کا تعین کرنا پڑے گا نہیں تو ظفر اقبال سمیت تمام سر پھرے شاعر ، شاعر ہی نہیں رہیں گے۔ عمار اقبال کے ہاں تغزل کاپیمانہ اس کے اپنے ذہن کی تخریب کا نتیجہ ہے۔
آزما لوں تجھے وفا پیکر
تجھ کو راہِ فرار دوں؟ اچھا!
اور کتنی گھماؤ کے دنیا
ہم تو سر تھام کر کھڑے ہوئے ہیں
وہ نیلی جل پری نغمہ سرا تھی
اسے سن کر سمندر سو گیا تھا
کیا ہوا تھا ذرا پتہ تو چلے
وقت کیا تھا گھڑی بناتے ہوئے
سخن آرا تمھیں معلوم ہے کیا؟
تمھارا کچھ نہ کہنا شاعری ہے
میں نے جتنا تمھیں بتایا تھا
لوگ اتنے ذلیل ہیں کہ نہیں
جز خدا واقفِ غم کوئی نہیں ہے میرا
اس کو معلوم ہے تنہائی میں کیا ہوتو ہے
جب بھی سوچا کہ سائے میں بیٹھوں
میرے رکتے ہیں چل پڑی دیوار
پرندگی میں ایسی صفات موجود ہیں جو قاری کو اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہیں ۔ ان صفات کی طرف دیکھنا اور اس کی نفسیاتی بنیادوں پر تفہیم کرنا ضروری ہے ورنہ کوئی شاعر ،شاعر نہیں اور کوئی شعر ،شعر نہیں رہے گا۔ کتاب میں شامل غزلیات قاری پر نقش چھوڑکر واپس کتاب کے اندر سستانے لگتی ہیں اور قاری کی حیرت پر تبسم کرتی ہیں ۔ عمار اقبال کا شعری رویہ مختلف ضرور ہے مگر اس کا مطلب ہر گز نہیں کہ اسے الگ نظر آنے کی وجہ سے دریافت ہی نہ کیا جائے۔پرندگی میں شامل غزلوں اور نظموں کو دریافت کرنے کے لئے ان کے ساتھ سانس لینا پڑے گا ،انھیں بسر کرنا پڑے گا دوسری صورت میں یہ شاعری عمار اقبال کی طرح خود کو اپنے آپ میں اتار لے گی اور قاری پر منکشف ہونے کے بجائے معتکف ہوجائے گی۔





Comments