کتاب : ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی فیکٹری ۔۔۔۔۔ نئیر مصطفی



ہم داستانوں کی زمین کے باسی سفر کرتے افسانے تک پہنچ گئے ہیں ۔ افسانہ ناول کے بعد فکشن کی مقبول ترین صنف ہے ۔اردو ادب میں افسانہ کئی دہائیوں سے سانس لے رہا ہے مگر آج کل افسانہ لکھنے والے بہت کم ملتے ہیں ۔نوجوان نسل کا رجحان شاعری کی طرف زیادہ ہے جس کی کئی وجوہات ہیں ۔ ایسے میں افسانے یا نثر کی طرف بہت کم لوگوں کا رجحان ہے۔ نثر لکھنا یقیناًلوگوں کو آسان لگتا ہے؛ تب تک لگتا ہے جب تک وہ نثر لکھنے نہیں بیٹھتے ۔نثر یقنا محنت مانگتی ہے اور اگر آپ کہیں فکشن میں طبع آزمائی کرتے ہیں تو فکشن پڑھنے میں اور لکھنے میں یقیناًبہت فرق ہے ۔ آپ ایک کہانی پڑھ کر یہ رائے دے سکتے ہیں کہ میں ایسی کہانی لکھ سکتا ہوں ایک کہانی لکھنے کیلئے کونسے عروض سیکھنے پڑتے ہیں وغیرہ ۔سب سے پہلے تو بہت کم لوگ داستان اور کہانی کا فرق جانتے ہیں اور افسانے اور کہانی کا فرق تو بہت ہی کم لوگ واضح کر سکتے ہیں ۔ یوں تو افسانے اور کہانی میں زیادہ فرق ہوتا بھی نہیں ہے سوائے اس کے سانچے کا جس پر افسانہ بنا جاتا ہے یا اس وجہ کا جس کے باعث ہم نے کہانی سے افسانے کا سفر کیا ۔یوں تو افسانے کی کئی تعاریفیں رائج ہیں ۔ جس نے افسانے کے اندر تہذیب پر فوکس کیا اس نے کہہ دیا افسانے میں پوری ایک تہذیب کا ہونا ضروری ہے ۔ جس نے زبان کے تجربات کیے اس نے سانچے اور زبان و بیان کو افسانہ کہہ دیا علیٰ ہذا القیاس۔ ۔ افسانے اور کہانی کا بنیادی فرق اتنا ہی ہے کہ ایک تو کہانی کاپھیلاؤ زیادہ ہوتا ہے جب کے افسانہ صرف ایک ہی نقطے کے گرد بنا جاتا ہے ۔پھیلاؤ سے مراد یہاں طوالت نہیں بلکہ مختلف موضوعات یا نکات ہیں ۔طویل افسانوں کی عمدہ مثال ایلس منرو کے افسانے ہیں جو ساٹھ ستر صفحات تک بھی پھیلے ہوئے ہیں ۔ بے جا طوالت یا منظرنگاری اور جزئیات نگاری کہانی کا حصہ ضرور ہو سکتی ہے افسانے میں ایسی گنجائش اس وقت تک نہیں جب تک جزئیات نگاری یا منظرنگاری کا افسانے کے بنیادی نکتے کے ساتھ براہ راست تعلق نہ ہو ۔افسانے میں جو چیزیں اہم میں ان میں متن، زبان ،ٹیکنیک، وغیرہ شامل ہیں ۔ سب سے اہم یقیناًمتن ہی ہے ۔ افسانہ کہلوانے کے لیے ان تینوں چیزوں کا تخلیقی طور پر درست ہونا ضروری ہے ۔یہ تو بنیادی باتیں تھیں ۔ نجانے کیوں اظہر فراغ کا مصرعہ یاد آگیا

لوگ آسان سمجھ لیتے ہیں آسانی کو

نیرمصطفی کے افسانے پڑھتے وقت جو چیز سب سے عجیب لگی وہ ان کی بریکٹ تھی اور اس قدر عجیب لگی کہ سب سے پہلے اسی کا حوالہ دے رہا ہوں ۔ پہلے افسانے ’’نو انٹری‘‘ کے پہلے پیرا گراف سے شروع ہوتی یہ بریکٹ تقریباََ آخر تک ہی کہیں نہ کہیں نظر آتی ہے اور اس بریکٹ کی کوئی منطق میں تلاش نہیں کر سکا۔ کہیں یہ کسی ڈی ٹیل کے طور پر استعمال ہورہی ہے تو کہیں اس میں پنچ لائن کوقید کر دیا گیا (بحوالہ :ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی فیکٹری )۔ یہ بریکٹ یوسفی صاحب کی بریکٹ کی طرح بالکل نہیں ہے جہاں وہ بریکٹ میں ایسے طنز ومزاح کو بھر دیتے ہیں کہ لطف دوبالا ہوجاتا ہے ۔ نیر کے ہاں بریکٹ زیادہ تر کسی چیز کو مزید واضح کرنے کے لیے استعمال ہوئی ہے اور بعض دفعہ تو لکھاری نے اپنا تبصرہ بھی بریکٹ میں بھر دیا ہے جس سے افسانے پر بوجھ سا بنتا نظر آتا ہے ۔ افسانے میں ایک اچھا لکھاری اس بات کا ہمیشہ خیال رکھتا ہے کہ کیا نہیں لکھا جائے ۔اس طرح بعض جملوں میں زبان کی غلطیاں بھی ملتی ہیں جو جیسے جیسے ٓاگے بڑھیں ختم ہو جاتی ہیں۔ میرا اپنا خیال ہے کہ ان کے شروع کے افسانے کافی پرانے لکھے ہوئے ہیں یا وہ ان کو ریویو کرنا بھول گئے ہیں ۔

’اگر یوں کہا جائے کہ اس نے پچھلے پندرہ سالوں کے دوران کم از کم بھی سینکڑوں طوائفوں کے ساتھ کام کیا ہوگا تو اس میں رَتی برابر مبالغہ نہ ہوگا۔ زیادہ تر طوائفیں اسے محض ایک عارصی ٹھکانے کے طور پر استعمال کرتیں اور جونہی انہیں کوئی نسبتاً بہتراڈہ مل جاتا وہ اسے جلی کٹی سنا کر اپنی راہ ہو لیتیں۔‘

اس جملے کو دیکھ لیں اس میں’ بھی‘ اور ’ہوگا‘ کا استعمال اضافی ہے ۔ اس طرح راہ ہو لیتیں کی جگہ راہ لیتیں زیادہ مناسب ہے۔ یا خواب زار میں سمفنی کا یہ حصہ دیکھیں جہاں ایک طرف تو موسم کے ریڈ سگنلز کو یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف اس سے بچنے کے اسباب بھی ہیں جو ایک دوسرے کا تضاد ہیں ۔ اس کے علاوہ ’باہر نکل آیا‘ کی جگہ باہر نکلا یا باہر آیا زیادہ مناسب رہتا۔

’میں نے ایک طویل انگڑائی لی اور اپنے پر شکن بستر کی سلوٹیں درست کیے بغیر فلیٹ سے باہر نکل آیا۔ اگرچہ میں ایک گرم اونی چادر میں ملفوف ہوکے نکلا تھا مگر اس کے باوجود یخ بستہ ہوا کے جھونکوں نے خفیف سی کپکپی طاری کر دی۔ موسم کے ریڈسگنل کو یکسر نظر انداز کر دینا ہرگز آسان نہ ہوتا اگر میں پہلی بار اس راستے پر نکلا ہوتا ، لیکن یہ سفر تو جنم جنم کا تھا‘

ان افسانوں میں سے کچھ تو پرانے ٹاپکس پر ہی لکھے گئے ہیں جو یقیناًدلچسپی کی فضا ضرور باندھتے ہیں مگر فورا اس ٹاپک پر لکھے دوسرے افسانے یاد آجاتے ہیں ۔ مثلا ’’مینار، گدِھ اور مُردے ‘‘ کو پڑھتے ہوئے مجھے اسد محمد خان صاحب کا اسی ٹاپک پر لکھا افسانہ برجِ خاموشاں شدت سے یاد آیا ۔ اس طرح ان کا ایک اور افسانہ ’ اورکٹ کی پروفائل سے شروع ہونے والا معاشقہ ‘ بھی کچھ ایسا نہیں کہ اس کے متن پر بات کی جائے میری رائے میں تو وہ ایک کمرشل کہانی سے زیادہ کچھ نہیں مگر اس کی بنت پر کی گئی محنت

ضرور داد طلب ہے مگر کہانی کے موضوع نے یقیناًاس محنت پر پانی پھیر دیا ہے ۔ اسی طرح’ پہلی محبت آخری کہانی‘ بھی کوئی خاص متاثرکن نہیں ہے اس سے ملتی جلتی کہانیاں کئی مل سکتی ہیں ۔ پہلی ہی کہانی کا اختتام اگر دیکھا جائے تو کہیں نہ کہیں وہ حقیقت سے دور لگتا ہے اور جو محبت کی ناکامی کا احساس طوائف کو خودکشی پر مجبور کرتا وہ اس خودکشی کا کسی طور فطری جواز نہیں اول یہ کہ یہ اس کی پہلی محبت کی ناکامی نہیں تھی دوم یہ کہ اس نے اپنی ساری عمر اسی دلدل میں گزاری تھی جس کی تہذیب سے اب وہ اچھی طرح واقف تھی مگر اس کہانی کو افسانہ یقیناً’نوانٹری‘ کا کردار بناتا ہے جس سے کہانی کار نے توجہ ہٹا کر زیادہ توجہ دوسرے کرداروں پر دی ۔ اسی طرح ’ افسرحسین ولدسکینہ مائی ‘ میں بھی افسانہ نگار کی توجہ مرکزی نکتے سے کافی ہٹ جاتی ہے جو کہانی کو بوجھل اور طویل کر دیتی ہے ۔ اسی طرح کا پھیلاو’’اشراف المخلوقات ‘ ‘میں بھی ہے ۔

نیر مصطفی نے ٹیکنیک کے بہت زیادہ تجربے نہیں کیے اکثر افسانے بیانیہ ہیں اور کچھ میں فلیش بیک کی تیکنیک کا استعمال ہے ، البتہ ان کا ایک افسانہ ’عبدالغنی جیکسن ‘ اپنی تکنیک اور بیانیے دونوں لحاظ سے خوب صورت افسانہ ہے۔ اس افسانے کی زبان پر یقیناًاعتراض بنتا اگر یہ افسانہ مکمل یکطرفہ مکالمے پر مشتمل نہ ہوتا ۔ عبدالغنی جیکسن ایک آزاد شخص کی کہانی ہے جو کسی نہ کسی کھوج میں لگا رہتا ہے جس کے خیالات عام یونیورسٹی سٹوڈنٹس سے ہٹ کر ہیں اور اس پر نشے کی لت اس کی موت کا سبب بنتی ہے ۔ اس افسانے کا بیانیہ حقیقیت نگاری سے زیادہ فطرت نگاری کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے ۔

فطرت نگاری نئیر مصطفی کے افسانوں کا خاصہ ہے مگر میں سمجھتا ہوں اس میں ابھی محنت کی ضرورت ہے مجموعی طور پر اردو ادب میں ابھی تک فطرت نگاری پر زیادہ کام نہیں ہوا ایسے میں نئیر مصطفی کا کسی طور سہولت سے اس تحریک کو اٹھائے رکھنا اہم بھی ہے اور قابلِ داد بھی ۔ جگہ جگہ ان کے کردار گالیاں دیتے اورعرفِ عام میں استعمال ہونے والے سلینگز کو استعمال کرتے نظر آتے ہیں ۔ کرداروں کے مکالموں میں تو یہ بات درست معلوم ہوتی ہے مگر کہیں کہیں بیانیے میں بھی فطر ت نگاری کا یوں پایا جانا درست نہیں بلکہ یہ کردار اور بیان کرنے والے کے درمیان کا فرق مٹا دیتا ہے ۔ نریٹر کوئی واقعہ بیان کرتے ہوئے فطرتا گالی دے کر نہیں کہے گا کہ ایک کردار نے یہ گالی دی وہ یقیناًاتنا کہنے پر اکتفا کرتا ہے کہ ایک کردار نے گالی دی تھی ۔ اس کے علاوہ ایک بڑی غلطی میں جسے سمجھتا ہوں وہ یہ کہ تجریدی افسانے میں فطرت نگاری بالکل سمجھ سے باہر ہے ۔ تجریدیت کی تحریک سے وابستہ شخص کو اس تحریک کی وجوہات کا علم ہونا ضروری ہے ۔ سب سے اہم سوال یہ کہ تحریک شروع کیوں ہوئی تھی ؟ کن وجوہات کی بنا پر ہم حقیقت نگاری سے ہٹ کر تجریدیت اور علامت کی طرف گئے تھے ۔ ایسے میں تجریدیت کے ساتھ فطرت نگاری کا استعمال اپنا جواز کھو دیتا ہے ۔ مثال کے طور پر ایک افسانہ ’سوسائیڈ جنکشن ‘ لے لیجئے ۔ یہ افسانہ اپنے ٹاپک اور تجریدی پہلو سمیت خوبصورت ہے اس میں کہیں بھی کوئی بے وجہ طوالت کا گمان نہیں ہوتا نہ ہی اس افسانے کی تجرید کہیں بھی اپنے معنی کھوتی نظر آتی ہے ۔ ہاں نئیر مصطفی کے افسانوں کی زبان کہیں کہیں سنگلاخ اور کھردری ضرور ہو جاتی ہے ۔ فکشن زیادہ تر رواں اور ملائم ڈکشن میں لکھی جاتی ہے اور اچھا تخلیق کار افسانے کے مطابق اپنے استعارے گھڑتا ہے او ر کہانی کے بیان کو جتنا ممکن ہو سکے قاری کی فہم کے قریب لے جاتا ہے ۔ مجموعی طور نئیر مصطفی کے افسانوں کی زبان درست ہے مگر کہیں کہیں رائج استعاروں اور محاوروں کا استعمال ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو چیلنج کرتا نظر ضرور آتا ہے ۔ مثال کے طور پر ’ جہنمی ‘ میں ایک جگہ پگھلے ہوئے سیسے کا استعمال اس تمام فضا میں مستعار لگا وہ فضا جو مصنف نے نہایت خوبصورتی سے ترتیب دی تھی ۔ جہنمی افسانہ میرا پسندیدہ افسانہ ہے جس کی زبان اور متن دونوں ہی شاندار ہیں ۔ اس کے علاوہ ’بوڑھا چارلی اور ریمبراں‘ بھی ایک خوبصورت افسانہ ہے جس میں دو تہذیبوں کا خوبصورت ملاپ سامنے آتا ہے ۔ اسی طرح ان کا علامتی افسانہ ’وی‘ بھی قابلِ ذکر ہے ۔ اس کے علاوہ ’ رنگوں میں سوچنے والی لڑکی‘ بھی ایک خوبصورت تخلیق ہے گو کہ میں اب تک سوچتا ہوں کہ اس قدر زمانے سے ہٹے ہوئے کردار کو مایوسی کارنگ سیاہ ہی کیوں نظر آیا۔

نئیر مصطفی کے افسانے پڑھنے کے بعد مجھے ایک بات کا بڑی شدت سے احساس ہوا کہ نئیر مصطفی کے پاس لکھنے کے لیے کئی خوبصورت ٹاپک ہیں اور جیسے’ خواب زار میں سمفی‘ ٹوٹے پھوٹے لوگو ں کی فیکٹری وغیرہ ، اس کے باوجود بعض اوقات بریکٹ میں اور کبھی تجرید کی صورت میں وہ اس ٹاپک پر اپنا تجزیہ دیتے ہیں جس کی کسی طور ضرورت نہیں ۔ کہیں کہیں تو ان کا بیانیہ افسانے میں تجریدیت کے جملے لانے کا جواز سمجھنے میں مشکل ہوتی ہے مثلا ’بائی پولر ‘ اور ’سمفنی‘ میں کئی جگہ یوں لگا کہ جملے اور استعارے افسانے سے لگا نہیں کھاتے مثلا ’وقت کی خانقاہ ‘ سمفنی سے اور بائی پولر میں جملے کا یہ آخری حصہ دیکھیں جس کا کوئی جواز افسانہ دینے سے قاصر ہے

خواب جب نیند کی اُنگلیاں تھام کر نکلے تو رات کے سینے پر خوشبو کے چراغ روشن تھے۔

نئیر کے افسانے یقیناً ایک ہی پراڈائم کے افسانے نہیں ہیں ۔ ان کو ایک سے زیا دہ زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے ۔ ہاں میں اتنا ضرور کہوں گا کہ ان کا افسانے کی طرف آنا ایک خوبصورت اضافہ ہے ۔ نئیر ان افسانہ نگاروں میں سے ہے جو مشکل سے نہ ڈرتے ہیں اور نہ ہی گھبراتے ہیں بلکہ وہ پیچیدگیوں کو سمجھتے ہیں اور ان پر لکھنے کی جسارت کرتے ہیں۔ اس جدید دور میں جہاں ہم نے ہر چیز کو بانٹ کر اس پر ایک مخصوص لیبل لگا دیا ہے اس تقسیم کے دور میں جو بائی پروڈکٹ سامنے آئی ہے وہ پیچیدگی ہی ہے ۔ ان کے افسانے سمفنی بائی پولر ایسے ہی پیچدہ ٹاپکس کے افسانے ہیں جن میں ان کی محنت ضرور نظر آتی اگرچہ تجرید کہیں کہیں اپنے معنی کھو دیتی ہے۔

مافات رضا






مصنف کے بارے میں


...

مافات رضا

09may - 1992 | Chichawatni


..................................




Comments