ڈاکٹر انور سدید کی ڈاکٹر وزیرآغاشناسی



 ڈاکٹر انور سدید کی ڈاکٹر وزیرآغاشناسی/پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم

ڈاکٹرعابدخورشید

۶۱۰۲ءکا سال وزیرآغاشناسی کی روایت کو منضبط کرنے میںاہم سنگ میل ثابت ہوگا ،کہ اِمسال اِس حوالے سے متعدد تحقیقی و تنقیدی کام تکمیل کے مراحل طے کررہے ہیں،اِس کا بھرپور آغاز ،پروفیسرڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کی کتاب ”ڈاکٹر انور سدید کی ڈاکٹر وزیرآغاشناسی“کی صورت ہمارے سامنے ہے۔اِس کتاب میں کُل ۸۳ تحریریں ہیں،جن میں وزیرآغاشناسی کے مختلف زاویوں کو اُردو کے نامور ناقدین نے اپنے مقالوں کا موضوع بنایا ہے۔پہلی تحریر پروفیسر صاحبزادہ عبدالرسول کی بعنوان ”ڈاکٹر انور سدید کی ڈاکٹر وزیرآغا شناسی“ (تقریظ) شامل ہے،جس میں اُنھوں نے کتاب کی افادیت اور انتخابِ موضوع کی داد دی ہے۔بعد ازاں ’ڈاکٹر وزیرآغا شناسی میں ڈاکٹر انور سدید کا کردار“ پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کامضمون ہے ،جس میںاُن واقعات کا اندراج کیاگیا ہے جو ابتداً، ڈاکٹر انور سدیدسے متعلق ہیں اور اِس کتاب کے ابتدائی خدوخال بھی واضح ہوتے ہیں۔ڈاکٹر زاہد منیر عامر کا مضمون ”ڈاکٹر انور سدید کی قلم رو“ اُن جملہ اوصاف کا احاطہ کرتا ہے جس سے ڈاکٹر انور سدید کی علمی و اَدبی حیثیت کونمایاں کرنے میںمددملتی ہے۔’ڈاکٹر انور سدید اور وزیرآغا‘ممتاز عارف کی تحریر ہے ، ایک عہد کے دو بڑے تخلیق کا آپسی دیرینہ تعلق کی کڑیاں کس طرح فطری انداز میں مربوط ہتی ہیں ، یہی اِس تحریر کا موضوع ہے ۔’ڈاکٹرانورسدید‘ یہ مضمون اختر مرزا کا ہے ۔اِس مضمون میں ڈاکٹر انور سدید کی ایسی عادات کا تذکرہ ،اِس میں شامل ہے جو ہر بڑے آدمی میں ہوتی ہیں اور جن کے بل بوتے پر ہی وہ زندگی میں ڈسپلن، یکسوئی اور جڑت سے اپنامقام حاصل کرتا ہے۔ڈاکٹر محمود اسیرکامضمون ’ڈاکٹر انور سدید،اوراق، اور وزیرآغا‘اَدب کی ایسی تکون کو مرتب کرنے کی کامیاب سعی ہے جونہ صرف اُردو اَدب میں نئے رُجحانات کے ارتکاز کا موجب بنی بلکہ آنے والی کئی نسلوں تک اِس کی فیض رسائی کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔طارق حبیب کا مضمون ’وزیرآغاشناسی میں ڈاکٹر انور سدید کا حصہ‘ تجزیاتی مطالعے پر مشتمل ہے ،وہ تحریریں جو اُردو کے نامورنقاد جناب ڈاکٹرانورسدید نے ڈاکٹر وزیرآغا کے حوالے سے تحریر یا مرتب کیں۔پروفیسر یوسف خالد کی تحریر’ڈاکٹر انور سدید کی وزیرآغاشناسی‘مختصر ہونے کے باوجود اپنے اندر وسعت رکھتی ہے ،بنیادی طور پر یہ ڈاکٹرانور سدید کے اُن اَدبی کارناموں کی بازیافت ہے جو اُنھوں نے وزیرآغا کے لیے کیے۔’انورسدید کی وزیرآغا شناسی‘آصف راز کا تحریرکردہ مضمون ہے ،جوکہ ڈاکٹر انور سدید کی ایسی تحریروں کے ذکر پر مشتمل ہے، جو وزیرآغا کی تخلیقات کے حوالے سے ہے۔ڈاکٹر سلیم آغاقزلباش نے ’ڈاکٹر انور سدید کی جائزہ نگاری‘ کا انتخاب کیا ہے ،جو کہ ایسی صفت ہے ،جس نے ڈاکٹرانور سدید کو اُن کے ہم عصروں میں ممتاز کیا ہے اورخاص طور پر ڈاکٹر انورسدید کے سالانہ جائزے ،نئے نئے مباحث کے در وا کرتے اور اخبارات میں کئی کئی اشاعتوں تک اِس کا تذکرہ ہوتا رہتا۔ڈاکٹر سلیم آغاقزلباش نے عمدگی سے اِس موضوع کو سمیٹا ہے۔ ’وزیرآغاشناسی اور ڈاکٹرانورسدید‘از اخلاق عاطف مختصر تحریر ہے جو توصیفی نکات کی حامل ہے۔راقم (عابدخورشید ) کا مضمون’وزیرآغاشناسی کا استعارہ.......ڈاکٹرانورسدید.... ’یادنامہ‘ کے تناظر کو سمیٹنے کی جسارت ہے، جو کہ ڈاکٹر انور سدید کی تازہ تصنیف ہے۔’دیرینہ تعلق کی ایک جہت‘ از ارشدملک،دونوں بڑے تخلیق کاروں کے اوصاف کو ایک منظرنامے میں دیکھنے کی کامیاب کوشش ہے۔’ڈاکٹر وزیرآغا شناسی میں انور سدید کا کردار‘ از ذوالفقار احسن،اِس مضمون میں سوانحی واقعات بھی ہیں لیکن اِس مضمون کے غالب حصہ میںاُن تحریروں کو زیر بحث لایا گیا ہے جو وزیرآغا کے فن اور اُن کی شخصیت کے حوالے سے ڈاکٹر انور سدید نے لکھیں۔اِس کے بعد دو مختصر تحریریںبالترتیب نجمہ منصور ’ڈاکٹروزیرآغا اور ڈاکٹر انورسدید‘ اور سید مرتضیٰ حسن ’ڈاکٹر انور سدید اور وزیرآغاشناسی، تاثرات پر مبنی ہیں۔ذوالفقار احسن کی مرتب کردہ کتاب ’ڈاکٹر انور سدید کے خوابیدہ افسانے‘جو کہ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے ۔اِس کتاب پر،پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کاسیر حاصل تبصرہ شامل کیا گیا ہے ۔بعد ازاں ڈاکٹر انورسدید کی شہرہ¿ آفاق کتاب ،اُردو اَدب کی تحریکیں، کی تقریب رونمائی کے متعلق معلومات دی گئی ہیں۔’ڈاکٹرانورسدید معلومات کی آئینہ میں‘مولف کی جانب سے انور سدید کی سوانحی معلومات کے علاوہ اُن کے تخلیقات کی فہرست بھی درج کی گئی ہے اور ساتھ ہی ’ڈاکٹر انورسدید مفکرین اور اکابرین کی نظر میں!‘ اُردو کے نامور تخلیق کاروں کی تحریرو ں سے اقتباسات شامل کیے گئے ہیں۔اِن کے بعد پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم نے ڈاکٹر انورسدید کی پانچ کتب جن میں’اقبال شناسی اور اوراق‘،’وزیرآغاکے خطوط (انور سدید کے نام)،’یادنامہ........ ڈاکٹر وزیرآغا‘،’مکالمات........ وزیرآغا سے‘ ،”ڈاکٹر وزیرآغا...... ایک مطالعہ‘،اِن کتب پر مفصل تبصرے کیے ہیں۔اِن تبصروں کی اضافی خوبی یہ ہے کہ اُنھوںنے انور سدید کی مذکورہ کتب کے کسی پہلوکو تشنہ نہیں رہنے دیا۔پروفیسر سجاد نقوی کا تفصیلی مضمون جو اُنھوں نے ڈاکٹر انورسدید کی مرتبہ کتاب’شام کا سورج‘ پر لکھا ہے ،اِس مضمون کے بارے میں یہ کہا جا ستکا ہے کہ اگرکسی کی نظر سے ’شام کا سورج‘ نہ بھی گزری ہو تو سجاد نقوی نے اِتنی صراحت سے مطالعہ کیا ہے کہ وہ کمی پوری ہو جاتی ہے۔”ڈاکٹر انورسدید کی وزیرآغاشناسی‘ کے ایک حصے کو’ڈاکٹروزیرآغا کی شخصیت اور فکر و فن، ڈاکٹر انورسدید کی نظر میں‘کا نام دیا گیاہے جس میں ڈاکٹرانورسدید کی دوتحریریں جو ڈاکٹر وزیرآغا کے سانحہ¿ ارتحال کے بعد لکھی گئیں اور مختلف رسائل میں شائع ہوئیں،اِن تحریروں میں”ڈاکٹر وزیرآغا سے میری پہلی ملاقات‘ اور’وزیرآغا کی موت پر!‘ شامل ہیں۔ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کی کتاب،”آفتابِ اَدب...... وزیرآغا‘ کا دیباچہ،جو ڈاکٹر انورسدیدکا تحریر کردہ ہے ،اُسے بھی شامل کیا گیا ہے۔’وزیرآغا ایک مطالعہ ‘ اور ’شام کا سورج‘ کے دیباچے بعنوان ’حسرتِ عرضِ تمنا‘ اور’عرضِ تمنا کی حسرت‘ بھی کتاب کا حصہ بنائے گئے ہیں۔اِس کے بعد پروفیسر سجاد نقوی کا مضمون’وزیرآغا اور انورسدید کی انشائیہ نگاری‘اُن نکات کا احاطہ زیرک نظری سے کرتا ہے جو اِن دونوں انشائیہ نگاروں کے ہاں پائے جاتے ہیں۔کتاب کے آخری حصے میں ڈاکٹر انور سدید کے پانچ مقالے شامل ہیں جو اپنی اپنی موضوعاتی سطح پر معیار کا درجہ رکھتے ہیں۔اِن مقالوں میں’ڈاکٹروزیرآغا کی اقبال شناسی‘ ،”ڈاکٹروزیرآغا بحیثیت انشائیہ نگار‘ ،”ڈاکٹر وزیرآغا کی غزل‘ ،”ڈاکٹروزیرآغا کی تنقید‘ اور’ڈاکٹروزیرآغا کے دیباچے‘ شامل ہیں۔یہ مقالے اُردو کے معروف رسائل میں شائع ہو کر داد و تحسین حاصل کر چکے ہیں۔کتاب کے آخر میں ’تبسم کا سرمایہ¿ کتب‘ درج کیا گیا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کی مذکورہ کتاب ’وزیرآغاشناسی‘ کے متعدد پہلوﺅں پر نئے تحقیق کاروں کے لیے یہ نہایت عمدہ کتاب ہے ۔






Comments