نثری نظم کا مقدمہ



آج پچاس ۰۵ برس گزرجانے کے بعد بھی ”نثری نظم“ کا مقدمہ لڑنے یا اس کا جواز پیش کرنے کی اگر کوئی ضرورت واقعی موجود ہے تو اسے عبرت ناک صورت حال ہی قراردیا جاسکتا ہے۔آزاد نظم کے زمانے بھی کم و بیش اسی نوع کے اعتراضات داغے گئے تھے لیکن وہ گرَد نسبتاً جلدی بیٹھ گئی۔ جب کہ نثری نظم کی بابت ایسا نہیں ہوا اور مجھے ایسا ہوتا دکھائی بھی نہیں دیتا۔وجہ صاف ظاہر ہے کہ یہ صنف روایتی اصناف ِ سُخن سے انحراف کی شدید ترین صورت ہے۔اس لیے امکان یہی ہے کہ اسے طویل عرصے تک رد و قبول کے مراحل سے گزرنا پڑے گا۔

قمر جمیل لکھتے ہیں: ”نثری نظم دراصل اردو شاعری کی روایات سے انحراف ہے،نظم ِ معریٰ اور آزاد نظم کی طرح ہلکی پھلکی نہیں بلکہ اردو شاعری کی تاریخ میں عظیم ترین بغاوت ہے۔اس بغاوت نے ہمیں شاعری کی ایک بین الاقوامی روایت سے جوڑدیا ہے“۔ اور آپ جانتے ہی ہیں کہ سیدھے سبھاﺅ کی جانے والی شاعری سے دو صدیوں سے آشنا اور مانوس اذہان ایک ایسی صنف کو کیسے برداشت کرسکتے ہیں جو انہیں شدید ترین جھٹکا دیتی آرہی ہے۔ یہاں مجھے راشد کی بات یاد آگئی جو انھوں نے کسی مکالمے کے دوران ڈاکٹروزیرآغا سے کہی۔ وزیرآغا لکھتے ہیں:

”ایک ملاقات کے دوران میں نے راشد سے پوچھا کہ:’ آپ نے نثری نظم کو شاعری کے زُمرہ میں کیوں سمجھا؟ کیا واقعی آپ نثری نظم سے وہی کیفیت حا صل کرسکتے ہیں جو ایک آزاد یا پابند نظم سے حاصل ہوتی ہے!؟‘ راشد صاحب کا جواب تھا کہ’ نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔ایک آنچ کی کسر واضح طور پر موجود ہے مگر میں سوچتا ہوں کہ جب ہم نے نظمِ آزاد کا آغازکیا تھا تو لوگ اسے بھی شاعری نہیں سمجھتے تھے مگر وقت نے بتایا کہ وہ شاعری تھی۔اسی طرح اگر کل کلاں نثری نظم بھی شاعری ثابت ہوگئی تو میں بلاوجہ رجعت پسند قرارپاﺅں گا لہٰذا کیوں نہ ابھی اسے تسلیم کرلوں۔“

آغا صاحب نے اپنی جانب سے تبصرہ کیاکہ یہ تو اس دہریے والی دلیل ہے جو یہ سوچ کر خداکے وجود کو تسلیم کرلیتا ہے کہ کل کلاں اگر خدا واقعی موجود ہواتو اس کا انجام کیا ہوگا!وزیرآغانے ”اوراق“میں نثری نظم کو جگہ دی لیکن ”نثرِ لطیف“ کے نام سے۔گویا ’نثرِ کثیف ‘ بھی کوئی چیز ہواکرتی ہے۔لیکن کیا یہ کمال کی بات نہیں کہ خودانہوں نے نثری نظم لکھی اور اسے ”نثر ِ لطیف “کے بجائے نظم کے طور پر ”ادبیات“ میں شائع بھی کرایا تھا۔نثری نظم پر بنیادی اعتراضات بے شمار اور کلیدی نوعیت کے حامل ہیںمثلاً نثر اور نظم، بہ یک وقت دونوں کس طور ایک صنف میں یک جا ہوسکتے ہیں؟۔نثر میں شاعری کیسے؟۔”نثری نظم “ کے نام میں شترگربگی ہے۔عروض سے باہر۔ نثر ممکن ہے، شاعری نہیں ۔

اس طرح کے اعتراضات یا سوالات کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ جو شاعر ۔عروض پر دسترس نہیں رکھتے ، اس صنف کو آسان جان کر ،مشقِ سُخن کرنے لگ جاتے ہیں۔یہ بے بنیاد باتیں بھی نہیں لیکن معاملہ یوں ہے کہ ان تمام تر سوالات کے باقاعدہ جواب دیئے جاچکے ہیں۔سوالات کا اُٹھانا، تنقید کا کام ہے۔ان سے معاملہ کرنابھی نقاد ہی کو زیب دیتا ہے۔ایسی تنقید کو اگر بلاتعصب اور توجہ سے پڑھ لیا جائے تو بہت سی دھند بہ آسانی چھَٹ سکتی ہے۔لیکن، اب یہ بحث کہیں چلتی دکھائی نہیں دیتی۔نہ نثری نظم کی مخالفت میں کوئی شدت ہی رہی ہے۔کوئی بحث میری نظر سے ایسی نہیں گزری جو اس صنف کے جواز پر کوئی پُرزور سوال اُٹھا رہی ہے۔اس لیے میرا ایمان ہے کہ یہ صنف ِ شاعری میں اپنی جگہ بناچکی اور ہمارا شعری سفر۔اس کے بغیر مکمل قرار دیناممکن نہیںرہا۔لیکن اس کامطلب یہ بھی نہیں کہ اس بابتConsensus ہوچکا۔ایسا ممکن نہیں۔آج بھی آپ کو ایسے لکھنے والے مل جاتے ہیں جو نظمِ آزادتک کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔وجہ صاف ظاہر ہے کہ اوسط درجے کے شاعر کو غزل کافی و شافی لگتی ہے اور جس سطح کا تخلیقی تجربہ ایسے شاعروں کا ہے، غزل واقعی ان کے لیے کافی ہے۔یہاں معاملہ استطاعت اور باطنی ضرورت کا ہے،یعنی نئی اصناف یا نئے اظہاری قرینوں کی تلاش اور دریافت غیر معمولی شعرا¿ کا ہی دردِ سر ہے اور ماضی میں بھی رہا ہے۔یہ ایسے تخلیق کار رہے ہیں ،جنہیں روایت اصناف اپنے اظہار کے لیے ناکافی محسوس ہوئیں۔ اور وقت نے انھیں درست ثابت کردکھایا۔

میرے نزدیک نثری نظم کوئی تجربہ نہیں ہے بلکہ شعری اظہار کی ایسی صورت ہے جو فطری طور پر تخلیق کاروں کے منہ زور اور شدید داخلی تجربے کی ناگزیر ضرورت تھی۔ تو میری پہلی گزارش یہی ہے کہ اسے ”تجربے“ کے منصب پر فائز نہ کیا جائے، کیوں کہ ہو یہی رہا ہے کہ جس طرح دیگر تجربات پر کامیابی یا ناکامی کا حکم لگادیا جاتا ہے، وہی سلوک اس صنف کے ساتھ بھی کیا جاتا رہا ہے۔نظمِ آزادبھی اس لیے تجربہ نہیں تھی وہ بھی بالآخر ہماری شعری ضرورت ہی ثابت ہوئی۔تجربے میں ارادے اور مہم جوئی یا Adventurism کو زیادہ دخل ہوتا ہے اور اس کے وسیلے سے اکثر اوقات مقاصد کے حصول کی خواہش کو کارفرما دیکھا جاسکتا ہے۔ ایسی ”نثری نظم“ کی تخلیق محض تنقید کو دعوت دینے کے برابر ٹھہری ہے۔

شعری اصناف میں غزل ہماری قدیم ترین فارم ہے جو ہماری ادبی اور تہذیبی زندگی سے ناقابل ِ تردید تعلق رکھتی ہے اور غالباً آئندہ بھی رکھے گی۔لیکن اس کے ساتھ یا پہلے کی اصناف کیوں غائب یا معدوم ہوگئیں؟؟۔زمانے کے بدلنے سے اس کا تعلق ثابت ہے۔حتٰی کہ مرثیہ بھی اس نوع کا اب نہیں لکھا جاتا جیسا میر انیس نے لکھا،لیکن غزل کو ردکرنا بھی اتنا ہی انتہا پسندانہ طرزِعمل ہے جتنا نثری نظم کو قبول نہ کرنا،جو لوگ تغیر کو زندگی کی اساس جانتے ہیں وہ ایسا کربھی نہیں سکتے۔ میر کے زمانے میں مرغ کی اذان سے بستیاں جاگ جایا کرتی تھیں لیکن غالب تک آتے آتے ۷۵۸۱ء کی جنگ ِ آزادی کا ہمیں سامنا کرنا پڑا۔اقبال اُس زمانے کا شاعر ہوا جب انگریز اس خطّے سے رخصت ہورہے تھے اور یہاں مستقبل کے منصوبے بنائے جارہے تھے۔آپ آگے آتے جائیں اور اس تاریخی تسلسل کو آج تک دیکھتے چلے جائیں تو ہمیں یہ جاننے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی کہ اب ہماری غزل ’عورتوں سے گفتگو‘ کیوں نہیں رہی اور اسے اب اس التزام سے گایا کیوں نہیں جاتا جیسا کبھی ماضی قریب تک میں بھی ہورہا تھا۔

قیام ِ پاکستان کے بعد کی شاعری، پہلے کی شاعری سے مختلف ہے اور ۰۶ ءکی جدیدیت تک آتے آتے یار لوگوں نے غزل پر خط ِ تنسیخ پھیر دیا،اسے دقیانوسی صنف ِ سخن قرارد ے کر رد کردیا گیا۔اور یہ کوئی حیران کن عمل نہیں تھا۔لیکن اس قدیم صنف کی بقاءکے لیے کم از کم اتنا ضرور ہوا ہے کہ اس میں تبدیلیاں لانے کے لیے کام کا آغازکیا گیاتاکہ اسے وقت کے ساتھ ہم قدم ہوکر چلنے والی صنف ثابت کیا جاسکے۔یوں ظفراقبال سامنے آئے جنہوں نے اس صنف کی حدبندیوںکے اندر رہ کر توڑپھوڑ کا کام شروع کیا۔اسے اندر سے تبدیل کیا تاکہ اس کا جواز فراہم ہوسکے۔ظفر اقبال کے ساتھ ساتھ ہم چند ایک اور نام بھی یہاں لے سکتے ہیں:سلیم احمد،محمد علوی، انورشعور، عادل منصوری وغیرہ، اس مشق سے نتیجہ کیا برآمد ہوا؟یہی نا کہ اگر ’ہنومان‘ پر بات کرنی ہے ،’پنکچویشن‘ کو پٹخنی دینی ہے یا ”سلیم و ریاض“کو مخاطب کرنا ہے تو ایسا کرکے دکھایا تو جاسکتا ہے لیکن آپ نہ بحر کے ساتھ چھیڑ خانی کرسکتے ہیں ،نہ ردیف اور قافئیے کا کچھ بگاڑسکتے ہیں۔یہ وہی زمانہ ہے جب راشد،میراجی اور ان کے ساتھی آزاد نظم کو اپنے قدموں پر کھڑا کرچکے تھے اور مجید امجد ایسی نظم لکھ رہے تھے جو آخر آخرنثری آہنگ کے اس قدر قریب آگئی کہ نثری نظم سے مشابہ ہوگئی۔

’نئی نظم‘ کی تحریک کا آغاز ہوا، لسانی تشکیلات کی ضرورت پر اصرار سامنے آیا۔گویا جو نظم ِآزاد ایک طرح کی بغاوت بن کر سامنے آئی تھی، ابھی اسے بہت کم عرصہ گزراتھا،ابھی تو اسے بھی نظرِ ثانی کی ضرورت درپیش تھی۔پھر اسی مقام پر”نثری نظم“ ظہور پذیر ہوگئی، کیوں؟ کیا اس وقت غزل اور آزاد نظم موجود نہیں تھی؟۔ کافی نہیں تھی؟دراصل تخلیقی کام ۔فرد کیا کرتے ہیں اور کسی بھی ادب کو، کسی بھی حوالے سے پرکھنے کے لیے ہمیں اسی صورت حال کو پیش ِ نظر رکھنا چاہئیے۔کہ شاعر یا ادیب اپنے زمانے سے جُڑا ہوا ایک باشعور انسان ہوا کرتا ہے اور اس کے داخلی مسائل ہمہ وقت خارجی حالات سے منسلک رہتے ہیں۔ یوں اس کا وہ باطن صورت پذیر ہوتا ہے جو تخلیقی تجربہ اور پھر اس کے اظہار کی صورت کا تعّین کرتا ہے۔آپ اگر غور کریں تو انہدامِ پاکستان کا ملبہ جس نسل پر گِرا، سب سے زیادہ نثری نظم بھی اسی نسل نے لکھی۔ اس کے بعد زندگی کی رفتار مزید بے ہنگم اور تیز تر ہوتی چلی گئی اور اسی تناسب سے اس خطّے کے انسان کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوتا چلاگیا۔

نیا شاعر، اسی تناظر میں زندہ ہے۔غزل کے متعین سانچے کو چھیڑیں تو خرابی۔ آزاد نظم کو اُلٹ پلٹ کردیں تو بھی انتشار کے سواکچھ ہاتھ نہیں آئے گا تو پھر جس انتشار کا خود شاعر کو سامنا ہے اور جسے بیان کرنے کا ارادہ اس نے باندھ رکھا ہے ،وہ نثری نظم کیوں نہ لکھے!

آپ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ صنف دراصل شہری زندگی کی پیداوار ہے جو مذکورہ سیاسی و سماجی تبدیلیوں کا مرکز ہے، ان تبدیلیوں کو جنم دیتی ہے۔یہاں فرد ایک ایسی زندگی کے رُوبَرو ہے جہاں اس کے لیے، اس کی انفرادیت کے لیے کوئی جگہ موجود نہیںاور یوں اسے اپنے ہونے کے جواز کے سوال کا سامنا تھا۔ اور ہے!

جیلانی کامران لکھتے ہیں:

”نئی شاعری کی ضرورت اس لیے ہے تاکہ وہ تنہائی جو ہمارے دلوں میں ہے۔اس احساس سے حوصلہ پکڑسکے جو احساس ہمیشگی سے پیداہوتا ہے۔نیکی،خوشی اورخوب صورتی لازوال ہیں اور انسان انہی کا متلاشی ہے۔“

گویا، ایک تو ہمارے عہد کو نئی شاعری کی ضرورت تھی دوسرے تنہائی جسے حوصلہ دیے جانے کے لیے خوشی اور خوب صورتی کا حصول لازمی ٹھہراتھا۔ یہ ”نیا پَن“ کس طرح پیداہوسکتا تھا!جس شاعر نے اس معاملے اور مسئلے کو شناخت کیا اپنے اندر اس نئے پن کو دریافت کیا اُسے ہی اصناف کی بابت مشکلات پیش آئیں۔ شعرائے کرام کی اکثریت کا یہ دردِ سر ہے ہی نہیں۔ تھا ہی نہیں۔ یوں بھی دیکھا جائے تو ہر دور میں اسی تناسب سے کاٹھ کباڑ موجود رہا ہے۔اس کی وجوہات پر بات کرنا لاحاصل ہے لیکن اعلیٰ شاعری مقدار میں ہمیشہ کم ہواکرتی ہے۔اور بہت کم شعراءایسے باصلاحیت اور بہادر ہوا کرتے ہیں کہ وہ اس نئے پن کے لیے کوئی خطرہ بھی مول لے سکیں۔ ”نثری نظم“ میں شاعری تو یوں بھی خاصے حوصلے اور بہادری کی متقاضی تھی کہ اس صورت میں نہ آپ کو داد ملنے والی تھی اور نہ اسے گائے جانے کا ہی کوئی امکان تھا۔

گویا یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ نثری نظم لکھنے والے ،مدار سے باہر نکل کر جینے اور زندگی کو بیان کرنے پر خود کو مجبور پاتے ہیں۔لیکن بات کو سمجھنے اور آگے بڑھانے کے لیے یہاں ان مباحث کو درج کرنا نامناسب نہ ہوگا تاکہ ہم دلائل کو خواہ مخواہ دہرانے کے بجائے جان سکیں کہ نثری نظم کو بطور شعری صنف کب کا قبول کیا جاچکا ہے۔نثراور نظم کے امتیازکی بابت سب سے زیادہ سنجیدگی سے اور جم کر جس نقاد نے لکھا وہ ہیں شمس الرحمن فاروقی۔ ۷۰۰۲ءسے ۸۰۰۲ءمیں ادبیات اسلام آباد نے ایک ضخیم نثری نظم نمبر شائع کیا جس میں ان کا ایک طویل مضمون شامل ہے۔ اس میں انہوں نے مختلف ادوار میں اس صنف پر اپنی آراءکا ازسرِ نو حوالہ دیتے ہوئے ایک نئی بات کہی ہے،اس کی طرف بعد میں آتے ہیں۔مضمون ”نثری نظم یانثر میں شاعری“ میں وہ لکھتے ہیں:

”اگرچہ یہ درست ہے کہ کبھی کبھی نثر نظم بن سکتی ہے لیکن نظم کبھی نثر نہیں بن سکتی۔اس تبدیلی ¿ جنس کا اصول دو پہلو نہیں بلکہ یک راہ ہے۔ٹیگور کی ’گیتانجلی‘نثر میں ہے لیکن نظم ہے۔ نظم کی سب سے بڑی پہچان اُس کی زبان ہوتی ہے۔“ (۲۶۹۱ئ)

”جب تک ہم عروض کی بے جا بندشوں سے اپنے کانوں کو آزاد نہ کرلیں Speech Rhydhm میں نظم کہنا تو بعد کی بات ہے ،انہی شاعری کے حجرہ ¿ ہفت بلا سے نکل نہ پائیں گے۔ نظم و نثر کا امتیاز عروض کی حد ِ فاصل سے نہیں کیا جانا چاہیے۔“(۷۶۹۱ئ)

”نثری نظم میں شاعری کے دوسرے خواص کے ساتھ موزونیت بھی ہوتی ہے لہٰذا اسے نثری نظم کہنا ایک طرح کا قولِ محال استعمال کرنا ہے۔اسے نظم ہی کہنا چاہیئے“(۳۷۹۱)

زبان کی اہمیت کا حوالہ ظفراقبال نے یہی دیا ہے اور بعض اور لکھنے والوں کا اصرار بھی یہی ہے کہ شاعری کا تعین اس کی زبان کرتی ہے۔بحور یا عروض نہیں۔ظفر اقبال نے اس صنف سے جو تقاضے کیے ہیں ،وہ مندرجہ ذیل ہیں:

”نثری نظم موزوں نظم کے مقابلے میں تاثیر کی زیادہ متقاضی ہے ورنہ وہ نثر ہی ہوکر رہ جائے گی۔۔۔علاوہ ازیں نثری نظم کا اختصاص یہ ہونا چاہئیے کہ وہ اپنا جوازبن سکے اس میں ایک زور اورو فور ہونا چاہئیے کہ اسے نثر کہنے سے بچایاجاسکے۔ “

وہ مزید لکھتے ہیں،

”نثری نظم کے مستقبل گیر صنف سخن بن جانے کے امکانات اس لیے بھی روشن ہیں کہ اس کے لیے شاعرانہ ذہن کا ایک ہونا ہی کافی ہے۔اس لیے نہ وزن کی پابندی ہے نہ قافیہ، ردیف کی۔ گویا کوئی بھی اس پر طبع آزمائی کرسکتا ہے اور کیوں کہ یہ زیادہ تعداد میں تخلیق کی جائے گی لہٰذا لامحالہ اس میں کم و بیش عمدہ شاعری کے امکانات بھی انہی جگہوں پر موجود ہیں“۔

یہاں ایک آدھ مغربی حوالہ بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا:

رسل ایڈسن لکھتے ہیں:

"We want to write free of debt or obligation to literary form or idea; free even from ourselves, free from our own expectation. There is more truth in the act of writing than what is written." ©

Russel Edson

نثری نظم کے خال و خدکی بابت Micheal Benedik لکھتے ہیں:

"It is a genre of poetry, self consciously written in prose & characterized by the intense use of all devices of poetry"

یہاں بھی ظفر اقبال والی بات کی گئی ہے، یعنی ”Intense use‘ جسے ہم وفور اور شدّت کہتے ہیں۔ آگے بڑھنے سے پہلے میں وفور اور شدت کے ساتھ ساتھ یہ اضافہ کرنا چاہوں گا کہ نثری نظم تب بھی تخلیقی ضرورت بن جایا کرتی ہے اگرآپ نے بالکل مختلف بات کا اظہار کرنا ہو۔مثلاً ہم سارہ شگفتہ،عذراعباس ، نسرین انجم بھٹی اور ثروت حسین کے ہاں شدت صاف دیکھ سکتے ہیں۔لیکن افضال احمد سید اور عبدالرشید کی نظم مختلف بات کہنے کے شعری ارادے کا نتیجہ ہے۔اس حوالے سے بہت سی مثالیں اور بھی دی جاسکتی ہیں۔

اب ذرا اس صنف کو شاعری کی نگاہ سے دیکھتے ہیں پہلا سوال تو یہی ہے کہ ہیئت یا فارم کا تعیّن دراصل کون کرتا ہے؟ یہ کس کا کام ہے؟ اک ایسا شاعر جو عروضی اصناف میں کامیاب فنی اظہار کرتا چلا جاتا ہے اس پر اچانک کیا اُفتاد آن پڑتی ہے کہ وہ نثری نظم لکھنے کی طرف مائل ہوجاتا ہے؟ یہ فیشن ہوتا تو کوئی بات بھی تھی، یہ تو عُرف ِ عام میں”غیر مقبول اور معتوب“صنف ہے جسے شاعری تک ماننے سے انکار کیا جاتا ہے۔تو کیا اس عمل کا مطلب خود کو اور اپنی شناخت کو سخت خطرے میں ڈالنے کے مترادف نہیں؟ مجھے خود اس بات کا تجربہ ہے۔۷۹۹۱ء میں جب میری شاعری کا مجموعہ ’آخری دن سے پہلے‘ شائع ہوا اور میں نے اعلان کیے بغیر اس میں نثری نظمیں شامل کردیں تو احمد ندیم قاسمی کتاب ہاتھ میں لیتے ہی فرمانے لگے” اس پر تبصرہ میں خود کروں گا“۔ورق گردانی کرتے کرتے وہ اچانک رُک گئے اور ایک صفحے پر اُنگلی رکھ کر بولے’یہ تو نثری نظم ہے؟“۔جب میں نے اثبات میں سر ہلایا تو انہوں نے کتاب بند کرکے ایک طرف رکھ دی جو پھر وہیں پڑی رہ گئی۔

 

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مانوس مناسبتوں سے آزاد ہوکر بات کرنا نہ توآسان کام ہے نہ مقبول، اس لیے میں پورے ایمان کے ساتھ اسے شاعری کی باطنی ضرورت سمجھتا ہوں اور اس حقیقت سے بھی مفر نہیں کہ تخلیق ، دراصل اپنا صلہ آپ ہوا کرتی ہے۔میرے ساتھ تو معاملہ کچھ اور عجیب ہوا۔میں غزل کبھی کبھار ہی لکھتا ہوں مگر اساتذہ سے تازہ دم شعراءتک کی غزل میری نگاہ میں رہی ہے۔مجھے کوئی شعر پسند آجائے تو دُنیا بھر کو سناتا پھرتا ہوں۔لیکن میں نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ کبھی باقاعدہ اس صنف کی جانب آﺅں گا۔۱۰۔۰۰۰۲ءمیں اچانک مجھ پر جیسے دورہ سا پڑگیا اورمیں نے نظم کے ساتھ ساتھ غزل بھی بے تحاشا لکھنا شروع کردی۔پوری زندگی اتنی تیز رفتاری سے میں نے کبھی شاعری نہیں کی ۔انہی دنوں حلقہ ¿ ارباب ِ ذوق کا سالانہ اجلاس ہوا جس کی صدارت ظفر اقبال نے کی ،انہوں نے اپنے خطبہ ¿ صدارت میں میرا نام لے کر فرمایا”کہ یہ شخص جب اتنی اچھی نظم لکھ سکتا ہے تو اسے غزل کہنے کی ضرورت کیا ہے؟“ میں دنگ رہ گیا۔ہے ناں مزے کی بات کہ بعض اوقات غزل گوئی پر بھی اعتراض داغا جاسکتا ہے ۔بعد میں ان سے ملاقاتوں میں ہمیشہ اصرار کرتا رہا کہ میرے اندر جو طوفان شور مچاتا ہے وہی اس بات کا تعّین کرتا ہے کہ میرے اظہار کی صنف کیا ہوگی۔اور غزل گوئی بھی میری بے بسی ہی کا نتیجہ ہے۔ بطور شاعر میں اِن لکھنے والوں کی مجبوری بھی سمجھ سکتا ہوں جنہوں نے عروضی اصناف میں سرے سے کوئی کام کیا ہی نہیں لیکن ان کی شاعری کا مطالعہ مجھے یہ احساس نہیں دلاتا کہ میں شاعری نہیں کچھ اور پڑھ رہا ہوں۔یہاں میں اس بات کی وکالت نہیں کررہا کہ عروض پر دسترس کا حصول کوئی کارِ لاحاصل ہے لیکن ’نثری نظم‘ لکھنے کے لیے یہ کوئی لازمی شرط بھی نہیں کہ پہلے آپ ثابت کریں کہ روایتی اصناف میں لکھ سکتے ہیں اور پھر اس نئی صنف میں طبعیت کو آزمائیں۔

نثری نظم کو لکھنے یعنی تحریر کرنے کے حوالے سے بھی مختلف مشورے دیے¿ جاتے ہیں،کہ اسے پیراگراف کی شکل میں لکھنا چاہیے کیوں؟اس لیے کہ پڑھنے والے کو آغاز ہی میں معلوم ہوجائے کہ جو چیز وہ پڑھنے جارہا ہے وہ وزن میں نہیں ہے۔یہ مضحکہ خیز دلیل ہے۔جس قاری کو مطالعے سے پہلے یہ بتانا پڑے کہ©’ ’جناب یہ تحریرعروضی یا غیر عروضی ہے‘ ‘ پھر اسے کوئی اور زرخیز کام کرنا چاہئے،ادب کا مطالعہ نہیں ۔پیراگراف کی صورت میں عروضی نظم بھی لکھی گئی ہے اور لکھی جاسکتی ہے اور اس کا بنیادی مقصد یہ رہا ہے کہ پوری نظم میں وحدت ِ خیال کے حوالے سے ایک تسلسل موجود ہوتا ہے۔اگر ایسا کسی نثری نظم میں بھی ہے تو اسے پیراگراف کی صورت میں لکھا جاسکتا ہے۔لیکن جہاں نظم مرحلہ وار اور وقفے دے کر آگے بڑھتی ہو،اسے یہ صورت دینا ممکن ہی نہیں اور نامناسب ہی ہوگا کہ اس صورت میں پیراگراف محض انتشار ہی پیداکرے گا۔گویا یہ فیصلہ بھی ہمیں شاعر پر چھوڑدینا چاہئے۔

نثری نظم پڑھتے ہی بعض لوگ چیخ اُٹھتے ہیں۔اسے تو وزن میں بھی کیا جاسکتا ہے۔اور میرے ذاتی مشاہدے میں ایسی مشقیں آتی بھی ہیں لیکن کیا ایسی مشق کسی بھی متن پر خواہ وہ فکشن ہو یا کچھ اور نہیں کی جاسکتی!اس صنف کا تو کمال ہی یہ ہے کہ یہ بغیر کسی سہارے کے تنے ہوئے رسّے پر چل کر دکھانے کا فن ہے۔نیز اگر تخلیق کار خود اِسے وزن میں کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوئے بھی اسے اسی صورت میں پیش کرنا چاہتا ہے تو آپ کو کیامصیبت ہے کہ فتوے صادر فرماتے رہیں۔زیادہ سے زیادہ آپ اسے پڑھے بغیر آگے گزرجائیں۔آخر ہم بھی تو ایسے کلامِ موزوں کے ڈھیروں سے گزرتے انہیں جھیلتے رہتے ہیں جن میں کوئی ایک مصرع دامن نہیں پکڑپاتا۔

خیر یہ طویل بحث ہے۔ اور بات سے بات نکال کر کہیں کی کہیں پہنچائی جاسکتی ہے۔لیکن میں یہاں یہ یقین رکھ چکنے کے بعد کہ نثری نظم ہمارے شعری نظام کا لازمی اور اہم حصّہ بن چکی ہے،اس سوال کی جانب آناچاہتاہوںجوفاروقیصاحب نے اپنے مذکورہ بالا مضمون ادبیات میں اُٹھایا ہے۔وہ اس صنف کو ’نظم‘ مان چکنے کے بعد لکھتے ہیں:”اس وقت جو سوال حل کرنے کا تھا وہ یہ تھا کہ آیا نثری نظم ہمارے ادب میں ایک صنف کی حیثیت سے قائم ہوچکی کہ نہیں؟“۔اس سوال کا جواب وہ نفی میں دیتے ہیں۔اور ان کا خیال یہ ہے کہ ہرچند یہ ایک شعری صنف ہے لیکن آگے نہیں چل سکی۔قائم یا استوارنہیں ہوپائی اور اس نتیجے کی دلیل کے طور پر وہ ایک پیمانہ ہمارے سامنے رکھتے ہیں قبولیت کا؛ ”جب کسی صنف یا ہیئت کو خراب،کمزور یا نوآمدہ فن کار ہی اختیار کرلیں اور کئی نسلوں تک ایسا ہی ہوتا رہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اب یہ صنف یا ہیئت قائم ہوگئی،کیوں کہ خراب،کمزور یا نوآمدہ فن کار تجربے کا کڑاکشٹ نہیں کاٹ سکتے۔“

یہ ایک دلچسپ دلیل ہے اور ہمیں یقینا اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔فاروقی یہ تو تسلیم کر رہے ہیں کہ نثری نظم کو اپنانے والے اتنے طاقت ور شاعر ضرور ہیں کہ وہ ’تجربے‘ کا کڑاکشٹ کاٹ سکتے ہیں۔ تو یہاں پہلا سوال تو یہی پیداہوتا ہے کہ کیا اعلیٰ تخلیق کار اس صنف کو محض اس لیے اپنانے سے گُریز کریں یا اس میں لکھنا ترک کردیں کہ اس میں ادنیٰ اور معمولی صلاحیتوں کے فن کار مشق ِ سُخن سے پرہیز کرتے ہیں؟ کیا’ پکاسو‘ روایتی آرٹ کا ماہر نہیں تھا جو مقبول ترین صورت تھی اُس زمانے کی۔پھر اُس نے تجریدی آرٹ والا خطرہ کیوں مول لیا!

نئی صنف ہمیشہ ایسے لکھنے والوں کی مرہون ِ منّت رہی ہے جو پذیرائی سے بے نیاز اس میں کام کرتے چلے جاتے ہیں اور بالآخر اسے قائم کرکے دم لیتے ہیں۔اور یہی نثری نظم کے ساتھ بھی ہوا ہے۔فاروقی دراصل یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ’نثری نظم‘ اس لیے صنف ادب کے طور پر قائم نہیں ہوسکی کہ اس میں ہر ایرا غیرا،اپنی طبعِ رواں کو آزمانے سے گُریزاں ہے۔گویا وہ اسے مقبولیت کے پیمانے پر پرکھ رہے ہیں۔ایک نقطہ ¿ نظر اس سے بالکل اُلٹ بھی ہے۔اسے ایک طرف رکھتے ہوئے ہم اگر فکشن کو دیکھیں تو آپ کو ان گنت افسانہ نگار دکھائی دیتے ہیںلیکن ناول؟وہ کتنے لکھے گئے ہیں؟ اور کتنے فکشن نگار ’ناول‘ لکھنے کا کڑاکشٹ کاٹ سکتے ہیں۔یا اس کا ارادہ ہی رکھتے ہیں؟ تو کیا اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا درست ہوگا کہ ’ناول‘ بطور ِ صنف قائم نہیں ہے؟

شاعری میں تاحال مقبول ترین صنف تو بہرحال غزل ہی ہے کہ ہر ایراغیرا، اسی بیچاری کے ساتھ رومانس کا آغازکرتا اور اسی کے عشق میں دم توڑدیتا ہے۔ہزاروں کی تعداد میں لکھی جانے والی ان غزلوں میں سے چمکتے ہوئے اشعار کتنی تعداد میں برآمد ہوتے ہیں؟ پھر تو نظمِ آزاد بھی کوئی کوئی ہی لکھتا ہے اور نظم معریٰ تو خال خال ہی کہیں دکھائی دیتی ہے۔جہاں تک ان کے اس تاثّر کا تعلق ہے کہ سنجیدہ تخلیق کار اسے لکھنا ترک کرچکے ہیں تو اس کی نفی کے لیے کسی قسم کی دلیل کی ضرورت نہیں۔یہ خلاف ِ حقیقت بات ہے۔

وہ ساتھ ہی یہ بھی لکھتے ہیں کہ” کئی نسلوں تک ایسا ہوتا رہا ہے“۔ پیمانے کے طور پر یہ ایک درست بات ہے لیکن ۲۶۹۱ءمیں سامنے آنے والی صنف کو آج پچاس۰۵ برس گزرے ہیں اور اس عرصے میں صرف تین نسلیں ہی ممکن تھیں۔اور اس میں سے پہلی نسل کو نکال دیں کیوں کہ انہوں نے اپنے کیریئر کے آخری برسوں میں اس کا ڈول ڈالا۔

اگلی نسل تک آتے آتے نثری نظم کے باقاعدہ مجموعے شائع ہونے شروع ہوگئے۔یہ سلسلہ تیسری نسل تک جاری و ساری ہے۔اور آثار یہی بتارہے ہیں کہ ہر چندقبولِ عام کی سند ملنے کی منزل۔ قریب نہ سہی، لیکن ایسا ہوتا صاف دکھائی دے رہا ہے۔وہ نسلیں جو ابھی پردہ ¿ غیب سے نمودار ہی نہیں ہوئیں ان کو ذہن میں رکھیں تو شاید غزل ان کے لیے اجنبی صنف ِ سُخن قرارپائے لیکن یہ دیکھنا بھی باقی ہے اور ہم آپ تو اسے دیکھ نہیں پائیں گے اور قیاس یہی ہے کہ لکھنے والوں کے قافلے جو آئندہ آئیں گے ان کے سامنے چونکہ صرف غزل ہی نہیں ہوگی، اس لیے وہ زیادہ سہولت سے اصناف کی بابت انتخاب کا حق استعمال کرسکیں گے۔

شاعر کا بنیادی کام اپنے تجربات کی فن کارانہ ترسیل ہے۔اور ان تجربات کا مرکز اس کا باطن ہوا کرتا ہے،وہ باطن، جو خارج سے اثرات قبول کرتا،تبدیل ہوتا رہتاہے۔محض خارجی موضوعات پر شاعری کی اثر انگیزی کا بھرم کب کا کھُل چکا۔تو گویا کھرا تخلیقی اظہار اپنی اصل میں ”آمد“ ہی ہُوا کرتا ہے اور یہی آمد ہیئت اور اظہاری قرینے کا تعّین کرتی ہے۔بعد کی نظر ثانی اور جانچ پڑتال فنکارانہ حربہ ہے جس کی اہمیت اپنی جگہ ثابت ہے لیکن وہ کسی فن پارے کی تخلیق میں کوئی کردار ادانہیں کرتی۔تو پھریہ شاعر کے اندر کی آواز ہے جو شعر کے قالب میں ڈھلتی ہے۔جسے ہم سہولت کے لیے داخلی آہنگ کا نام دے لیتے ہیں۔

اس آہنگ اور کیفیت کو جب ہم غزل میں ڈھالنا چاہتے ہیں تو سخت پابندیاں سامنے آن کھڑی ہوتی ہیں۔بحر کیا ہو،قافیہ ردیف کس طرح کے ہوں!وغیرہ وغیرہ۔تو عین اسی وقت ۔آپ ایک تبدیل شدہ صورت حال کے رُوبرو کھڑے ہوتے ہیں۔جو آپ کو اپنی بات اُس طرح سے کہنے کے راستے میں بڑی رکاوٹ دکھائی دینے لگتی ہے،جس طور وہ آپ کے اندر پیداہوئی تھی۔اس لیے صنفِ غزل پر قابل ِرشک دسترس کے حصول کے بغیر خودکوٹھیک سے بیان کرنا بھی کسی کسی کوآتا ہے۔اور جتنا آتا ہے وہ بھیfrom cup to lipsکے درمیان آنے والی بہت سی slips سے گزرکرآتا ہے۔اور خالص نہیں رہتا یا پورانہیں ہوتا بلکہ کچھ ایسے اشعار بھی دَر آتے ہیں جن کا آپ کے شعری تجربے سے دُور دور کا واسطہ بھی نہیں ہوتا۔بہت باکمال اور شاندار غزل گو شعراءکے پورے کلام کو پڑھ کر دیکھیں،ان اشعار کا تناسب حیران کن حد تک کم ہے،جنہیں ہم شاعر کا حقیقی نمایندہ قراردے سکتے ہیں یا جن کو ہمیشہ یاد رکھنے پر خود کو آمادہ پاتے ہیں۔اسی بنیاد پر۔عام سطح کا غزل گو بھی کبھی کبھار کوئی ایسا شعر نکال لیتا ہے جسے ضرب المثل تک کا درجہ حاصل ہوجاتا ہے اور جسے ہم ”سرزد“ہونا کہتے ہیں

آزاد نظم میں صورت حال بہتر ہوجاتی ہے اور رکاوٹیں قدرے کم۔اور نثری نظم میں غایت۔یہاں مقصد کسی ایک صنف کو رد کرنا نہیں۔لیکن سمجھنے سمجھانے کے لیے یہ حقائق ہمارے پیشِ نظر رہنا چاہئیں۔تو ثابت یہی ہوتا ہے کہ اگر ہم اپنے اظہار اور مواد کے درمیان رکاوٹ کم سے کم موجود پاتے ہیں تو ایسا صرف نثری نظم ہی میں ممکن دکھائی دیتا ہے۔

شاعر کا باطن یک رُخا نہیں ہوتا۔نہ وہ خلاءمیں رہتا ہے،وہ ایک ایسا فرد ہے جو اپنے طریقے سے زندگی کو جھیلتا ہے،اس کے مقابل جتنے آئینے ہیں،جتنے رُخ ہیں اسی حوالے سے وہ خود کو اور اپنے عہد کو دیکھتا ہے۔نثری نظم اس سارے تخلیقی عمل میں، اس کے ساتھ فطری طور پر ہم آہنگ ہے۔

دیگر شعری اصناف کے برعکس۔ نثری نظم کے حوالے سے تاحال کوئی معروضی پیمانہ تشکیل نہیں پاسکا جسے ہم ایک معیار کے طور پر شناخت کرسکیں۔مختلف شعراءنے اسے اپنے اپنے مزاج اور شعری تربیت کے مطابق تخلیق کیا ہے،اس لیے اس میں تنوع ہے،آوازوں کی ورائٹی ہے جو کہیں کہیں مماصل تو کہیں کہیں اس طور مختلف ہوجاتی ہے، جس طرح دو انسان ایک دوسرے سے الگ شناخت کے حامل ہواکرتے ہیں۔نثری نظم کو Speech Rhydhm کی شاعری بھی کہا جاتا ہے جو غلط ہے کہ تقریر شاعر کا نہیں،خطیب،مقرّر،مصلح،سیاست دان وغیرہ کا کام ہے،جو اپنی آواز کے زَیر وµ بم سے اپنے سامعین میں کوئی مطلوبہ ردِّ عمل پیداکرنے کی کوشش کرتا ہے اورہر حوالے سے یہ ایک خارجی عملے ہے۔اِسپیچ میں جو رِدھم ہے وہ خارجی ہے اور اسے ہم ”خارجی آہنگ“کا نام ہی دے سکتے ہیں جب کہ شاعر کے اندر جو کہرام مچاہے،جو موسیقی ہے،جو شورہے،اُس کا معاملہ داخلی آہنگ سے ہے۔ یہ صنف جتنی آسان دکھائی دیتی ہے، اسی قدر مشکل ہے، کیوں کہ یہاں آپ کو کسی بھی قسم کی کوئی اوٹ یا سہارامیسر نہیں جس کے پیچھے چھپا جاسکے۔آپ کی شخصیت کی حقیقت کُھل جاتی ہے۔آپ کا فکری پہلو،جذباتی حوالہ،تصوّراتی اور جمالیاتی گہرائی سب کچھ سامنے آجاتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں وہ شاعر۔ جو کم تر یا معمولی صلاحیت کے حامل ہیں،اگر یہ نظم لکھنے بیٹھ جائیں تو یک پرتی،بے رس نثر کے سوا کچھ برآمد نہیں ہوتا۔ کیوں کہ اس صنف میں کسی کمال کے ’سرزَد‘ ہونے کا سرے سے کوئی امکان ہی نہیں ہے۔اسی لیے میں یہ تسلیم نہیں کرتا کہ اس صنف کے فروغ نے تخلیق کاروں میں سہل انگاری پیداکی ہے۔معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے کہ تمام تر شعری اصناف میں سب سے زیادہ ذمہ داری کی متقاضی ” نثری نظم“ ہی ہے۔

انورسن رائے لکھتے ہیں:

”تخلیقات بھی انسانوں کی طرح ہوتی ہیں جیسے انسانوں کو سمجھنے کے لیے اپنی شرائط نافذ کرنا نامناسب ہے اور سمجھنے میں رکاوٹ بن سکتا ہے اسی طرح تخلیق کے ساتھ بھی ہوتا ہے“۔

وہ مزید لکھتے ہیں:

” نثر کی شاعری یا نثری شاعری اس امتیاز ی آہنگ پر اصرار کرتی ہے جو فرد کی شناخت ہوتا ہے اور میرے نزدیک فر د کی انفرادیت کی بقا اور اظہار دوسرے مقاصد سے زیادہ اہم ہیں،رہا یہ اعتراض کہ ایسی سہولت سے تو ہر کوئی شاعر ہوجائے گا تو یہ میں کہتا ہوں کہ اگر ہوجائے گا تو اس میں کیا قباحت ہے! شاعر ہی ہوگا،کوئی چور، ڈاکو یا لٹُیرا تو نہیں ہوگا“۔

اگر آپ کو یہ صنف بالکل گوارانہیں ،پسند نہیں تو سوائے اِس کے کوئی اور چارا نہیں کہ آپ اسے پڑھنے سے گُریز کریں کہ اس پر کوئی آپ کو مجبور نہیں کرے گا۔لیکن یاد رہنا چاہئے کہ اس کا راستا روکنا ناممکن ہوچکا ہے

 

( ایک وضاحت ..اس مضمون کو تحریر کرنے کے لیے جس دوست نے فرمائش کی انہوں نے " نثری نظم کا مقدمہ " کا عنوان دیا ..نثری نظم کی اصطلاح میرے نزدیک درست نہیں .یہ نظم ہے اور اسے صرف نظم ہی کہا سمجھا اور لکھا جانا چاہیے)






مصنف کے بارے میں


...

ابرار احمد

1954 - |


دور حاضر میں ادبی منظر نامے پر جگمگاتا ہوا ایک اہم نام جناب ابرار احمد کا ہے جن کی شاعری ان کی شخصیت کی طرح نہایت پر تاثیر اور باکمال ہے۔ آج کل آپ لاہور میں مقیم ہیں اور حلقہ ارباب ذوق کے رکن ہیں، ادبی سرگرمیوں میں پیش پیش رہتے ہیں۔ 6 فروری 1954 کو جڑانوالہ میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ الاصلاح ہائی سکول چنیوٹ سے میٹرک کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور سے انٹر اور نشتر میڈیکل کالج ملتان سے (MBBS) میڈیسن میں گریجویشن کی۔ پنجاب میں مختلف شہروں میں ڈاکٹر کی حیثیت سے ملازمت کے فرائض انجام دیے اور ۱۹۸۸ میں لاہور شہر میں رہائش اختیار کی۔ آپ 1980 سے باقاعدہ شاعری کر رہے ہیں اب تک آپ کے دو مجموعہ کلام منظرِعام پر آ چکے ہیں نظموں پر مشتمل پہلا مجموعہ کلام " آخری دن سے پہلے" 1997 میں اور غزلوں پر مشتمل دوسرا مجموعہ کلام "غفلت کے برابر" 2007 میں شائع ہوا۔




Comments