پانچویں کولاج کانفرنس ۔۔۔۔جنوبی پنجاب کا ادبی منظر نامہ


12-Dec-2017

post1



پچھلے سال سے کولاج کانفرنس رحیم یار خان میں کروانے کا ارادہ تھا وہاں عمیر نجمی نے ابھی نام بنانا شروع کیا تھا اور مقامی طاقت یا ٹیم ابھی اس کے پاس نہیں تھی ایک سال میں عمیر کی شہرت عالمی دنیا میں پہنچی اور پھر کُن کا قیام عمل آیا ، عمیر کے پاس وہ مقامی طاقت مکمل ہو گئی جس سے کولاج کانفرنس کی جاسکتی تھی ۔ خیر سرگودھا سے ڈائیو کی تمام سیٹس پہلے سے بُک ہو چکی تھیں توشالیمار میں مشکل سے ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا اور رات ۱۰ بجے ملتان پہچا ، جہاں حماد نیازی بھائی ، عابد ملک کے گھر پہلے سے موجود تھے ، سرفراز عارش جس نے مجھے اڈے سے پک کرنا تھا میرے انتظار میں سو چکا تھا تو میں عابد ملک بھائی سے رابطہ کر کے ان کے گھر پہنچ گیا سرفراز کی آنکھ کھلی تو وہ بھی عابد ملک کے گھر پہنچا اور ایک یادگار رات یاروں کے ساتھ کٹی ۔ اگلے دن صبح دس بجے، میں، عابد ملک، حماد نیازی اور سر رفعت عباس ایک اے پی وی میں رحیم یار خان کے لیے سوار ہوئے ، رفعت عباس صاحب سے میری پہلی ملاقات تھی جو حال ہی میں پرائیڈ آف پنجاب ایوارڈ جو پلاک کی طرف انہیں دیا جانا تھا ا سے ٹھکرا چکے تھے ۔فرنٹ سیٹ پر عابد ملک بیٹھے تھے پچھلی سیٹ پر ایک طرف رفعت عباس صاحب بیچ میں حماد نیازی اور دوسری طرف میں تھا ۔ حماد بھائی نے رفعت عباس صاحب سے مختلف سوالات پوچھنا شروع کیے ، میری پوری کوشش تھی رفعت عباس صاحب کے جواب سُن سکوں پر گفتگو سرائیکی میں ہو رہی تھی جسے سمجھنا میرے لیے مشکل تھا اور آواز بھی کم کم سنائی دے رہی تھی ۔ آزاد بیانیہ کی تخلیق پر کچھ سنائی دیا ، جس کے لیے غیر جانبدار آنکھ چاہیے اپنی آنکھ چاہیے مقامی (نیٹو) کی آنکھ چاہیے ،ہرن کی آنکھ چاہیے یا ایسی آنکھ جو اس اندھی ڈالفن کو آنکھ لگا دے جو دریائے سندھ میں پائی جاتی ہے۔ یہ کام اور کوئی نہیں کر سکتا سوائے شاعر یا ادیب کے کھلاڑی تو ریس کا گھوڑا ہیں وہ تو اپنے سینے پر مختلف ملٹی نیشنل کمپنیز کا ٹیگ لگائے پھر رہے ہیں ، نہ ہی اداکار کر سکتے ہیں جو کمرشلز میں چاکلیٹ یا شیمپو بیچتے پھر رہے ہیں یہ آزاد بیانہ یہ ناول اس نیٹو آنکھ نے لکھنا ہے جو تمام طرح کی بندشوں سے آزاد ہے جو شاعر ہے ادیب ہے ۔ رفعت صاحب کیونکہ سرائیکی میں بات کر رہے تھے تو جیسےہی کسی بات کی سمجھ آتی ، میرا دماغ اسے اپنے تجربوں کے ساتھ جوڑنا شروع ہو جاتا ۔ ملتان پیچھے جا رہا تھا ریاست بہاولپور قریب آ رہی تھی ، لوگ صدیوں سے کٹ رہے تھے مر رہے تھے حملہ آور آتے ، حکومت کرتے اپنی آنکھ لگا تے ۔ انسان کی آنکھ پر حکومت کرنے والوں کی دھول جم رہی تھی ،ہر مرکز کی اپنی دھول تھی جو وقت کے ساتھ ساتھ سیڈیمنٹ کی طرح آنکھوں پر جم رہی تھی ،وہ شاعر کی آنکھ کہاں ہے جو فوسلز کو دریافت کر لے اور اپنی آنکھ سے دنیا کو دیکھے ، گھنٹہ گھروں کی تعمیرہوئی مقامی وقت مرکز کے وقت میں تبدیل ہو گیا ۔ڈسپلن دیا گیا تاکہ کوئی باغی سوچ کوئی نیٹو آنکھ بغاوت نہ کر سکے تعلیمی نظام لٹریچر ٹی وی چینلز بریکنگ نیوز نے انسان کو جس بریکٹ میں بند کیا وہاں وہ بکے ہوئے تجزیہ نگاروں اور وقتی انٹلیکٹ کو سب کچھ سمجھنے لگا جو تھوڑی دیر بعد بدل جاتا ہے ۔ مذہب نے سرمایا درانہ نظام کے ساتھ مل کر بادشاہ کے ساتھ مل کرعام انسان کی جہالت کو یقین کی سٹیمپ کے ساتھ بریکٹ کیا اور مسلسل بادشاہوں اور اسٹیبلشمٹ کی مدد کرتا رہا ۔ انسانوں کو مرکز کے ساتھ جڑے انسان نے کتنا بے وقوف بنایا یہ سب ہم اپنے اردگرد دیکھ سکتے ہیں ۔ میرا شہر سلانوالی ہینڈی کرافٹ کے لیے مشہور ہے ، چھوٹے چھوٹے اڈے ہیں جہاں بجلی سے چلنے والی مشنیں لکڑی کی تراش خراش کرتی ہیں ، اور اگر بجلی چلی جائے تو ایک کاریگر ہینڈی کرافٹ کے جتنے پیس بنا کر گھر کا خرچ چلاتا ہے وہ بن نہیں پاتے اور رزق کی دعا خدا سے مانگی جاتی ہے ، فیصل آباد سے ٹیکسٹائیل انڈسٹری انرجی شورٹیج کی وجہ سے بنگلا دیش شفٹ ہوتی ہے کیمیکل اور ٹیکسٹائیل انجینئر بے روزگار ہو جاتے ہیں رزق کی دعائیں خدا سے مانگی جاتی ہیں جبکہ پاکستان ہر سال میٹھا پانی سمندر میں گرا کر ضائع کر رہا ہے بجلی بنانامرکز سے جڑے انسان کے اختیار میں ہے اور مقامی انسان اپنی آفاقی دینی تعلیمات کی وجہ سے صبر و شکر کرنے پر مجبور ہے جبکہ قصور مرکز سے جڑے انسان کا ہے جو اسکے پیسے اور وسائل لوٹ رہا ہے ۔عام انسان کے ہر مسلے کا حل موجود ہے جسکی وجہ سے وہ خدا یا ناخدا کے در پر جھکتا ہے ۔ مرکز کے پاس موجود وسائل اسے دور کر سکتے ہیں۔ اس دور میں علاج ، ادویات ، خوراک ، صاف پانی ، نوکری یہ سب کچھ مرکز فراہم کرنے کی بجائے اسے آسمانوں کی طرف دیکھنے کی تبلیغ دیتا ہے ۔اپنا حق لینے کی تبلیغ نہیں دیتا ۔ سرمایا دارانہ نظام کبھی یہ نہیں چاہتا کہ عام انسان کو اسکا حق ملے ۔ ہماری آنکھوں کے سامنے عام انسان کے لیے شہید کے معنی بدل دیے گئے ، بچے سکول پڑھنے گئے تھے شہید ہونے نہیں کوئی عام انسان بازار میں کسی کام سے گیا تھا دھماکے میں مارا جانےکے لیے نہیں ، تو شہید ، یعنی اس ایک لفظ کی وجہہ سے اب ایک انسان ایک دوسرے انسان کے مرنے کا دکھ بھی پوری طرح سے نہیں کر سکتا وہ خاموش ہو جاتا ہے شہید ہو گیا اچھی جگہ چلا گیا زندہ رہے گا خدا اسے خاص رزق دے گا جنت میں مزے کرے گا ۔ اسٹیبلشمنٹ کا بیانیہ حملہ آور کا بیانیہ حکومت کرنے والا کا بیانیہ ہمیشہ سے انسان کو قید کرنے اور اپنے مقاصد کی کامیابی کے لیے ہوتا ہے ، کمرشل لٹریچر ، بھی اسی بیانیے کے لیے لکھا جاتا ہے رفعت عباس صاحب کی ایک اور بات کان میں پڑی شاعری چس کروان لئی نہیں ، شاعر ادیب آج کل جس ریس میں بھاگ رہے ہیں وہاں سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ، یہ لائیکس کمنٹس ، سٹیج پر کامیاب تماشے بازی ، مشاعروں کے تمغے ، یہ کام مراثی اچھا کر سکتے ہیں ۔ ہماری نوجوان نسل اچھا انٹرٹینر بننا چاہتی ہے شاعر ادیب نہیں ، نجی محفلوں میں جگتوں کی مقابلے لطیفے ۔۔۔۔۔ وہ ہرن کی آنکھ کہاں ہے ، وہ آنکھ جو دریائے سندھ کی اندھی ڈالفن کو بینائی عطا کر دے ۔ شاعری سے مجھے مولانا رومی کی بات یاد آگئی جسکا مفہوم تھا کہ پرندوں اور جانوروں کی آواز کی نقل ہر کوئی کر لیتا ہے پر ان کی باتوں کے حقیقی معنی صرف حضرت سلیمان کو معلوم تھے انکے مسائل حضرت سلیمان سمجھتے تھے۔ یہ جو روایت کے ساتھ جڑنے کی بحث ہے یا روائیتی شاعری ہے اس کا مطلب یہی کچھ ہے کہ سو دوسو شاعری کی کتابیں پڑھو آپکے لاشعور میں وہ شاعری گھس جائے گی پھر لکھو اور شاعر بن جائو ، اچھے شاعروں کا کلام پڑھو انکی آواز کی نقل اتارو ان کے مسئلے کو سمجھے بغیرانہی کے جیسا لکھنے لگ جائو ، اور داد سمیٹنا شروع ہو جائو تمھارا کیا مسئلہ ہے اسے دیکھے بغیر۔۔ رحیم یار خان ابھی نہیں آیا پانچ گھنٹے گزر چکے ہیں ، گنے کے ٹرک سڑک پر قبصہ جمائے کھڑے ہیں شوگر مل کے مالکان ایک سیزین میں دوسری مل لگانے جتنا منافع کما رہے ہیں ہم اے پی وی میں زلیل ہو رہے ہیں مسافروں کے لیئے کوئی راہ نہیں۔ رفعت صاحب سرائیکی میں بات کر رہے ہیں تصوف، مذہب کو کلچر کا حصہ بنا دیتا ہے ، یعنی آفاقی مذہب کو ایک صوفی مٹی سے جوڑ دیتا ہے ۔ جو خدا اسٹیبلشمیٹ نے گملے میں لگایا ہے صوفی اسے زمین میں بو دیتا ہے ۔ شریعت مرکز سے جڑی ہے اسکا انکار کرنے والا صوفی انسانوں سے جڑا ہے ، جنید بغدادی خدا کو قید کرتا ہے انلحق کا نعرہ لگانے والا ہر فرد کو خدا بنا دیتا ہے ، بہائوالدین زکریا صوفی نہیں کیونکہ وہ اپنی زندگی میں بھی مرکز سے جڑے تھے ، اور آج بھی مرکز میں ہے ، خواجہ غلام فرید صوفی ہے جو اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہے انکے مسائل کے ساتھ کھڑا ریاست بہاولپور سے دور چچ میں آباد ہو گیا ہے ، لاہور میں شاہ حُسین اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہے ان کے مسائل کے ساتھ کھڑا ہے ۔ اشفاق احمداور قدرت اللہ شہاب صوفی نہیں جو مرکز کے ساتھ جڑے ہیں ۔اور قوم کو درویشی کی افیون سنگھوا کر سلا رہے ہیں ۔ رحیم یار خان آ گیا ہے ٹائون ہال میں ایک ہرن کی آنکھ رکھنے والا شاعر داخل ہوتا ہے اور بڑی شان کے ساتھ سرائیکستان کا نعرہ لگاتا ہے اپنی شناخت کا نعرہ لگاتا ہے ۔مشاعرے میں آئے بہت سے دوستوں سے ملاقات ہوتی ہے ۔ بہت سے دوستوں سے پہلی ملاقات ہے۔ مخمور قلندری( ڈی آئی خان)عدیل بخاری( احمد پور شرقیہ)عابد بلال( تونسہ) ناظر مہروی( ڈی آئی خان)خالد جاوید( کوٹ ادو)اشرف رافت( تونسہ) اور ڈاکٹر کبیر اطہر ( صادق آباد) اعجاز توکل (بہاولپور) فیصل ہاشمی (کبیر والا)اظہر فراغ(بہاولپور)شاہد ماکلی (تونسہ)فضل گیلانی (ملتان) ارشد عباس ذکی (ملتان)وقار خان( ملتان) ممتاز گورمانی (تونسہ)عدنان محسن (ڈی جی خان)عاطف نصیر (بہاولپور)احتشام حسن(بہاولپور)خرم آفاق(بہاولپور)ندیم راجہ (راجن پور) سے ۔ رحیم یار خان کے دوست مرزا حبیب ، عبدلباسط بھٹی ، شہباز پدم، کاشف نواز ، مژدم خان ،سعید ثروت، طارق امین یازر ، خاور اسد ، شہباز نیر ، لالہ ناصر ، آفتاب یاسر، خالد زکی سے ملاقات ہوئی ۔ ایک یاد گار کانفرس عمیر نجمی اور اسکی ٹیم کولاج کے ساتھ مل کر کرواتی ہے اور رات ہو جاتی ہے ، رات خرم آفاق ، عابد ملک اور میں ایک ہی کمرے میں ٹھہرتے ہیں اور میں پھر ملتان سے رحیم یار خان کے سفر کا خلاصہ اپنی سمجھ کے مطابق پیش کرتا ہوں ۔ مولانا رومی کے جنس کے تصور کے ساتھ جسے علامہ اقبال خودی کا نام دے کر بیان کرتے ہیں وہ درحقیقت یہی شعور ہے یعنی وہی قوت ہے جس سے اپنے ارد گرد سے انسان باہر نکلتا ہے اور اسے وہی قوت ملتی ہے ۔جیسے مہاتما بدھ کے اردگرد ایسا ماحول تھا کہ کوئی پتہ بھی گرے تو بدھ کے اُٹھنے سے پہلے اسے باغ سے ہٹا دیا جاتا تھا ۔ تو جب انہوں نے ایک میت جاتے دیکھی کہ انسان مر جائے گا تو وہ سب چھوڑ کر حقیقت کی تلاش پر نکلے ۔ پر علامہ اقبال جو ملت کا تصور دیتے ہیں کہ نیل کے ساحل سے کاشغر تک ،یہ وہی گرینڈ پلان ہے جو مولانا مودودی بتاتے ہیں اور طالبان دنیا فتح کرنے اور دین مسلط کرنے نکل پڑتے ہیں ۔ قطروں کو سمندر سے ملنے کی نوید سنائی جاتی ہے اور آفاقی لوگ معصوم انسانوں کے سامنے پھٹ جاتے ہیں ۔ اگلے دن عمیر نجمی ہمیں چولستان کے صحرا میں لے گیا جہاں ایک شعری نششت کا انعقاد ہوا ۔۔واپس آئے تو رفعت صاحب مولوی لطف علی صاحب کو سلام کر آئے تھے جن کی قبر پر انہیں نہ کوئی دیا دکھائی دیا نہ کوئی پھول ، بہت درد تھا انکی آواز میں ، عمیر نجمی نے ہمیں شام سات بجے سوار کروایا اور ہم رحیم یار خان سے ریاست بہاولپور پہنچ گئے ۔پھر ملتان تک اکھٹے سفر کیا ۔ ملتان کے قریب قطب پور میں ہاشمیوں کا گائوں ہے ، میرے دادا سلانوالی جا کر بس گئے تھے اور دادی کے گھر والے ہجرت کے بعد قطب پور ملتان کے قریب آباد ہو گئے تھے ۔ قطب پور میں پورا خاندان تھا اور داد اکیلے سلانوالی تھے مختصر یہ کہ قطب پور وہ واحد جگہ تھی جسے ہم اپنا گائوں یا ہاشمیوں کا گائوں سمجھتے تھے اور کبھی کبھار جب یہاں آنا ہوتا سینہ چوڑا کر کے گھومتے تھے جس مرضی گھر میں گھس جائو اپنا ہی گھر تھا ۔ رات ساڑے تین بجے جب میں کسی طرح وہاں سالوں بعد پہنچا تو سب بہت خوش ہوئے اور جب میں نے انہیں بتایا کہ سرائیکی خطے کی سیر کی سرائیکستان کا نعرہ لگوایا تو ان کے چہرے پیلے پڑ گئے ۔ اور انہوں نے کہا کہ ہم مہاجر یہاں اپنے اکٹھ کی وجہ سے گزارا کر رہے ہیں ۔ وہاں مجھے پھر ایک تقریر کرنا پڑی جہاں ہم سالوں سے آباد ہیں ,اس مٹی کی زبان سیکھنے سے ہمیں کون روکتا رہا ہے۔ میں نے سیف الملوک ، بابا بھلے شاہ ، ہیر ، سب کا ترجمہ پرھا ہے ۔ جب مقامی زبان میں کوئی گیت سنتا ہوں تو آنکھوں سے آنسوں رواں کیوں ہوتے ہیں سمجھ آئے یا نہ آئے پٹھانے خان ،خواجہ فرید کو سُن کر جو کیفیت طاری ہوتی ہے وہ کبھی قران پڑھ کر کیوں نہیں ہوئی ۔ اردو سپیکنگ لوگ یعنی ہم لوگ جس نوابی شان سے اپنے علاقے کو اگنور کرتے ہیں اور بچوں کو بچا بچا کر رکھتے ہیں یہ مرکز کا بیانیہ ہے ۔ یہ کمی ہماری ہے کہ ہم ان میں گھل مل نہیں سکے ورنہ یہ پینڈو لوگ تو بہت پیار کرنے والے ہیں ۔ فیضان ہاشمی




مصنف کے بارے میں


...

کولاج

2016 - | Pakistan


کولاج کا بنیادی مقصد نوجوان نسل میں ادب اور سماج کے حوالے سے بیداری پیدا کرنا،ادبی اقدار کو فروغ دینا،فنونِ لطیفہ اور ادب کی عملی جہات کے حصول کے لئے تازہ اذہان پر دستک دینا ہے۔کولاج ادبی گروہ بندی اور مافیہ گیری سے بیزاری کا اظہار کرتا ہے اور ادب سے متعلق جملہ سنجیدہ اصحاب کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے آئندگاں کے لئے نئے راستوں کی تلاش پر یقین رکھتاہے۔




Comments