کربلا کا رخ کیا جب شاہ ِِ عالمگیر نے





کربلا کا رخ کیا جب شاہ ِ عالمگیر نے
شام تک جانا ہے مجھ کو ، کہہ دیا ہمشیر نے

بول کر لہجے میں حیدر کے، بھرے دربار میں
قصرِ باطل کو ہلایا زینب ِ دلگیر نے

گِر گیا اک  آن میں فاسق ارادوں کا محل
شرم کی زنجیر پہنا دی تری تقریر نے

آج تک تاریخ جس کی لا نہیں پائی مثال
ایسا یکتا وار اعدا پر کیا بے شیر نے

پارہ ءِ قرآنِ ناطق کے گلوئے خشک کو
کس طرح سے چھید ڈالا حرملہ کے تیر نے

اپنا سر دے کر کیا انسانیت کا سر بلند
مصحف ِ صامت کی اُس اک بولتی تصویر نے

خشک اور پیاسے گلوں سے خنجروں کو کاٹ کر
ظلم کو بے تیغ مارا حضرتِ شبیر نے

پھر نہ اٹھ پایا زمانے میں سر ِ بیعت کبھی
ایسا روندا عابد ِ بیمار کی زنجیر نے

کل تلک صحرا تھی تو اے ریگذار ِ کربلا
ہو گئی خاکِ شفا رکھے جو پا شبیر نے

تجھ پہ جھکتا ہی رہے گا  حشر تک مومن کا سر
کر دیا اونچا تجھے بھی خون ِ بے تقصیر نے

ختم تیرے غم ہوئے اُس روز سے اے ذوالفقار
چن لیا ہے جب سے یہ موضوع تری تحریر نے

ذوالفقارنقوی، جموں





مصنف کے بارے میں


...

ذوالفقار نقوی

10-06 - 1965 | مہنڈر پونچھ ، ریاست جموں و کشمیر، انڈیا


ذوالفقارنقوی.... 10 جون 1965 کو ریاست جموں و کشمیر ، ضلع پونچھ کے گاؤں گورسائی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جموں یونیورسٹی سے گریجویشن کی، بعد ازاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے ایم، اے کی ڈگری انگریزی ادب میں حاصل کی، کلکتہ سے بی۔ آئی ۔اے۔ایم۔ ایس کی ڈگری اور پھر جموں سے بی۔ ایڈ کی ڈگری حاصل کی۔ 1995 تا 1999 آل انڈیا ریڈیو پونچھ سے منسلک رہے جہاں بطور اناؤنسر اپنی خدمات سراجام دے رہے تھے کہ محکمہ تعلیم میں بطورانگلش لیکچرار تقرری ہو گئی انگریزی نظمیں لکھیں لیکن ارد گرد کے ماحول نے انہیں قبول نہیں کیا۔ اور وہ صرف چند اداروں تک ہی محدود رہیں۔ اردو ادب میراث میں ملا ہے اسکے ساتھ ساتھ گھر کا دینی ماحول اورعلماء حضرات سے مسلسل رابطے نے اردو ہی کو اپنے خیالات کے اظہار کا ذریعہ بنانے پر مجبور کیا۔ شاعری کا شوق بچپن سے ہی دامن گیر تھا۔ 1990 میں پہلی مکمل غزل کہی۔ نعت و سلام اور منقبت کہے نیز واقعہ کربلا کے حوالے سے جو قلمی واردات سر زد ہوتی رہیں انہیں ’’زاد سفر‘‘ کی صورت میں عباس بک ایجنسی لکھنئو نے 2011 میں شائع کیا ہے۔ غزلوں کا پہلا مجموعہ ’’اجالوں کا سفر‘‘ اردو فاؤنڈیشن ممبئی نے 2012 میں شائع کیا ۔ جبکہ مزید چار مجموعے زیر ترتیب ہیں ۔ ان کا کلام پاکستان اور ہندوستان کے متعدد ادبی جریدوں میں شائع ہوتا رہتا ہے




Comments