پہلی اردو مائکرو فکشن کانفرنس زیرِ اہتمام، انہماک انٹرنیشنل فورم وجریدہ۔۔۔


06-Jun-2012

post1



پریس ریلیز:
پہلی اردو مائکرو فکشن کانفرنس
زیرِ اہتمام، انہماک انٹرنیشنل فورم وجریدہ۔۔۔

۲۷ نومبر اتوار، انہماک انٹرنیشنل فورم وجریدہ کے زیرِ اہتمام پہلی اردو مائکرو فکشن کانفرنس کا انعقاداروما ریسٹورنٹ بورے والا میں ہوا،اس کانفرنس کے محرک اور منتظم معروف نظم نگار، فکشن نگار، نقاد اور مدیر’’ انہماک ‘‘ انٹرنیشنل سید تحسین گیلانی تھے، کانفرنس کا مقصد اردو ادب میں مائکرو فکشن نگاری کی ضرورت اور اہمیت کو اجاگر کرنا تھا اوربطور ایک نئی صنف مائکروف نگاری کے حوالے سے مکالمے اورصنفی مباحث کو سنجیدہ بنیادوں پر پروان چڑھانا بھی، کانفرنس میں بورے والا سمیت دیگر شہروں سے آئی معروف علمی و ادبی شخصیات اور فکشن نگاروں نے شرکت کی اورمضامین پیش کیے اور اپنی آرا سے آگاہ کیا، دن کے پُر تکلف کھانے کے بعد اے غفار پاشا کی صدارت میں کانفرنس کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا، پی ٹی وی اور اے آر وائے کے معرو ف نعت خواں سید لیاقت حسین گیلانی نے عقیدت اور احترام کے ساتھ ہد یہ ء نعت بحضور ﷺ پیش کیا، ابتدائی کلمات زعیم رشید (شاعر و ادیب بورے والا) نے ادا کیے اور مائکرو فکشن نگاری کے حوالے سے انہماک کی کوششوں کے آغاز ، اہمیت اور پسِ منظر پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا، سید تحسین گیلانی نے مکالمے کی ابتدا کی اردو ادب خصوصااردو فکشن نگاری میں نئی اصناف کی ترویج کے پسِ منظر کوا جاگر کرتے ہوئے مائکرو فکشن نگاری کی اہمیت اور ضرورت کو واضح کیا ، اس حوالے سے انہماک فورم کی اب تک کی کاوشوں پر روشنی ڈالی اوردنیا بھر سے راہنمائی کا فریضہ انجام دے رہے ادب کے اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کیا، اورکئی اہم سوالات اٹھائے، اردو ادب اور ادیب تحقیق اور جدت سے آخر کب تک دور رہے گا؟ ہمارے ادیب مائکرو فکشن نگاری سے اس قدر خائف کیوں ہیں؟ان کا کہنا تھا کہ یہ کام انتہائی توجہ طلب ہے اوراس پر مزیدتحقیق اور مضامین کی ضرورت ہے، انھوں نے ملک بھر کے ادبا سے گزارش کی کہ وہ اس صنف یعنی مائکروف کی ہیئت و اسلوب میں بہتری کے لیے مقالے لکھیں اوراس تحقیقی کام میں انہماک کا ساتھ دیں۔۔۔جواد حسنین بشر (ابنِ مسافر) نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے مائکرو فکشن نگاری خاص طور پر مائکروف نگاری کے حوالے سے کہا کہ ان کے خیال میں انہماک کے پیشِ نظر اردو زبان کی ایک ایسی صنف کی ترویج ہے کہ جو انفرادی اور اجتماعی ۔۔اور۔مقامی اورعالمی سطح پر نت نئے تناظرات کا چیلنج قبول کرتے ہوئے ثقافتی، سماجی، علمی ، تحقیقی حوالوں سے اور جدت کے اگلے محاذوں پر بھی اپنی تخلیقی اور تفہیمی بنیادیں مضبوط کرے۔ ایسا کثیر پہلو تخلیقی تجربہ ہے جو روایت کے زرخیز پہلوؤں سے بھی جڑا ہو اور قبولیت کی بلند سطح پر گلوبل تناظرمیں جدت کی وسیع تر اور دور تک جاتی روشوں سے بھی۔ جواد حسنین بشر نے بدلتی ہوئی سوسائیٹی کے تناظر میں اردو ادب میں ایک نئی فکری تشکیل پر بھی زور دیا اور ادیب یا مائکرو فکشنسٹ بطور ایک فری سیلف پر بھی روشنی ڈالی۔بورے والا سینئر ادیب اور محقق جناب رانا غضنفر صاحب نے کہا کہ تخلیق ایک ایسی موج ہے جسے روکا نہیں جا سکتا اور یہ کہ ادب میں نئی اصناف کے فروغ کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہوتا کہ پرانی اصناف ختم کر دی جائیں یا ان کا فروغ نہ ہو،انھوں نے مائکرو فکشن نگاری یا مائکروف میں اعلیٰ تخلیقی اور جمالیاتی معیار کو قائم رکھنے پر زور دیا اور فکشن کے تشکیلی اجزا اور تخلیقی عناصر کو بڑی ہی جامعیت سے بیان کیا،بورے والا کے پروفیسر اکرم باجوہ نے کہا کہ مائکرو ف وقت کی اہم ضرورت ہے، اور مائکرو فکشن نگاری کی ترویج پر اعتراض سمجھ سے بالا تر ہے، آج کا ادیب اپنے آپ کو محدود کیسے رکھ سکتا ہے؟ چنیوٹ سے تشریف لائے نظم نگار، فکشن نگار اور نقاد باسط آذر نے کہا کہ کسی نئی صنف پر زور دینا پرانی اصناف سے انحراف کانام نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک نیا رخ ہوتا ہے، ہمارے ہاں جیسا کہا ویسا ماننے کی روش عام ہے، انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہم محاورہ کی زبان میں بات کرتے ہیں سو ہمارے ہاں مائکرو فکشن کے امکانات زیادہ روشن ہیں، ان کا مزید کہنا یہ تھا کہ اسٹرکچر یا پلاٹ طے کرے گا کہ آپ نے افسانچہ لکھا، فلیش فکشن لکھا یا پھر مائکرو فکشن، باسط آ ذر نے ان الفاظ پر اپنی بات ختم کی کہ ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ نئی صنف کیوں آرہی ہے بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ اس سے بھی زیادہ نئی نئی اصناف منظرِ عام پرکیوں نہیں آرہیں؟ طارق سندھی نے کہا کہ شارٹ سٹوریز کی اہمیت اپنی جگہ لیکن ان کی ترویج کے نام پر لانگ سٹوریز کو رد نہیں کیا جا سکتا،حاصل پور سے کانفرنس میں شریک محمد زبیر مظہر پنوار نے تہذیبی پسِ منظر میں قدیم تصویری اور علامتی تحریر کو مائکرو فکشن کا نام دیا اور کہا کہ یہ اندازِ بیان تو انسان کے رگ و پے میں سرایت کیے ہوئے ہے اور علامت اور تجرید مائکرو فکشن نگاری میں پھر سے ابھر کر سامنے آرہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ میرے لیے تو انہماک کا ’’لوگو ‘‘ بھی ایک مائکروف ہی ہے، انھوں نے سید تحسین گیلانی کی کاوشوں کو سراہا اور کانفرنس کے انعقاد پر مبارک باد پیش کی،لاہور سے آئے نوجوان ادیب مافات رضا کے خیال میں یہ دور خطے میں ادب کے زوال کا دور ہے، انھوں نے کہا کہ ہمارا ایک صدی کا ادب دوسرے درجے کا ادب ہے، ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ایک تخلیق کار صحیح میں معنوں ہوتا کیا ہے؟ ہم کلیشوں کے عادی ہیں، یک معنی علامتیں ادبی زبان کی موت ہوتی ہیں،انھوں نے مزید کہا کہ جب ادب کسی زبان کی جاگیر نہیں تو کوئی ادبی صنف کسی کی جاگیر کیسے ہو سکتی ہے؟ انھوں نے تجویز دی کہ مائکرو فکشن نگاری کے حوالے سے انہماک فورم پرعمدہ تخلیقی نمونے پیش کیے جائیں اور انھیں کڑے معیار پر پرکھا جائے،اسی طرح اپنی رائے کا اظہار کرنے والوں میں لاہورسیتشریف لائے قاری سا جد نعیم (چیف ایڈیٹر ندائے گل)، بورے والا کے معروف کالم نگار اور ادیب محمو د فریداورمنڈی بہاؤالدین کے نوجوان ادیب عقیل عباس اور نوجوان شاعر و ادیب سہہ ماہی ’’ناؤ‘‘ کے چیف ایڈیٹر ذکا ء اللہ شیخ اور دیگرشامل ہیں، ان احباب نے مائکرو فکشن نگاری کی ترویج میں ہر طرح سے اپنے ساتھ کا یقین دلایا اور اس کاروان کو آگے لے کر چلنے کے عزم اظہار کیا۔اختتامیہ الفاظ صاحبِ صدر جناب اے غفار پاشا صاحب کے تھے، جنہوں نے سید تحسین گیلانی کو شاندارکانفرنس کے انعقاد اور اردو ادب میں نئی صنف کی ترویج کے حوالے سے جاری کوششوں اور ادبی کامیابیاں سمیٹنے پر مبارک باد پیش کی اور بورے والا کی روشن ادبی تاریخ پر روشنی ڈالی، یوں کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔ کانفرنس کے شرکا میں پاکستان میں ادبی میگزین ’’ندائے گل ‘‘کا پہلا مائکروف نمبر بھی تقسیم کیا گیا۔ پہلا مائکرو فکشن نگاری خصوصاً مائکروف نگاری پر مکالمے کو فروغ دیتی یہ پہلی کانفرنس پاکستان بھر کے دیگر شہروں اور ادبی مراکز میں جلد ہی انعقاد پذیر ہونے والی کانفرنسوں کی ایک کڑی تھی، نظامت کے فرائض عارف علی راجپوت نے نہایت خوش اسلوبی سے سر انجام دیے جبکہ منتظمین میں احمر اکبر، انہماک فورم کی ایڈمن محترمہ سیدہ تسکین صاحبہ اور دیگر احباب شامل رہے ۔بورے والا سمیت اسلام آباد، لاہور، حاصل پور، چنیوٹ، چیچہ وطنی ، عارف والا، سرگودھا، منڈی بہاؤالدین، ساہیوال اور دیگر شہروں سے مہمانوں نے شرکت کی۔





Comments