غلام جیلانی اصغر: ڈاکٹر وزیرآغا



غلام جیلانی اصغر

ڈاکٹر وزیرآغا

ایک ایسا شخص جس نے عمر بھر اپنے دوستوں اور واقف کاروں پرطنز و مزاح کے میزائلوں کا بے دریغ استعمال کیا۔ آج خود اپنے دوستوں کی جوابی کارروائی کی زد میں ہے۔ چنانچہ ڈائمنڈ جوبلی کی اس تقریب کو بھی آپ کوئی تقریب نہ سمجھیں بلکہ ایک میزائل ہی تصور کریں جسے صوفی فقیر محمد اور اُن کے رفقاءنے پروفیسر غلام جیلانی اصغر کی طرف روانہ کیا ہے۔

ویسے ایک لحاظ سے ڈائمنڈ جوبلی کی یہ تقریب بروقت اور بر محل بھی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جب کوئی بلا باز نوے رنز بنا لیتا ہے تو اس کی سنچری میں صرف دس رنز باقی ہوتے ہیں تو تماشائیوں کے ہاں ایک عجیب سی بے قراری اور کلبلاہٹ جنم لیتی ہے اور وہ تالیوں کی مسلسل تال سے آنے والی سنچری کا سواگت شروع کر دیتے ہیں ۔اکثر اوقات آواز خلق نقارہ¿ خدا ثابت ہوتی ہے ۔ اور بلا باز تالیوں کی گونج میں اپنی سنچری مکمل کر لیتا ہے مگر کبھی کبھار وہ گھبرا کر ننانوے کے مقام پر ہی رخصت ہوجاتا ہے۔ جیلانی صاحب کے معاملے میں ڈائمنڈ جوبلی کے لیے تالیوں کا آغاز آج کی اس تقریب سے ہو رہا ہے ۔ابھی وہ ۵۶ برس کے ہیں‘ لہٰذاآئندہ دس برس تک ان کے لیے تالیاںبآسانی بجائی جا سکتی ہیں۔ مبادا کوئی غلط فہمی پیدا ہو جائے مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ اس ڈائمنڈ جوبلی کے سلسلے میں صوفی صاحب نے جیلانی صاحب کو کسی جال وال میں گرفتار نہیں کیا ۔ اصل بات یہ ہے کہ پنچھی نے خود اسیر دام ہونے میں کامیابی حاصل کی ہے اور وہ بھی ایک خاص وجہ سے۔ سرگودھا والے ابھی تک نرے دیہاتی ہیں‘ وہ جیلانی صاحب سے بالکل متعارف نہیں ہیں۔ انہیں تو یہ تک معلوم نہیں کہ جیلانی صاحب نے اپنے اور اہل سرگودھا کے درمیان متعدد رنگین پردے آوایزاں کر رکھے ہیں اور ڈائمنڈ جوبلی بھی ان پردوں میں سے ایک ہے۔ باقی ماندہ پردوں میں ان کی دلآویز اور موہنی شخصیت‘ ان کی منفرد ریش مبارک اوران کی بزلہ سنجی کونمایاں مقام حاصل ہے۔ لوگ باگ جب ان کی تقریر سُنتے ہیں تو ان کی چھوڑی ہوئی پھلچھڑیوں میں اس طور مگن ہو جاتے ہیں کہ انھیں اصلی اور خالص غلام جیلانی اصغر کو دیکھنے کا موقعہ ہی نہیں ملتا۔

جیلانی صاحب نے کبھی انھیں موقعہ دیا بھی نہیں مگر میں ان چند خوش بخت لوگوں میں سے ہوں جنھیں جیلانی صاحب کو ان کے اصلی روپ میں دیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔مثلاً ایک بار میں انھیں ملنے کے لیے ان کی کوٹھی کے گیٹ پر پہنچا تو وہ مجھے کہیں نظر نہ آئے ‘کوٹھی کے لان میں ان کا بوڑھا مالی کپڑے اُتارے اور جانگیہ پہنے پھولوں کی کیاری میں نلائی کررہا تھا۔ میں نے اس عجیب الخلقت انسانی ڈھانچے سے کہا ”بابا ! جیلانی صاحب کو اطلاع دو کہ آ غاجی آئے ہیں“ بابا نے ”رنبا“پھینکا‘ اُٹھا، چند قدم چلا اورپھر لپک کر مجھ سے بغل گیر ہو گیا۔ تب کُھلا کہ یہ تو خود جیلانی صاحب ہیں۔کپڑے تو میرے خراب ہو گئے لیکن روح بالکل دھل گئی ۔جیلانی صاحب کا یہ روپ جسے Plain Living and High Thinkingکہنا چاہیے ‘ مجھ پر اس ملاقات میں منکشف ہوا۔

جیلانی صاحب ایک دنیا دار درویش ہیں۔مراد یہ کہ ان کی شخصیت درویشی اور دنیا داری کا سنگم ہے اور اسی بات نے انھیں خلق خدا سے ممتاز کر رکھا ہے ۔ویسے دنیا داری اور درویشی دو انتہائیں متصور ہوتی ہیں ۔دنیا دار مکروہات دنیا میں بُری طرح اسیر ہوتا ہے ۔اس کا سارا جذباتی مدوجزر قیمتوں کے اُتار چڑھاﺅ کے تابع ہوتاہے اور اس کی ساری زندگی ایک مستقل نوعیت کے احساس زیاں کی زد میں رہتی ہے ۔دوسری طرف درویش ترک دنیا اور اس کے بعد ترک خود میں مبتلا ہوتا ہے ۔ وہ اس بھری پری دُنیا میں اس کے لذائذ سے منہ موڑ کر گویا زندہ درگور ہوجاتاہے۔ جیلانی صاحب کو یہ دونوں انتہائیں مرغوب نہیں ہیں۔ وہ ان دونوں میں ایک خوشگوار توازن قائم کرنے کے حق میںہیں۔ چنانچہ وہ بیک وقت منقطع بھی ہیں اور منسلک بھی۔ لذائذ و اثمار کے قتیل بھی ہیں اور قاتل بھی ! تماشا بھی ہیں اور تماشائی بھی۔وہ سگریٹ رغبت سے پیتے ہیں ‘ بشرطیکہ وہ دوسروں کے ہوں اور کتابیں شوق سے پڑھتے ہیں بشرطیکہ ان پر خود انہیں کچھ خرچ نہ کرنا پڑے‘ لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ سگریٹ نوشی کے دوران وہ سگریٹ نوشی کی باآواز بلند مذمت بھی کرتے ہیں اور کتاب کے بے کیف ہونے کا اعلان کرنے کے باوجود کتاب کو مشروب کی طرح پیتے ہیں۔ان کے نزدیک یہ حیات چند روزہ ایک متاع گراں بہا ہے ۔ساتھ ہی وہ اسے نوک پا سے ٹھکراتے بھی جاتے ہیں۔ یہ حیات چند روزہ ایک متاح گراں بہاہے ۔ساتھ ہی وہ اسے نوک پا سے ٹھکراتے بھی جاتے ہیں۔ کئی بار مجھے خیال آیا کہ جیلانی صاحب کے نزدیک زندگی ایک فٹ بال ہے جسے وہ Kickلگا کر خود دور پھینکتے ہیں مگر اسی لمحے اس کا تعاقب بھی کرنے لگتے ہیں ۔عام زندگی میں ان کا رویہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ ان پر ہنسیں اور جب وہ اس کے مرتکب ہوتے ہیں تو یہ ان پر ہنستے لگتے ہیں۔عرفان کا یہ مقام بلند جیلانی صاحب کے علاوہ بہت کم لوگوں کو ارزانی ہوا ہے۔ وہ درمیان قعر دریا”تختہ بند“ ہونے کے باوجود سرکش لہروں سے لطف و سرور کشید کرنے پر قادر ہیں۔ اور یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ علامہ اقبالؒ نے اسی بات کو صنوبر کی تمثیل میں بیان کیا تھا کہ وہ بیک وقت پابہ گل بھی ہوتا ہے اور آزاد بھی ! جیلانی صاحب کے اس رویے نے ان کی تخلیقات بالخصوص ان کے انشائیوں پر گہرے اثرات مرتسم کیے ہیں۔ اپنے انشائیوں میں وہ ایک ہی وقت میں تماشا بھی ہیں اور تماشائی بھی ‘ دین بھی اور دنیا بھی۔ پیر فرتوت بھی اور جوان رعنا بھی ‘ فراق زدہ بھی اور وصل رسیدہ بھی۔ وہ جب دنیا کے معاملات میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں تو ”مبتلا“ دکھائی دیتے ہیں مگر دوسرے ہی لمحے جب وہ دنیا سے اپنا دامن چھڑا کر اسے فاصلے سے دیکھتے ہیں تو ”آزاد“ نظر آتے ہیں۔ تخلص کے اعتبار سے وہ اصغر ہیں مگر ساری کی ساری کائنات اکبر ان کی ذات میں مستور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے انشائیوں کا معیار دنیا کے بہترین انشائیوں کے معیار سے کسی طور کم نہیں ہے۔

غلام جیلانی اصغر ایک ایسے ”دیدہ ور“ ہیں جو کہیں صدیوں کی تہذیبی بے نوری کے بعد پیدا ہوتا ہے ۔ایسے شخص کا گولڈن جوبلی اور ڈائمنڈ جوبلی تو کیا پلاٹینم جوبلی بھی کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔ وجہ یہ ہے کہ وہ خود وقت کی ایک کروٹ ہیں اور وقت ازلی و ابدی ہے !






مصنف کے بارے میں


...

ڈاکٹر وزیر آغا

18 May 1922 - 8 September 2010 | سرگودھا


وزیر آغا کی تصانیف شاعری شعری مجموعے شام اَور ساےے (نظمیں) ۴۶۹۱ء ‘د ِن کا زرد پہاڑ (نظمیں‘ غزلیں) ۹۶۹۱ء ‘ نردبان (نظمیں) ۹۷۹۱ء ‘آدھی صدی کے بعد (طویل نظم) ۱۸۹۱ء ‘ گھاس میں تتلیاں (نظمیں) ۵۸۹۱ئ‘ اِک کتھا انوکھی (پانچ طویل نظمیں‘ دیگر نظمیں‘ غزلیں) ۰۹۹۱ئ‘ یہ آواز کیا ہے (نظمیں‘ غزلیں) ۵۹۹۱ء ‘عجب اِک مسکراہٹ(نظمیں) ۷۹۹۱ئ‘ چنا ہم نے پہاڑی راستہ (نظمیں) ۹۹۹۱ء ‘ہم آنکھیں ہیں (نظمیں)۱۰۰۲ء ‘ دیکھ دھنک پھیل گئی (نظمیں) ۳۰۰۲ئ کاسہ ¿ شام (نظمیں) ۰۱۰۲ئ واجاں باجھ وچھوڑے (پنجابی نظمیں‘ غزلیں)۳۰۰۲ئ کلیات غزلیں ( ۲۷۹۱ءتک کی تمام غزلیں ) ۳۷۹۱ئ چہک اٹھی لفظوں کی چھاگل( ۰۹۹۱ءتک کی تمام نظمیں غزلیں ) ۱۹۹۱ئ چہک اٹھی لفظوں کی چھاگل (کلیات ِ غزل‘ اِس مجموعے میں کل غزلیں شامل ہیں) ۸۹۹۱ئ چہک اٹھی لفظوں کی چھاگل(زیر طبع کلیات ِ نظم‘ اِس مجموعے میںکل نظمیں شامل ہوں گی) طویل نظمیں (زیر طبع‘ اِس مجموعے میں الگ سے کل طویل نظمیں شامل ہوں گی) متفرق کتابیں مسرت کی تلاش ۳۵۹۱ء ‘شام دوستاں آباد۶۷۹۱ئ تین سفر(سفر نامہ) ‘شام کی منڈیر سے (خود نو ِشت)‘۶۸۹۱ئ نئے مکالمات (انٹر ویو) ۰۱۰۲ء تنقید یک موضوعی کتب اردو اَدب میں طنز و مزاح ۸۵۹۱ء ‘اردو شاعری کا مزاج۵۶۹۱ء ‘تخلیقی عمل ۰۷۹۱ئ تصورات ِ عشق و خرد.... اقبال کی نظر میں۷۷۹۱ء ‘مجید امجد کی داستانِ محبت۱۹۹۱ء ‘ غالب کا ذوقِ تماشا۷۹۹۱ء‘ کلچر کے خدو خال ۸۰۰۲ئ مضامین نظم جدید کی کروٹیں۳۶۹۱ء ‘تنقید اَور اِحتساب۸۶۹۱ء ‘نئے مقالات ۲۷۹۱ء ‘ نئے تناظر۹۷۹۱ء ‘تنقید اَور مجلسی تنقید۱۸۹۱ئ‘دائرے اَور لکیریں۶۸۹۱ء ‘ تنقید اَور جدید اردو تنقید ۹۸۹۱ء ‘اِنشائےے کے خدو خال۰۹۹۱ء ‘ ساختیات اَور سائنس۱۹۹۱ء دستک اُس دروازے پر ( قصہ¿ من و تو‘ مکالماتی انداز میں‘ اِس کتاب میں تنقید کے تمام شعبے اَور علوم و فنون زیر بحث آئے ہیں) ‘ ۴۹۹۱ئ معنی اَور تناظر ۹۹۹۱ء‘ تنقیدی تھیوری کے سو سال۳۱۰۲ئ انشائیہ مجموعے خیال پارے۱۶۹۱ئ‘ چوری سے یاری تک ۶۶۹۱ئ‘ دوسرا کنارہ ۲۸۹۱ئ‘ سمندر اگر میرے اندر گرے ۹۸۹۱ئ‘ کلیات ِ انشائیہ پگ ڈنڈی سے روڈ رولر تک (اِس میں درجِ بالا چاروں مجموعے شامل ہیں جبکہ بعد میں لکھے گئے اِنشائیوں سمیت کلیات کا دوسرا اَیڈیشن پک ڈنڈی کے نام سے شائع ہوا)




Comments