کلام اقبال میں ڈرامے کا عنصر: ڈاکٹر وزیرآغا



 کلام اقبال میں ڈرامے کا عنصر

ڈاکٹر وزیرآغا

کلام اقبال کے محاسن کو محض فلسفیانہ موشگافیوں تک محدود کرنا (جیسا کہ اقبال کے بیشتر شارحین نے کیا ہے) کوئی ایسی شاندار خدمت نہیں جس سے شعر کے میدان میں اقبال کی انفرادیت واضح ہو سکے، یہ کہنا کہ اقبال کے فکر میں فلاں فلاں نظریات کی آمیزش ہے یا اس بات کا اظہار کرنا کہ کلام اقبال میں فلاں فلاں حکما ءکے طریق فکر و استدلال کی صدائے بازگشت سنائی دیتی ہے۔ جو دراصل اقبال کی انفرادیت کو مسخ کرنے کے مترادف ہے اور اس سے اقبال کی عظمت کو صدمہ پہنچنے کا احتمال ہے۔

کسی شاعر کے کلام میں تفکر کا عنصر اگر محض اخذ و اکتساب تک محدود ہو اور اس کی تشکیل میں شاعر کے اپنے محسوسات و تجربات اور اس کی رگوں میں دوڑتے ہوئے خون گرم نے حصہ نہ لیا ہو تو اس پر انفرادیت کی وہ چھاپ کیسے لگ سکتی ہے جو بقائے دوام کے لیے ازبس ضروری ہے ، خوش قسمتی سے کلام اقبال کا مطالعہ کریں تو بعض ایسی قوتوں کا سراغ بھی ملتا ہے جو اقبال کے شعری پیمانوں میں صہبائے تند کی طرح رقصاں ہیں اور جن کے باعث نہ صرف اقبال کا شعری اسلوب متاثر ہوا ہے بلکہ جن کی جولانیوں نے شاعرکے تفکر کو بھی ایک خاص نہج عطا کی ہے ۔ان قوتوں میں تحرک اور عمل کی وہ قوت خاص طور پر قابل مطالعہ ہے جس کے باعث اقبال کے اسلوب نگارش اور اسلوب فکر ،دونوں میں ایک ڈرامائی کیفیت کا احساس ہوتا ہے۔

جس طرح بچے میں فاضل قوت، اخراج کی کوئی دوسری صورت نہ پا کر ،عملی اقدامات کا رنگ اختیار کرتی ہے اور بچہ بلاوجہ ناچنے ‘ تھرکنے ‘ کودنے ،دوڑنے اور شرارت کرنے کی طرف مائل ہوجاتا ہے ،بعینہ بعض شخصیتوں کو فطرت کی طرف سے اضطراب اور خروش کی فاصل قوتیں حاصل ہوتی ہیں جو بالعموم مادی ترقی، سیر و سیاحت اور اضطراری طریق کار کی صورت میں اور کبھی کبھی جب اخراج کے بیشتر دوسرے راستے مسدود ہو ںتو فن میں غیر معمولی تموج اورتحرک رونما ہوا ہے اور محققین اگرچاہیں تو اس ضمن میں اقبال کی زندگی اور اس کے کلام کے بعض بنیادی عناصر میں ایک ربط باہم بھی قائم کر سکتے ہیں۔

بہرحال یہ بات طے ہے کہ اقبال کے کلام کی امتیازی خصوصیت اس کا ڈرامائی انداز ہے اور اس کی شاعری میں ڈراما کے تینوں عناصر یعنی پس منظر، عمل اور مکالمے کی فراوانی ہے۔ جہاں تک پس منظر کا سوال ہے۔اقبال نے محض اس خطہ ¿ ارضی کو ہی نہیں بلکہ ساری کی ساری وسیع و لامحدود کائنات کو ایک اسٹیج کی شکل عطا کی ہے۔دریاﺅں کے پیچ و خم ،پہاڑوں کے نشیب و فراز ،صحراﺅں کی کشادگی اور وسعت ،ستاروں کا خرام ناز اور فرش کے مابین بکھرے ہوئے انگت مظاہر، یہ سب اس پس منظر کا کام دیتے ہیں، جس پر اقبال حیات و کائنات کے کرداروں کو سرگرم عمل دیکھتا ہے ۔کرداروں کے سلسلے میں بھی اقبالمحض گوشت پوست کے انسان اور شیطان ،پہاڑ اور جگنو، ستارے اور شبنم،دن اور رات اور اس طرح کے لطیف مظاہر جیسے حسن،عشق،غم اور تنہائی۔چھوٹے بڑے کرداروں کی صورت میں مچلتے،تھوکتے اور باقاعدہ حرکت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن اقبال اس ڈرامے کے کرداروں کو محض پتلیوں کی طرح حرکت کرتے ہوئے ہی دیکھنا اور نہ خود محض ایک صاحب بصیرت تماشائی کی طرح خیر و شر کی کش مکش اور آویزش کو فاصلے سے دیکھنے پر اکتفا کرتا ہے،اس کے کردار باقاعدہ ایک دوسرے کے ساتھ باتیں کرتے،دلائل کے معرکے سر کرتے اور اپنے وجود کو ثابت کرنے کی سعی دوام میں گرفتار دکھائی دیتے ہیں اور خود شاعر ان کرداروں کے درمیان روشنیکی ایک شعاع کی طرح گھومتا نظر آتاہے۔ یہ شعاع باری باری ہر کردار کو دائرہ میں لا کر اس کے ظاہری اور باطنی محاسن کو برہنہ کرتی ہے۔یوں دیکھئے تو کردار اور ہدایت کار کے مابین شاید ہی کبھی ایسا لطیف ربط قائم ہوا ہو جیسا اقبالاور اس کے سٹیج کے کرداروں کے مابین قائم ہوا ہے۔

اس نکتے کی توضیع کے سلسلے میں اقبال کی مشہور نظم ”حقیقت حسن“ ملاحظہ کیجئے کہ اس میں کلا م اقبال کی ڈرامائی کیفیات اپنے پورے جوبن پر ہیں : نظم دو اہم کرداروں کے مابین کے گفتگو سے شروع ہوتی ہے: 

خدا سے حسن نے اِک روز یہ سوال کیا

جہاں میں کیوں نہ مجھے تُو نے لازوال کیا؟

ملا جواب کہ تصویر خانہ ہے دُنیا

شب دراز عدم کا فسانہ ہے دُنیا

ہوئی ہے رنگ تغیر سے جب نمود اس کی

وہی حسیں ہے حقیقت زوال ہے جس کی

اگر اقبال کی جگہ کوئی اور شاعر ہوتا تو بات شاید یہیں ختم ہو جاتی ۔حسن نے ایک بنیادی سوال اُٹھایاتھا اور خدائے عزو جل کی طرف سے انتہائی موزوں اور مناسب جواب ملا جس سے حسن اور ناظر دونوں کی تشفی ہو جانی چاہیے تھی لیکن اقبالکی فطرت شعلے کی بے قراری اور نسیم صبح کی آوارہ خرامی سے مل کر تخلیق ہوئی تھی۔ یہ فطرت محض سوال و جواب کے ”استادی شاگردی“رنگ سے کیسے مطمئن ہو سکتی تھی چنانچہ ہمیں نظم میں خدا کے اس بظاہر مناسب جواب پر ایک کلبلاہٹ سی کا احساس ہوتا ہے‘ جو دیکھتے دیکھتے خاک و افلاک کے درمیان تحرک اور تموج سے ہمکنار ہوتی ہوئی ایک ”احتجاج“ کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اس احتجاج میں عرش و فرش کے بہت سے اہم کردار شریک ہوتے ہیں اور نظم ایک چھوٹے سے خوبصورت ڈرامے کی شکل میں تبدیل ہو جاتی ہے،دیکھئے: 

ملا جواب کہ تصویر خانہ ہے دُنیا

شب دراز عدم کا فسانہ ہے دُنیا

ہوئی ہے رنگ تغیر سے جب نمود اس کی

وہی حسیں ہے حقیقت زوال ؟ہے جس کی

کہیں قریب تھایہ گفتگو قمر نے سُنی

فلک پہ عام ہوئی اختر سحر نے سُنی

سحر نے تارے سے سُن کر سنائی شبنم کو

فلک کی بات بتا دی زمیں کے محرم کو

بھر آئے پھول کے آنسو پیام شبنم سے

کلی کا ننھا سا دل خون ہو گیا غم سے

چمن سے روتا ہوا موسم بہار گیا

شباب سیر کو آیا تھا سوگوار گیا

اسی طرح اقبال کی نظم”اذان“ ملاحظہ کیجئے جس میں بظاہر تو اجرام فلکی کے درمیان ایک دلچسپ مکالمے کو شاعر نے قلمبند کیا ہے لیکن جس کی ڈرامائی کیفیت سے یوں معلو م ہوتا ہے جیسے نجم سحر،مریخ،زہر اور مہ¿ کامل ،کالج کے نوجوان طلبہ کی طرح کھانے کی میز کے گرد بیٹھے ،بڑے شد و مد سے کسی نظریاتی بحث میں اُلجھے ہوئے ہوں،دیکھئے: 

اِک رات ستاروں سے کہا نجم سحر نے

آدم کو بھی دیکھا ہے کسی نے کبھی بیدار

کہنے لگا مریخ ادا فہم ہے تقدیر

ہے نیند ہی اس چھوٹے سے فتنے کو سزاوار

زہرہ نے کہا اور کوئی بات نہیں کیا

اس کرمک شب کور سے کیا ہم کو سروکار

بولا مہ¿ کامل کہ وہ کوکب ہے زمینی

تم شب کو نمودار ہو وہ دن کو نمودار

واقف ہو اگر لذت بیداری شب سے

اونچی ہے ثریا سے بھی یہ خاک پُراسرار

آغوش میں اس کی وہ تجلی ہے کہ جس میں

کھو جائیں گے افلاک کے سب ثابت و سیار

ناگاہ فضا بانگ اذاں سے ہوئی لبریز

وہ نعرہ کہ ہل جاتا ہے جس سے دل کہسار

اور اسی طرح بانگ اذاں کا بلند ہونا تھا کہ یہ محفل دیکھتے دیکھتے درہم برہم ہو گئی۔ شاعر نے اگرچہ اس درہم برہم ہونے کا ذکر نہیں کیا لیکن نظم کی ڈرامائی کیفیت سے یہی منظر چشم تصور کے سامنے اُبھرتا ہے اور یہی اس نظم کی خوبی ہے۔

کلام اقبال کی یہ ڈرامائی کیفیت محض ان دو نظموں تک ہی محدود نہیں،عقل اور دل کے مابین کوئی مکالمہ ہو یا زھد اور رندی کے مابین کوئی کش مکش ،چاند اور ستارے آپس میں باتیں کریں یا شکوہ اور جواب شکوہ کے تیرسرگرم عمل ہوں، مرید ِ ہندی اورپیررومی کی گفتگوہو یا سیر فلک کا متحرک منظر۔ ہمیں قدم قدم پر مکالمے کی رواں دواں کیفیت، خطابت کا اثر انگیز انداز اور حرکت، عملی ڈرامے کی فراوانی نظر آتی ہے اور کلام اقبال کی یہی خصوصیت سب سے زیادہ جاذب نظر اور قابل توجہ خصوصیت ہے۔

آخر میں اس بات کااظہار مطلوب ہے کہ اقبال کے کلام کی یہ ڈرامائی کیفیت اس متحرک نقطہ¿ نظر کی رہین منت بھی ہے۔ جو فکر اقبال کا ایک امتیازی وصف ہے دراصل اقبال کا سارا فلسفہ تڑپ، ذوق پرواز اور رواں دواں زندگی کا فلسفہ ہے ۔مثلاً یہ چند اشعار لیجئے جو میں نے یونہی اپنی یادداشت سے چن لیے ہیں: 

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

تُو اسے پیمانہ¿ امروز و فردا سے نہ ناپ

جادواں ، پیہم رواں ، ہردم جواں ہے زندگی

سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں

ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں

فریب نظر ہے سکون و ثبات

تڑپتا ہے ہر ذرہ کائنات

ٹھہرنا نہیں کاروانِ وجود

کہ ہر لحظہ ہے تازہ شانِ وجود

سمجھتا ہے تو راز ہے زندگی

فقط ذوقِ پرواز ہے زندگی

بے شک اقبال کے فکر میں مشرق فلسفے کا روایتی سکون،ثبات اور انجماد بھی ہے لیکن یہ سب کچھ پس منظر میں موجود ہے۔ اقبال سے متعارف ہونے کے بعد پہلا تاثر یہ مرتب ہوتا ہے کہ اقبال کے کلام میں ڈرامے کا عنصر ہی سب سے نمایاں عنصر ہے۔ ویسے بھی بقول نطشے عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ کائنات کو محض ایک کھیل یا ڈراما سمجھ کر اس کا مطالعہ کیا جائے اور ہندوﺅں کے سالکھ شاستر کے مطابق ”پراکرتی“ یعنی تغیر آشنا کائنات کا مقصد بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ یہ روح کی تفریح کے لیے ایک تماشا مہیا کرے۔ اس لحاظ سے دیکھئے تو اقبال نے جو کائنات کے مظاہر کو ایک ڈرامے کی صورت عطا کی ہے اس کا یہ عمل کائنات کی بوالعجبیوں ؟کو سمجھنے کی ایک ایسی نادر کوشش ہے جو کسی اور شاعر کے ہاں نظر نہیں آتی۔ اس کوشش میں اقبال کی انفرادیت ہے اور یہی وہ عمل ہے جس کے مطالعہ سے اقبال کی عظمت کا کچھ اندازہ ہو سکتا ہے۔

(۷۶۹۱)

٭٭٭






مصنف کے بارے میں


...

ڈاکٹر وزیر آغا

18 May 1922 - 8 September 2010 | سرگودھا


وزیر آغا کی تصانیف شاعری شعری مجموعے شام اَور ساےے (نظمیں) ۴۶۹۱ء ‘د ِن کا زرد پہاڑ (نظمیں‘ غزلیں) ۹۶۹۱ء ‘ نردبان (نظمیں) ۹۷۹۱ء ‘آدھی صدی کے بعد (طویل نظم) ۱۸۹۱ء ‘ گھاس میں تتلیاں (نظمیں) ۵۸۹۱ئ‘ اِک کتھا انوکھی (پانچ طویل نظمیں‘ دیگر نظمیں‘ غزلیں) ۰۹۹۱ئ‘ یہ آواز کیا ہے (نظمیں‘ غزلیں) ۵۹۹۱ء ‘عجب اِک مسکراہٹ(نظمیں) ۷۹۹۱ئ‘ چنا ہم نے پہاڑی راستہ (نظمیں) ۹۹۹۱ء ‘ہم آنکھیں ہیں (نظمیں)۱۰۰۲ء ‘ دیکھ دھنک پھیل گئی (نظمیں) ۳۰۰۲ئ کاسہ ¿ شام (نظمیں) ۰۱۰۲ئ واجاں باجھ وچھوڑے (پنجابی نظمیں‘ غزلیں)۳۰۰۲ئ کلیات غزلیں ( ۲۷۹۱ءتک کی تمام غزلیں ) ۳۷۹۱ئ چہک اٹھی لفظوں کی چھاگل( ۰۹۹۱ءتک کی تمام نظمیں غزلیں ) ۱۹۹۱ئ چہک اٹھی لفظوں کی چھاگل (کلیات ِ غزل‘ اِس مجموعے میں کل غزلیں شامل ہیں) ۸۹۹۱ئ چہک اٹھی لفظوں کی چھاگل(زیر طبع کلیات ِ نظم‘ اِس مجموعے میںکل نظمیں شامل ہوں گی) طویل نظمیں (زیر طبع‘ اِس مجموعے میں الگ سے کل طویل نظمیں شامل ہوں گی) متفرق کتابیں مسرت کی تلاش ۳۵۹۱ء ‘شام دوستاں آباد۶۷۹۱ئ تین سفر(سفر نامہ) ‘شام کی منڈیر سے (خود نو ِشت)‘۶۸۹۱ئ نئے مکالمات (انٹر ویو) ۰۱۰۲ء تنقید یک موضوعی کتب اردو اَدب میں طنز و مزاح ۸۵۹۱ء ‘اردو شاعری کا مزاج۵۶۹۱ء ‘تخلیقی عمل ۰۷۹۱ئ تصورات ِ عشق و خرد.... اقبال کی نظر میں۷۷۹۱ء ‘مجید امجد کی داستانِ محبت۱۹۹۱ء ‘ غالب کا ذوقِ تماشا۷۹۹۱ء‘ کلچر کے خدو خال ۸۰۰۲ئ مضامین نظم جدید کی کروٹیں۳۶۹۱ء ‘تنقید اَور اِحتساب۸۶۹۱ء ‘نئے مقالات ۲۷۹۱ء ‘ نئے تناظر۹۷۹۱ء ‘تنقید اَور مجلسی تنقید۱۸۹۱ئ‘دائرے اَور لکیریں۶۸۹۱ء ‘ تنقید اَور جدید اردو تنقید ۹۸۹۱ء ‘اِنشائےے کے خدو خال۰۹۹۱ء ‘ ساختیات اَور سائنس۱۹۹۱ء دستک اُس دروازے پر ( قصہ¿ من و تو‘ مکالماتی انداز میں‘ اِس کتاب میں تنقید کے تمام شعبے اَور علوم و فنون زیر بحث آئے ہیں) ‘ ۴۹۹۱ئ معنی اَور تناظر ۹۹۹۱ء‘ تنقیدی تھیوری کے سو سال۳۱۰۲ئ انشائیہ مجموعے خیال پارے۱۶۹۱ئ‘ چوری سے یاری تک ۶۶۹۱ئ‘ دوسرا کنارہ ۲۸۹۱ئ‘ سمندر اگر میرے اندر گرے ۹۸۹۱ئ‘ کلیات ِ انشائیہ پگ ڈنڈی سے روڈ رولر تک (اِس میں درجِ بالا چاروں مجموعے شامل ہیں جبکہ بعد میں لکھے گئے اِنشائیوں سمیت کلیات کا دوسرا اَیڈیشن پک ڈنڈی کے نام سے شائع ہوا)




Comments