شاہد شیدائی کی غزل : ڈاکٹروزیر آغا



 ڈاکٹروزیر آغا

شاہد شیدائی کی غزل 

آج سے کم و بیش پندرہ برس پہلے مجھے شاہد شیدائی کے او ّلیں مجموعہ ¿ کلام کا پیش لفظ لکھنے کا موقع ملا تھا اَور اَب ایک بار پھر مجھ سے فرمائش کی گئی ہے کہ میں شاعر کے،دوسرے مجموعہ ¿ کلام کا پیش لفظ بھی لکھوں۔ دُوسرے لفظوں میں مجھے اس کی شاعری کے تقریباً سارے عرصہ ¿ حیات سے منسلک رہنے کا موقع دیا گیا ہے؛ اَور میں اِسے اپنے لےے سعادت سمجھتا ہوں۔

اس وقت مجھ پر یہ احساس غالب رہا تھا کہ شاعر کی کہانی ابھی ادھوری ہے: وہ اپنی ز ِندگی کے او ّلیں رومانی دور کی یادوں کو سینے سے لگائے،گاو¿ں سے ہجرت کرکے‘ شہر میں پہنچا ہے، جس کی قدریں اَور آداب اس پاک صاف، سیدھی سادہ اَور ،پر خلوص دیہی ز ِندگی سے قطعاً مختلف ہیں جن کا وہ عادی رہا ہے۔ چنانچہ اس کے ہاں گاو¿ں سے شہر یعنی رومانی زندگی سے حقیقت کی ٹھوس میکانکی زندگی کی طرف ہجرت ایک المےے کی صورت اِختیار کر گئی ہے۔

مجھے اِس بات کا احساس بھی تھا کہ وہ اپنی کشتیاں جلاچکا ہے، لہٰذا اس کے لےے واپسی کے اِمکانات باقی نہیں رہے.... اَب زیادہ اِمکان اِس بات کا ہے کہ وہ گاو¿ں کی یاد کو،بت بنا کر اَپنے من مندر میں سجا لے گا اَور بقیہ ز ِندگی اس کی پوجا میں بسر کر دے گا۔ تاہم اِس اِمکان کو بھی نظر اَنداز نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنے نئے گھر کی تباہی کا تماشائی بنے گا اَور پھر اَپنی ہی ذات کے ملبے سے ققنس کی طرح دوبارہ جی اٹھے گا: مجھے اس کے ہاں اِس بات کا احساس بھی ہو رہا تھا کہ وہ اَب عرفان کی مناز ِل طے کرنے لگے گا۔

شاہد شیدائی کے اِس نئے مجموعہ ¿ کلام کے مطالعے سے محسوس ہوتا ہے کہ ہجرت کے المےے سے گزرنے اَور شہر کے ملبے میں دب جانے کے بعد او ّل او ّل اس کے ہاں اپنے خول سے باہر آ کر زندگی کامردانہ وار مقابلہ کرنے کا جذبہ اُبھرا جس کے تحت اس نے سیاسی، معاشرتی سطح کی ناہمواریوں، شخصی سطح کی بے اعتدالیوں اَور اِنسانی سطح کی مجبوریوں کو ہدف ِ طنز بنایا۔ اِس زمانے میں لکھی گئی اس کی غزلوں کا عام مزاج طنزیہ ہے: اِس کلام میں خاصی کاٹ ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے شاعر اپنے اِرد گرد کے ماحول اَوراس کی ،جملہ کروٹوں کانباض بن کر اُبھرا ہے اَور اس نے ہر اس ناہمواری کو نشان زد کیا ہے جس نے اس کی روح کو زخمی اَور شخصیت کو پامال کر دیا تھا۔ یہ ناہمواریاں ایک طرف عام سطح کی ہیں جن کا تعلق معمول کے اِنسانی ر ِشتوں‘ دفتری منافقتوں اَور کمینگیوں سے ہے اَور دوسری طرف اِن کا علاقہ معاشرتی سطح سے ہے،جو پورے معاشرے کے سیاسی اَور نظریاتی نشیب و فراز پر محیط ہے.... اِس نکتے کی توضیح کے لےے شا عر کے یہ چند اَشعار کافی ہیں:

کس کے ایک اِشارے پر ٭ شجر شجر تھا آرے پر

توڑ کے سوہنی دھرتی کون ٭ بیٹھا تخت ہزارے پر

مڑ کے دیکھا بھی نہیں جادو گروں کے شہر میں٭اَور پتھر ہو گیا ہوں پتھروں کے شہر میں

تیرے کچھ یار بھی درباری ہیں٭کوئی اِن کی بھی دوا کر بابا

گھر سے آسیب کا سایہ جائے٭منتیں مانگ ، دعا کر بابا

ہر چند کہ رسوا ہیں سر دفتر و مسکن٭لیکن نہ ترے حاشیہ بردار ہوئے ہم

کہاں تک مجرموں کو تم رکھو گے آنکھ سے اوجھل٭کہ اِلزام آ چلا ہے شاہ پر آہستہ آہستہ

چلو کہ کچے گھروندوں میں ز ندگی کر لیں٭بلا کا حبس ہے اِن شہر کے مکانوں میں

دیکھا تو میں پھول چن رہا تھا٭سوچا تو میں آگ پر کھڑا تھا

دیواروں کو در کرنے کی راہ نکال٭ورنہ حبس میں دم گھٹ کر رہ جائے گا

ریزہ ریزہ ہے شہر کا منظر٭گاو¿ں میں کون یاد کرتا ہے!

اِن اَشعار میں شاعر نے معاشرے کے رائج میلانات مثلاً منافقت،خوشامد، لالچ، جھوٹ وغیرہ کے علاوہ سیاسی سطح پر رواج پانے والی اس آمریت کو بھی ہدف ِ طنز بنایا ہے جس کے ڈانڈے بادشاہت کے ساتھ جا ملتے ہیں،اَور اس آمریت کو بھی جو درویشی کا نمائشی لباس پہن کر درشن دیتی ہے۔ آج کل جس قسم کی سپاٹ اَور بے بس شاعری کو مزاحمتی اَدب کے نام پر فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ آمریت کے صرف ایک پہلو سے منسلک ہے جبکہ شاہد شیدائی نے اپنے فن میں شخصی آمریت اَور عوامی آمریت دونوں کو ایک ہی عنوان کے تحت یکجا کر دیا ہے.... بہ اِیں ہمہ اس کی شا عری کا یہ اَنداز، عام روش سے الگ ہے؛ اَور شاید اِسی لےے شاعر نے اِبتدائی سخت ”رد ِ عمل“ کے اَثرات سے نجات پاتے ہی اِسے حد درجہ ملائم اَور متوازن کر دیا ہے۔ دراصل شا عری،بات کو کھول کر بیان کرنے کا نام نہیں: شعری مواد ہمیشہ ایک مبہم سے احساسی ہالے میں ملفوف ہوتا ہے‘ اَور لازم ہے کہ جب یہ مواد شعر کے ذریعے قاری تک منتقل ہوگا تو احساس کی لطیف سی مبہم کیفیت کو اَپنے ساتھ لائے گا؛ ورنہ وہ محض ننگے خیال کو پیش کر رہا ہوگا جو اِس اعتبار سے نا مکمل ہوگا کہ اس کا غالب احساسی حصہ اس سے منقطع ہوچکا ہوگا۔ مزاحمتی اَدب سے،مراد اگر محض یہ ہے کہ جمالیاتی حظ کی تحصیل پر اِفادی عمل کو ترجیح دی جائے تو پھر اَدب کی  پر اَسراریت کیونکر قائم رہ سکتی ہے! جس طرح ذائقے اَور خوشبو کے لطیف اَبعاد کو نشان زد کرنا ممکن نہیں، اسی طرح شعری مواد کے احساسی اَبعاد کو بھی نشان زد نہیں کیا جا سکتا: اِنھیں تو قاری د ِل کے اَندر کہیں محسوس کرتا ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ شاہد شیدائی کے ہاں رد ِ عمل کے طور پر جو مزاحمتی‘ احتجاجی اَدب تخلیق ہوا‘ وہ کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں تھا: اَور اِس سے بھی زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ اس کے اَندر کا شا عر بہت جلد اَپنی جذباتیت پر غالب آکر، ایک بار پھر، خالص شعری اِظہار کی طرف مائل ہو گیا۔ زیر ِ نظر کتاب میںشا عر کی مراجعت بڑی اَہمیت کی حامل ہے کہ اِس میں نہ صرف اس کا وہ لہجہ دوبارہ اُبھر آیا ہے جس پر اس کی شہرت کی اساس قائم ہے بلکہ اس نے اِس میں ایک اَور بعد کا اِضافہ بھی کر دیا ہے۔ میں عرض کرتا ہوں کہ اِس نئے بعد کی نوعیت کیا ہے!

لیکن ایسا کرنے سے پہلے، میں یہ بھی عرض کر دوں کہ شاعر ماضی، حال اور مستقبل‘ تینوں زمانوں میں بیک وقت رہ رہا ہوتا ہے اَور اس کے ہاں جو شعری میلان ایک بار پیدا ہوتا ہے، وہ آخر تک موجود رہتا ہے؛ یہ الگ بات کہ بعض اَوقات اس میلان کی صورت، قو ّت اَور رنگ میں خاصی بڑی تبدیلی آ جاتی ہے۔ مثلاً آپ نے دیکھا کہ ایک دور میں شاہد شیدائی نے سیاسی اَور معاشی کروٹوں سے گہرے اَثرات قبول کرتے ہوئے اِنتہائی طنزیہ لہجہ اِختیار کیا ؛مگر پھر جب اس کے ہاں اگلا دور شروع ہوا تو اس کا یہ ردعمل ختم نہ ہوا اَور ایک نئی صورت میں منقلب ہو کر دوبارہ سامنے آ گیا:

موسم موسم میلی نظریں بھانپ٭شجر شجر مطلب سمجھاتا جا!

ابھی ابھی تو صحن گل میں پنچھیوں کی چھاو¿ں تھی٭ابھی ابھی یہ کیا ہوا کہ پر بکھر بکھر گئے!

دن نکلتے ہی پھر ٹوٹنا ہے مجھے٭کیوں نہ چنتا رہوں کرچیاں رات بھر

جیسے نازک نہیں چاندنی کا بدن٭یوں چلائے ہوا آریاں رات بھر

کیونکر نہ شاخ شاخ ہو شاہد لہو لہو٭موسم کی ضرب ضرب ہے تلوار کی طرح

کس نے کہا تھا گاو¿ں سے شہر کی سمت جائےے٭دیکھئے اَب حسب نسب خاک میں سب ملا ہوا

اَور اَب وہ آخری کروٹ (فی الحال آخری کروٹ) جو شاہد شیدائی کے کلام میں اُبھری ہے اَور جس میں عرفان ذات، احساس زیاں اَور دُعائیہ اَنداز نے مل جل کر ایک ایسی کیفیت کو جنم دیا ہے جو ز ِندہ رہنے والی شا عری کی پہچان ہے۔ اپنے اِس کلام میں شا عر بیک وقت ”مبتلا“ بھی نظر آتا ہے اَور ”آزاد“ بھی .... وہ اپنی ذات کے اس ٹیلے پر آن کھڑا ہوا ہے جہاں سے اس رہ گزر کو بھی دیکھ سکتا ہے جسے وہ طے کر آیا ہے‘ اَور اسے بھی جو ابھی طے ہونا باقی ہے: مگر خوبی کی بات یہ ہے کہ ٹیلے پر کھڑے ہو کر، اس نے زمین کے آلام کی گرمی کو اَپنے تلووں میں محسوس کیا ہے اَور آسمان کی رحمتوں کی شبنم کو دعائیہ اَنداز میں پھیلی اپنی ہتھیلیوں پر گرتے ہوئے سنا ہے۔ اِس عمل سے اس کے قلب و روح میں طمانیت کی جو رَو،دوڑ گئی ہے،اس کی کوئی نہایت نہیں۔ اِن جملہ تہ درتہ، محسوسات کو آپ اس کے مندرجہ ذیل اَشعار میں بہ آسانی مس کر سکتے ہیں:

شکستہ پر ہیں اڑتے جا رہے ہیں٭پرندوں کو بڑی خواہش ہے گھر کی

اِک ورق خورشید پلٹے‘ اِک ورق پلٹے قمر٭طفل ماہ و سال کو دن رات کے دفتر دےے

وادی وادی خوشبو کر تقسیم٭پربت پربت رنگ اڑاتا چل

قریہ قریہ چاند ستارے بانٹ٭بستی بستی عکس لٹاتا چل

جبل جبل بخش دے خزانے تو٭ندی ندی ساحلوں کو سونا دے

وہ فاختہ بھیج آسمانوں سے٭جو پورے عالم پہ پنکھ پھیلا دے

کہوں گا جا کے میںاُس سے یہ کیا تماشا تھا٭کسی کے پاس سمندر تھے، کوئی پیاسا تھا

دیکھنے کی بات یہ ہے کہ شاہد شیدائی ز ِندگی کے جزر و ّمد سے گزر کر‘ اَور عرفان ذات سے مستفیض ہو کر، اَپنے چاک کو رفو کرنے میں کامیاب تو ہوا ہے؛ تاہم اس کے ہاں کسی ایک مقام پر رُک جانے کا میلان پیدا نہیں ہوا۔ چنانچہ شہر میں پہنچ کر وہ جس گاو¿ں کو تلاش کرتا پھرا، وہ ز ِندگی کے ایک خاص نقطے پر پہنچنے کے بعد اس گاو¿ں کے روپ میں ڈھل گیا جسے ”یوٹوپیا“ یا جنت ِ گم گشتہ کا نام ملا ہے اَور جو ہر چند کہ ہے، اِس اِعتبار سے نہیں ہے کہ اس کی بنت میں تار ِ نظر کے سوا اَور کچھ اِستعمال نہیں ہوتا: یعنی جو اِتنا لطیف اَور نازک ہے کہ حقیقت کی دُنیا کے کسی مظہر اَور زبان کی کسی ترکیب، تشبیہ‘یا اِستعارے کے بارگراں تک کو برداشت نہیں کر سکتا.... وہ تو محض ایک سہانی کیفیت ہے جو د ِ ل کی تہوں میں کہیں موجود ہے اَور جسے ایک تخلیق کار ہی محسوس کر سکتا ہے: 

اُجڑتے دیکھ لیا تھا کسی کا گھر اس نے٭شجر پہ کوئی پرندہ اُداس بیٹھا تھا

صد ہجوم خلش و دل زدگی٭لے چلے دشت سفر سے کیا کیا

مہوس ، بے اَثر ہیں کیوں دوائیں٭ترے سمپٹ سے جوہر اڑ گیا کیا

صحرا میں آ لیا ہے مجھے شام نے تو کیا٭منزل ہے میری صبح سے پہلے نگر کے بیچ

بارشیں اپنی ہوں کیسے جب گھٹا ہو غیر کی٭اجنبی موسم سے گلشن کو بچایا چاہےے!

تم ٹھہرو، میں کرنیں لے کر آتا ہوں٭صبح سے پہلے شہر منور کر جائیں!

پوچھتے کیا ہو کہ اِس شہر میں کیا رکھا ہے٭ہم نے اِس شہر میں اِک گاو¿ں بسا رکھا ہے

شاہد شیدائی کا یہ گاو¿ں ہم سب کا گاو¿ں ہے.... لاجونتی کی طرح ملائم اَور خوشبو کی طرح نازک؛ مگر جیسا کہ میں نے کہا‘ کوئی بھی تشبیہ ‘ اِس گاو¿ں کے نقوش کو تمام و کمال بیان نہیں کر سکتی!!






مصنف کے بارے میں


...

ڈاکٹر وزیر آغا

18 May 1922 - 8 September 2010 | سرگودھا


وزیر آغا کی تصانیف شاعری شعری مجموعے شام اَور ساےے (نظمیں) ۴۶۹۱ء ‘د ِن کا زرد پہاڑ (نظمیں‘ غزلیں) ۹۶۹۱ء ‘ نردبان (نظمیں) ۹۷۹۱ء ‘آدھی صدی کے بعد (طویل نظم) ۱۸۹۱ء ‘ گھاس میں تتلیاں (نظمیں) ۵۸۹۱ئ‘ اِک کتھا انوکھی (پانچ طویل نظمیں‘ دیگر نظمیں‘ غزلیں) ۰۹۹۱ئ‘ یہ آواز کیا ہے (نظمیں‘ غزلیں) ۵۹۹۱ء ‘عجب اِک مسکراہٹ(نظمیں) ۷۹۹۱ئ‘ چنا ہم نے پہاڑی راستہ (نظمیں) ۹۹۹۱ء ‘ہم آنکھیں ہیں (نظمیں)۱۰۰۲ء ‘ دیکھ دھنک پھیل گئی (نظمیں) ۳۰۰۲ئ کاسہ ¿ شام (نظمیں) ۰۱۰۲ئ واجاں باجھ وچھوڑے (پنجابی نظمیں‘ غزلیں)۳۰۰۲ئ کلیات غزلیں ( ۲۷۹۱ءتک کی تمام غزلیں ) ۳۷۹۱ئ چہک اٹھی لفظوں کی چھاگل( ۰۹۹۱ءتک کی تمام نظمیں غزلیں ) ۱۹۹۱ئ چہک اٹھی لفظوں کی چھاگل (کلیات ِ غزل‘ اِس مجموعے میں کل غزلیں شامل ہیں) ۸۹۹۱ئ چہک اٹھی لفظوں کی چھاگل(زیر طبع کلیات ِ نظم‘ اِس مجموعے میںکل نظمیں شامل ہوں گی) طویل نظمیں (زیر طبع‘ اِس مجموعے میں الگ سے کل طویل نظمیں شامل ہوں گی) متفرق کتابیں مسرت کی تلاش ۳۵۹۱ء ‘شام دوستاں آباد۶۷۹۱ئ تین سفر(سفر نامہ) ‘شام کی منڈیر سے (خود نو ِشت)‘۶۸۹۱ئ نئے مکالمات (انٹر ویو) ۰۱۰۲ء تنقید یک موضوعی کتب اردو اَدب میں طنز و مزاح ۸۵۹۱ء ‘اردو شاعری کا مزاج۵۶۹۱ء ‘تخلیقی عمل ۰۷۹۱ئ تصورات ِ عشق و خرد.... اقبال کی نظر میں۷۷۹۱ء ‘مجید امجد کی داستانِ محبت۱۹۹۱ء ‘ غالب کا ذوقِ تماشا۷۹۹۱ء‘ کلچر کے خدو خال ۸۰۰۲ئ مضامین نظم جدید کی کروٹیں۳۶۹۱ء ‘تنقید اَور اِحتساب۸۶۹۱ء ‘نئے مقالات ۲۷۹۱ء ‘ نئے تناظر۹۷۹۱ء ‘تنقید اَور مجلسی تنقید۱۸۹۱ئ‘دائرے اَور لکیریں۶۸۹۱ء ‘ تنقید اَور جدید اردو تنقید ۹۸۹۱ء ‘اِنشائےے کے خدو خال۰۹۹۱ء ‘ ساختیات اَور سائنس۱۹۹۱ء دستک اُس دروازے پر ( قصہ¿ من و تو‘ مکالماتی انداز میں‘ اِس کتاب میں تنقید کے تمام شعبے اَور علوم و فنون زیر بحث آئے ہیں) ‘ ۴۹۹۱ئ معنی اَور تناظر ۹۹۹۱ء‘ تنقیدی تھیوری کے سو سال۳۱۰۲ئ انشائیہ مجموعے خیال پارے۱۶۹۱ئ‘ چوری سے یاری تک ۶۶۹۱ئ‘ دوسرا کنارہ ۲۸۹۱ئ‘ سمندر اگر میرے اندر گرے ۹۸۹۱ئ‘ کلیات ِ انشائیہ پگ ڈنڈی سے روڈ رولر تک (اِس میں درجِ بالا چاروں مجموعے شامل ہیں جبکہ بعد میں لکھے گئے اِنشائیوں سمیت کلیات کا دوسرا اَیڈیشن پک ڈنڈی کے نام سے شائع ہوا)




Comments