"دشتِ غزل میں ۔۔۔۔۔ چند معروضات



شعری بصیرت اور تخلیقی تجربہ وسیلۂ اظہار کے لیے کسی صنفِ سخن سے کامل ہم آہنگی کا تقاضہ کرتا ہے اور صنف کے چناؤ کا تعلق دیگر عوامل سے کہیں زیادہ شاعر کے اپنے تجربات، مزاج اور اُفتادِ طبع سے ہے۔ کئی باکمال شاعر ایسے بھی ہیں جنہوں نے خود کو کسی ایک صنف تک محدود نہیں کیا لیکن عمومی طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ ہر قابل ذکر شاعر کی شناخت غزل یا نظم میں سے کسی ایک سے زیادہ وابستہ ہو جاتی ہے۔ لیاقت علی عاصم نے اس حوالے سے عزل کو اپنایا اور اُس کی عمر بھر کی وابستگی اِس بات کی دلیل ہے کہ یہ ہیئت اس کی باطنی جدوجہد سے مکمل طور پر ہم آہنگ تھی۔ ہر چند اُس نے چند نظمیں بھی لکھ رکھی ہیں لیکن میرے نزدیک وہ بہرحال غزل ہی کا شاعر ہے۔ یعنی وہ صنف جو صدیوں سے اُردو شاعری میں کلیدی اہمیت کی حامل رہی ہے اور جسے کلیم الدین احمد سے لے کر افتخار جالب تک نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ آج بھی غزل کو تنقید کا سامنا ہے اور اس کی وجوہات بھی موجود ہیں۔

60ء کی نئی نظم کی تحریک میں اس صنف کو باقاعدہ نظریہ سازی کے ذریعے رَد کر دیا گیا اور نظم کی ترویج کے لیے بھی لسانی سطح پر روایتی زبان سے انحراف کو عصری تقاضا قرار دیا گیا لیکن لطف کی بات یہ ہوئی کہ اس تحریک کو اگر کوئی تخلیقی مثال فراہم ہوئی ہے تو وہ غزل میں تھی۔ یعنی ظفر اقبال کی “گل آفتاب” یہاں ظفر اقبال کے لسانی تجربات پر طویل بات ہو سکتی ہے لیکن لاکھ اختلافات کے باوجود مرے نزدیک نئی نظم کی تحریک نے اُردو شاعری کو کئی حوالوں سے ثروت مند بھی کیا لیکن یہ بحث یہاں زیادہ متعلق نہیں ہے۔

ہماری اور ہمارے بعد آنے والی نسل کی غزل پر اس کشمکش کے اثرات صاف دیکھے جا سکتے ہیں۔ کراچی کی غزل کا شروع سے ہی ایک خاص مزاج رہا ہے اور سلیم احمد اور انور شعور کے علاوہ میرے ذہن میں کوئی نام ایسا نہیں آ رہا جس نے انحراف کی راہ اپنائی ہو۔ عمومی طور پر غزل اُس دھارے سے وابستہ رہی ہے جسے ہم اُردو غزل کی عظیم اور قدیم روایت کا نام بھی دے سکتے ہیں۔ یعنی ایسی غزل جو ہماری تہذیبی شناخت کے طور پر ایک قدر کا درجہ رکھتی ہے۔ اس غزل میں لُطفِ سخن بھی ہے، زبان کی چاشی بھی، گہرائی بھی اور لسانی توڑ پھوڑ سے مکمل گریز بھی۔

لیاقت علی عاصم نے بھی اپنا ناتا اسی غالب دھارے سے استوار کیا ہے۔ اُس کی غزل میں بھی وہی اوصاف پائے جاتے ہیں جو اس صنف کا امتیاز رہے ہیں۔ عاصم نے صنف میں تجربہ کرنے کے بجائے اپنے تجربے کو اُس کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا کام کیا ہے۔ یہ کام آسان نہیں تھا اور ریاضت کے ساتھ ساتھ کامل فنی دسترس کا تقاضا کرتا ہے۔ اُس کے “کلیات” کی اشاعت ایک خوش کن جُز تو ہے ہی لیکن ساتھ ساتھ یہ احساس بھی ملال انگیز ہے کہ میرے قریبی معاصرین ایک طرح سے اپنے کام کے مکمل یا ختم ہوئے کا اعلان بھی کرنے لگے ہیں۔ اِسی احساس نے میرے ذہن میں کچھ سوالات بھی پیدا کیے۔ مڑ کر دیکھنے پر مجبور بھی کیا۔

ہم لوگ جب نوجوان تھے تو ہمارے سامنے۔ شاعر ایک ہیرو کے مقام پر فائز تھا۔

دشتِ غزل میں آگے دیکھ
ہم تو غزال ہوگئے.........
(جون ایلیا)

ہم سے پہلی نسل کے شاعر، ایک حوالے سے ہمارے لوگوں کے لیے رہنما کا درجہ رکھتے تھے۔ اُنہیں بہت جلد شہرت بھی مل گئی۔ آج بھی غزل کی بات چلے تو وہی نام دوہرا دیے جاتے ہیں۔ فیض، ناصر کاظمی، جون ایلیا، منیر نیازی، محبوب خزاں، رئیس فروغ، عزید حامد مدنی، رسا چغتائی اور بہت سے اور نام۔ تو پھر ایسا کیا ہوا کہ اُن کے بعد کی پوری نسل آج منظرِ عام سے غائب ہے؟ بات محض عاصم کی نہیں، ہماری پوری نسل کی ہے۔ حالانکہ میں یہاں لیاقت عاصم سمیت بہت سے ایسے نئے شعراء کے نام درج کر سکتا ہوں جو مذکورہ بالا سینئر اور معروف شعراء سے اگر بہتر نہیں تو کسی طور اُن سے کم تر درجے کے حامل تخلیق کار بھی نہیں ہیں۔ ظاہر ہے اس صورت حال کے اسباب ہمارے خارج میں با آسانی تلاش کیے جا سکتے ہیں۔

مجھے یہ کل کی بات لگتی ہے کہ احمد فراز کا نام میں نے پہلی مرتبہ “امروز” کے اُس ادبی ایڈیشن میں دیکھا جس کے مدیر احمد ندیم قاسمی ہوا کرتے تھے۔ اُنہوں نے فراز کی نظم “میں کوئی کرنوں کا سوداگر نہیں” کا تجزیہ دو اقسام میں کیا۔ ریڈیو کا زمانہ تھا۔ ٹی وی پر ابھی ایک ہی چینل تھا۔ مذکورہ بالا شاعر، گلوکاروں کے ذریعے ہم تک پہنچے۔ شہر شہر مشاعرے ہوا کرتے تھے اور لوگ ذوق و شوق سے جایا کرتے تھے۔ پورا معاشرہ ان اقدار پر اُستوار تھا جہاں ادب اعلی ترین انسانی سرگرمی خیال کیا جاتا تھا۔ شہروں سے دیہات تک اِس خوش گوار، پُرامن اور محبت بھرے ماحول نے صرف شاعری ہی نہیں، موسیقی اور دیگر فنونِ لطیفہ کو بھی ہماری ثقافتی اور سماجی زندگی کا بامعنی حصہ بنا رکھا تھا۔

پھر دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ ہی بدلتا چلا گیا۔ سیاسی جبر، مذہبی تعصب، جنگ اور دہشت گردی کے عفریت سب کچھ نکلتے چلے گئے۔ بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے عمل نے ہمارے لوگوں کو دنیا بھر میں بکھیر دیا۔ ہم یہاں بے گھر ہوتے چلے گئے تو یہ لوگ وہاں جلا وطن۔ مشاعرے کا ادارہ تماشا بن گیا۔ ٹی وی چینلز میں ادب کی جگہ معدوم ہوگئی اور اخبارات میں کبھی کبھار آدھے ادھورے صفحات پر ایسے بلیک میلر قابض ہوگئے جو ذاتی منفعت اور مفاد کے بغیر ادب کی کوئی خبر تک نہیں لگاتے۔ ایسے میں اصل شاعری کا بھاؤ کون لگاتا اور اب انٹرنیٹ نے ایک نئی طرح کا انقلاب برپا کر دیا ہے جس کا ارتعاش گھر گھر پہنچ چکا ہے۔ سوشل میڈیا کو میں بوجوہ غنیمت خیال کرتا ہوں کہ کم از کم اس ذریعے سے شاعری لوگوں تک پہنچنا شروع ہو گئی ہے۔

یہ نہیں ہو سکتا کہ دنیا آگے نہ بڑھے۔ سائنس ترقی نہ کرے، زمانہ تبدیل نہ ہو، لیکن ہماری نسل کے ساتھ گڑبڑ یہ ہوئی کہ یہ سب تبدیلیاں اسی کی عمرِ عزیز کے مختصر دورانیے میں اتنی تیزی اور شدت سے رونما ہوئیں کہ اُن کے ساتھ ہم قدم ہوا ہی نہیں جا سکتا تھا۔ گویا ایک طویل عبوری دور ہم لوگوں پر بیت گیا۔ یا پھر اُس کے ساتھ ہم بیت گئے۔

لیکن یہ معاشرے میں ترقی کی منازل، جدید زندگی کا شور حتیٰ کہ جنگیں بھی ادب کا کچھ بگاڑ نہیں پائیں۔ اسی لیے مجھے یقین ہے کہ اس دبیز دھند میں سے بہت کچھ نمودار ہوکر رہے گا اور اس سے مراد ہمارے معاصرین کا شان دار تخلیقی کام بھی ہے۔ جس کی آب و تاب کو محسوس کیا جانے لگا ہے اور جو اپنا آپ منوا کر رہے گا۔

بظاہر یہ باتیں شاید غیر متعلق لگیں لیکن اگر غور کریں تو انھیں ذہن میں رکھے بغیر ہماری نئی شاعری کو سمجھا نہیں جا سکا۔ اب لیاقت علی عاصم کی جانب آتے ہیں۔ کوئی 15 برس قبل میں نے معاصر غزل پر ایک مضمون لکھنے کا ارادہ باندھا جس کا عنوان تھا “بیسویں صدی کے اواخر کی غزل” جو گل بکاولی لاہور ( مدیر مرزا حامد بیگ ) اور “شب خون” انڈیا میں شائع ہوا۔ اِس مقصد کے لیے میں نے نمایاں غزل گو شعراء کے کلام کو ڈھونڈ ڈھانڈ کر پڑھا اور اپنے پسندیدہ شاعروں کی ایک فہرست مرتب کی۔ تماشا یہ ہوا کہ چند برس پہلے میرے انھی پسندیدہ شعراء میں سے ایک حضرت نے پورے مضمون سے تمام نام نکالے اور اِسے اپنے مجموعہ غزل کے دیباچے کے طور پر کتاب میں یوں ٹانک دیا جیسے وہ سب اوصاف جو میں نے گنوائے، محض اُنھی کی غزل میں پائے جاتے ہوں۔ میں دیکھتا ہی رہ گیا اور مروت میں کچھ کہہ بھی نہ سکا۔

خیر تو اس مضمون میں جن شعراء کے کلام کا تفصیلی تذکرہ موجود ہے، لیاقت علی عاصم کا نام اُن میں سرِ فہرست تھا، اب دیکھوں تو اُن شعراء میں سے چند ایک ہی ایسے رہ گئے ہیں جنہوں نے اپنے تخلیقی سفر کو اُسی لگن، معیار اور وابستگی سے جاری رکھا ہوا ہے اور عاصم اُن میں نمایاں ترین ناموں میں سے ایک ہے۔

عاصم نے بھی ہم سب کی طرح ایک پُرآشوب عرصۂ حیات گزارا ہے۔ اس پر مستزاد اُس کا ایک کاسموپولیٹن شہر میں ہونا اور شہر بھی ایسا جو کئی عشروں سے تشدد اور عدم تحفظ کی لپیٹ میں ہے اور جس میں کئی عوامل ایسے ہیں جو فرد کو بے دست وپا، غیر محفوظ اور تنہا کردینے کے لیے کافی ہیں۔

محبت تنہا آدمی کا مضبوط ترین سہارا بھی ہے اور اُس کے ہونے کا جواز بھی۔ محبت انسان سے جنسِ مخالف سے، اپنے گھر اور اپنی مٹی سے، اپنے ہونے سے، تو عاصم کی شاعری کا مضبوط ترین حوالہ محبت کا یہی تجربہ اور احساس ہے جس کی کوکھ سے دوسرے احساسات جنم لیتے چلے جاتے ہیں:

جانے کس زخم کی نسبت سے مجھے دیکھتا ہے
وہ غزال آج بھی وحشت سے مجھے دیکھتا ہے

میرے چہرے میں کسی اور کا چہرہ تو نہیں
جانے وہ کس کی رعایت سے مجھے دیکھتا ہے

محبت کا احساس اپنے ساتھ فنا کی مہک بھی 
لے کر آتا ہے یعنی محبت اور موت گویا باہم ناگزیر دکھ ہیں اور یہی انسان اور اِس کی زندگی کے بنیادی سوالات اور حوالے ہیں لیکن 
اِس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اُسے قیامت خیز ہنگاموں سے بھری دنیا دکھائی نہیں دیتی۔ یہ بنیادی جذبے دراصل دیگر خارجی معاملات سے اپنا ناتا جوڑ کر اُس کی شاعری میں ظہور کرتے ہیں:

شام تھی اور راستوں کا ہجوم
کچھ نہ طے ہو سکا گھر گئے ہم
٭٭٭٭٭
چاہتے ہیں رہیں بیدار، غمِ یار کے ساتھ
اور پہلو میں غمِ یار کے سو جاتے ہیں
٭٭٭٭٭
مجھے دوراہے پہ لانے والوں نے یہ نہ سوچا
میں چھوڑ دوں گا یہ راستہ بھی، وہ راستہ بھی

ہر ایسے تخلیق کار کی طرح، جسے اپنے تجربے کی سچائی اور اظہاری قرینے پر کامل اعتماد ہے، عاصم بھی داد و تحسین سے بے نیاز رہا ہے، نہ اُس کو مشاعروں میں زیادہ دیکھا گیا، نہ اُس کا تعلق کسی لابی سے ہے، حتیٰ کہ خود میری اُس سے ملاقات تو رہی، ایک طرف کبھی ٹیلی فون پر بات تک نہیں ہو پائی اور یہ جو تحریر آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں، برادر عزیز قیصر منور کے محبت بھرے اصرار کے بغیر شاید لکھنے میں بہت دیر لگا دیتا۔ دراصل تعلقاتِ عامہ آپ کو منظر عام پر تو لے آتے ہیں، کسی نہ کسی نوع کا مقام بھی آپ کو مل جاتا ہے لیکن کسی جگہ مستقل قیام کی ضمانت صرف آپ کا کام ہی ہوا کرتا ہے۔ اِسی لیے کل کے بہت سے معروف نام آج کسی کو یاد تک نہیں۔ وقت کے اپنے فیصلے ہوا کرتے ہیں اور عاصم اس حقیقت سے کما حقہ آگاہ رہا ہے۔ وہ خود میں لگن، اپنی ہی دھن میں مسلسل نغمہ سرا رہا ہے۔

میں اُسی شاخ پر ہوں نغمہ سرا
جس سے تم اڑ گئے تھے گاتے ہوئے
٭٭٭٭٭
نیا خیال نہ باندھا تو شعر صرف ملال
نیا لباس نہ پہنا تو عید کچھ بھی نہیں

لگے ہاتھوں گھر سے اُس کی نسبت کی بات بھی کرتا چلوں کہ گھر اُس کی شاعری میں محض پناہ گاہ نہیں ایک پوری دنیا ہے، جس میں رشتوں کا تنوع اور اُن کی باہمی کشمکش اُسے اپنے ہونے کا جواز فراہم کرتی ہے۔ لاتعداد اشعار اُس کے کلام میں موجود ہیں جو گھر کی خواہش، گھر میں ہونے کی خوشی، گھر کی تقسیم کا دکھ سے عبارت ہیں۔ گھر کے حوالے سے اُس کے ہاں ایک ہمہ گیر تصور دیکھا جا سکتا ہے:

عجب مقام ہے دشتِ خیال بھی عاصم
جو گھر بنا نہیں، اُس گھر کا شور سُنتا ہوں
٭٭٭٭٭
گھر کی تقسیم کے سوا اب تک
کوئی تقریب میرے گھر نہ ہوئی
٭٭٭٭٭
تو نے آنے میں بہت دیر لگا دی مرے دوست
اب مرے گھر کا تعلق نہیں ویرانی سے

لیکن اُس کی دنیا محض گھر نہیں ہے، سماج اور اُس کی چیرہ دستیاں بھی اُسے گھایل کیئے رکھتی ہیں۔ جدید زندگی کی ترجیحات میں کھو جانے والے دوست، معدوم ہوجانے والی اقدار اور ان سب کے درمیان خود اُس کی تنہائی، بطور معاشرہ ہماری بے سمتی اور ہر جانب سے مسلسل یلغار کرتے انسان کش عوامل اُسے بھی بے ٹھکانہ کیے رکھتے ہیں:

کچھ مسائل ہیں کہ رکھتے ہیں مجھے گھر سے پرے
کچھ تقاضے ہیں کہ جو جانبِ در کھینچتے ہیں

معروضی سطح پر حالات کے جبر نے عدم تحفظ اور فرد کی نفی کا احساس تسلسل اور شدت سے پیدا کیے رکھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے تخلیق کاروں میں ایک نوع کی داخلیت پسندی در آئی ہے۔ ظاہر ہے میں اِس مریضانہ خودپسندی اور ذات میں سمٹ جانے کی بات نہیں کر رہا جو نرگسیت سے پیدا ہوکر ایک طرح کے “خبطِ عظمت” کا روپ دھار لیتی ہے۔ ہر تخلیق کا مرکز بہرحال انسان کا باطن ہی ہوا کرتا ہے۔ تو کہنے سے مراد یہ ہے کہ ہماری نسل کے اکثر شعراء مزاجاً تنہا ہیں یا پھر تنہا کر دیے گئے ہیں کہ معاشرے میں اُن کی دیوانگی یا Non-conformity کے لیے گوئی گنجائش موجود نہیں۔ معاشرے، میڈیا، سماجی تقریبات، جس نوع کی منافقت کا ہم سے تقاضا کرتی ہیں، اِس کا مظاہرہ کسی بھی سچے تخلیق کار کے لیے ممکن ہی نہیں ہوا کرتا اور اُس کی تنہائی، اُسے روکتی ہے کہ وہ اِس بے ہنگم شور کا حصہ نہ بنے۔ یہ تنہائی دراصل اُس کی محافظ بھی ہے، اُس کی طاقت بھی اور کم زوری بھی۔

لیاقت علی عاصم بھی اِس تخلیقی تنہائی اور بامعنی علیحدگی سے دوچار ہے۔ وہ اگر پُر اعتماد ہے تو اپنے کلام کی ممکنہ طاقت کی سبب، اپنی وابستگی بے ریا ماہ و سال کی نسبت سے، ہر سچے لکھنے والے کی طرح وہ بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ شاعری ہو یا کوئی اور فن، جان مانگتا ہے اور بے نیازی، اور وہ اسی راستے پر عمر بھر سے چلتا آیا ہے۔

اُس کی شاعری میں موضوعات کا تنوع اور اُن کا بیان طول کھینچ جائے گا۔ اتنا کہہ دینا کافی ہوگا کہ انسانی زندگی، آج جن حالتوں اور کیفیتوں سے عبارت ہے، خود انسان اپنے باطن میں جو انواع و اقسام کی خوشیاں اور روگ پالے رکھتا ہے۔ معاصر ادبی معاملاتِ، سیاسی ابتری، عدم استحکام، گلوبل دنیا کا پھیلاؤ، سرمایے کا ہماری زندگیوں پر غلبہ اور ان سب کے نتیجے میں رونما ہونے والی فکری اور جذباتی اُلجھنیں، یہ تمام کسی نہ کسی حوالے سے اُس کی غزل میں در آتی ہیں۔ لیکن اُس کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ شعر کو شعر ہی رہنے دیتا ہے اور کسی بھی کڑے سے کڑے معیار سے پرکھا جائے، یہ اشعار ہماری توقعات پر پورا اُترنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پھر بھی نشان دہی کے لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ محبت اور تنہائی کا شاعر ہے۔ ایک عاشق کی سی بے نیازی، درگزر اور ملال، اُس کے اندر وہ شعری بصیرت پیدا کرتے ہیں جو روحِ عصر سے ہم آہنگ اور ہم سب کے باطن سے بامعنی مکالمہ ابتدا کرتی ہے۔ ایک اور طرح سے دیکھا جائے تو اُس کی شاعری، اس کے حالاتِ زندگی کا فنی بیانیہ بھی ہے، شاید اسی لیے فرائڈ نے کبھی لکھا تھا:

“اُسلوب، لکھنے والے کی سوانح عمری ہوتا ہے۔”

بطور قاری، میرے نزدیک کسی بھی شاعر کی اصل طاقت اُس کا انفرادی لب و لہجہ ہے جو بلاآخر اُسے ہجوم سے الگ بھی کرتا ہے اور اُس کی اصل شناخت قرار پاتا ہے۔ “کلیات” کے مطالعے کے دوران ہمیں اِس خاصیت کی نشانیاں صاف دکھائی دیتی ہیں لیکن میری مشکل یہ ہے کہ میں نقاد نہیں ایک قاری ہوں۔زیادہ سے زیادہ آپ مجھے ایک “تربیت یافتہ قاری” کہہ سکتے ہیں۔ یہ منصب ہماری تنقید کا ہے کہ وہ تخلیقی کام کی بابت فیصلے سناتے، اُس کی تفہیم کرتے، اور کھرے کھوٹے کو الگ الگ کر دکھاتے۔ لیکن یہ فیصلہ کرنے کا تھوڑا بہت اختیار مجھے بھی حاصل ہے کہ تحریر کا اصل رشتہ تو قاری ہی سے ہوا کرتا ہے۔

بطور قاری، دو دہائیاں قبل، عاصم کے وہ اشعار جو اُس سے میری محبت کی بنیاد بنے اور جنہیں میں آج بھی ادھر اُدھر دوستوں کی محفلوں میں سناتا رہتا ہوں، تو ان چند اشعار نے میرے اندر ایک توقع بھی پیدا کردی اور مجھے بہت خوشی ہے کہ اُس کے کلام نے میرے اندر اُس کی تخلیقی توانائی اور اُس کے شعر میں موجود تاثیر کے حوالے سے اِس ابتدائی تاثر کو مضبوط کیا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بہت سے عمدہ شاعر اپنے ابتدائی دور کے چونکا دینے والے کام سے اگے ایک قدم نہیں بڑھ پاتے اور کسی اور "زرخیز" کام میں صَرف ہوجاتے ہیں اور یوں "ترقی معکوس" کی لاتعداد مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔

میرا مسئلہ یہ رہا ہے کہ اگر شعر مجھے بے ٹھکانہ نہ کرے۔ حالتِ حال میں ارتعاش پیدا نہ ہو، اور دل پر پڑ جانے والے ہاتھ کی طرح اندر نہ اُترے تو میرے لیے وہ بے معنی ہوجاتا ہے، عاصم کے کلام میں یہ وصف تسلسل سے موجود ہے۔ آپ اسے پڑھ دیکھیں، ہر چند اشعار، چند صفحات کے بعد آپ کو، کوئی نہ کوئی شعر روک لے گا۔ شرط صرف یہ ہے کہ اُسے سنجیدہ شاعری کے لیے جس ارتکاز اور گہری نگاہ کی ضرورت ہوا کرتی ہے، اُسے کام میں لاکر مطالعہ کیا جائے۔

آخر میں، مجھے محض اتنا کہنا ہے کہ غزل ایک ایسی صنف ہے، جس کی ادبی اقدار کی پاس داری کرتے ہوئے ہی اس میں کمالات دکھائے جا سکتے ہیں۔ لیاقت علی عاصم کی غزل اُس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ اِس صنف کی خوب صورتی، اس کے مخصوص مزاج اور تہذیبی نشاط سے وابستگی ہی میں مضمر ہے۔ ہمارے جو دوست بوجوہ "کچھ اور چاہیئے وسعت مرے بیاں کے لیے" کے مصداق، اُس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں، اُن کے لیے میدان کھلا ہے۔ وہ دیگر اضافِ ادب یا پھر نظم میں طبع آزمائی کر سکتے ہیں۔

اب میں اپنی معروضات کو ایک طرف رکھتے ہوئے وہ اشعار پیش کرتے ہوئے اجازت چاہوں گا جنہوں نے بس یونہی یہاں وہاں ورق گردانی کے دوران مجھے روک لیا۔ آپ بھی دیکھیے، سر دُھنیے اور اُس کے کلیات میں ایک مثبت توقع کے ساتھ داخل ہونے کی کوشش کیجیے۔ وہ آپ کو مایوس نہیں کرے گا:

پھر کون دیا لایا، پھر کیسی شناسائی
سب شام سے پہلے کی باتیں ہیں مرے بھائی
*****
شاعری رت جگا ہے یادوں کا
یا مری بانوئے خیال کی نیند
٭٭٭٭٭
جانے والوں کا سفر پیشِ نظر ہے کہ نہیں
سب یہیں چھوڑ کے جانا ہے، خبر ہے کہ نہیں

جس کو دیکھو وہ جدائی سے ڈراتا ہے مجھے
اِس محبت میں کوئی دوسرا ڈر ہے کہ نہیں

ہاں مجھے حال سنانے میں کوئی عار نہیں
آپ کے بس میں مگر دیدۂ تر ہے کہ نہیں
٭٭٭٭٭
تم رہو شاد، تم رہو آباد
اس دعا پر دعا، سلام تمام
٭٭٭٭٭
وہ یاد آ گیا تھا اور شام ہوتے ہوئے
ہم بھی رواں دواں تھے، رستا بھی چل رہا تھا
٭٭٭٭٭
حصار عمر سے آگے قدم مشکل سے اُٹھتے ہیں
مگر یہ تیرے وابستہ تری محفل سے اٹھتے ہیں
٭٭٭٭٭
مجھ بدگمانِ عشق کو معلوم ہی نہ تھا
ہوتا ہے ایک بند تو کھلتے ہیں در کئی
٭٭٭٭٭
یہ ذات کے زلزلے بھی کیا کیا ہمارے پیچھے پڑے ہوئے ہیں
ہم اپنے اوپر گرے ہوئے ہیں، ہم اپنے نیچے پڑے ہوئے ہیں

مجال ہے جو کہیں بھی جانے کی کوئی خواہش قریب آئے
ہم اپنے اطراف بے دلی کی کمان کھینچے پڑے ہوئے ہیں
٭٭٭٭٭
ملنے والوں کی جو فہرست بناتا ہوں کبھی
ایک دو دوست بہرحال نکل آتے ہیں
٭٭٭٭٭
ایسا نہ ہو کہ محبس فرصت ہی گر پڑے
کوئی نہیں ہے کام تو کیا سانس لیجیے
٭٭٭٭٭
اُمید و یاس ایک ہی چکی کا شور ہیں
ان گڑ گڑاہٹوں سے نکل، بھول جا اُسے
٭٭٭٭٭
جاتا بھی میں کہاں، غمِ فرصت میں رہ گیا
بے حال ہو کے اپنی ہی حالت میں رہ گیا

صدمے عجیب ہوتے ہیں یعنی بچھڑتے وقت
وہ ہنس رہا تھا اور میں حیرت میں رہ گیا
٭٭٭٭٭
اے جاں گزینِ جاں، یہی دستورِ بزم ہے
آتے رہیں گے لوگ، سرکتے رہیں گے ہم






مصنف کے بارے میں


...

ابرار احمد

1954 - |


دور حاضر میں ادبی منظر نامے پر جگمگاتا ہوا ایک اہم نام جناب ابرار احمد کا ہے جن کی شاعری ان کی شخصیت کی طرح نہایت پر تاثیر اور باکمال ہے۔ آج کل آپ لاہور میں مقیم ہیں اور حلقہ ارباب ذوق کے رکن ہیں، ادبی سرگرمیوں میں پیش پیش رہتے ہیں۔ 6 فروری 1954 کو جڑانوالہ میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ الاصلاح ہائی سکول چنیوٹ سے میٹرک کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور سے انٹر اور نشتر میڈیکل کالج ملتان سے (MBBS) میڈیسن میں گریجویشن کی۔ پنجاب میں مختلف شہروں میں ڈاکٹر کی حیثیت سے ملازمت کے فرائض انجام دیے اور ۱۹۸۸ میں لاہور شہر میں رہائش اختیار کی۔ آپ 1980 سے باقاعدہ شاعری کر رہے ہیں اب تک آپ کے دو مجموعہ کلام منظرِعام پر آ چکے ہیں نظموں پر مشتمل پہلا مجموعہ کلام " آخری دن سے پہلے" 1997 میں اور غزلوں پر مشتمل دوسرا مجموعہ کلام "غفلت کے برابر" 2007 میں شائع ہوا۔




Comments