کوئی انیس، کوئی آشنا نہیں رکھتے



 

کوئی انیس، کوئی آشنا نہیں رکھتے

کسی کی آس بغیر از خدا نہیں رکھتے

 

نہ روئے بیٹوں کے غم میں حسین، واہ رے صبر

یہ داغ، ہوش بشر کے بجا نہیں رکھتے

 

کسی کو کیا ہو دلوں کی شکستگی کی خبر

کہ ٹوٹنے میں یہ شیشے صدا نہیں رکھتے

 

حسین کہتے تھے سونے کو پاؤں پھیلا کر

سوائے قبر کوئی اور جا نہیں رکھتے

 

سوائے کوثر و تسنیم و خلد و باغِ بہشت

یہ اشک ہیں وہ گہر، جو بہا نہیں رکھتے

 

ابو تراب سے جو پیشوا کے پیرو ہیں

قدم بھی خاک پہ وہ بے رضا نہیں رکھتے

 

یہ غل تھا دیکھ کے رخسارۂ علی اکبر

فلک پہ شمس و قمر یہ ضیا نہیں رکھتے

 

قناعت و گہرِ آبرو و دولتِ دیں

ہم اپنے کیسۂ خالی میں کیا نہیں رکھتے

 

فشارِ قبر کا ڈر ہو تو ان کو ہو، جو لوگ

کفن میں صرّۂ خاکِ شفا نہیں رکھتے

 

ہمیں تو دیتا ہے رازق بغیرِ منتِ خلق

وہی سوال کریں، جو خدا نہیں رکھتے

 

فقیر دوست جو ہو، ہم کو سرفراز کرے

کچھ اور فرش، بجز بوریا نہیں رکھتے

 

غمِ حسین کے داغوں سے دل کرو روشن

خبر لحد کے اندھیروں کی کیا نہیں رکھتے

 

مسافرو! شبِ اول بہت ہے تیرہ و تار

چراغِ قبر ابھی سے جلا نہیں رکھتے

 

وہ لوگ کون سے ہیں، اے خدائے کون و مکاں

سخن سے کان کو جو آشنا نہیں رکھتے؟

 

نبی کے حکم سے سر پھیرنا، معاذ اللہ

وہ کون ہیں، جو یہ ماتم بپا نہیں رکھتے؟

 

خدا نے آیۂ تطہیر جن کو بھیجا تھا

وہ پردہ دار سروں پر ردا نہیں رکھتے

 

مسافرانِ عدم کا پتہ ملے کیونکر

وہ یوں گئے کہ کہیں نقشِ پا نہیں رکھتے

 

نہ لُوٹو آل کو، اعدا سے کہتی تھی فضّہ

نبی کی روح سے بھی تم حیا نہیں رکھتے

 

سکینہ کہتی تھی، کیونکر نہ دم گھٹے، اماں!

دہاں ہیں بند، جو حجرے ہوا نہیں رکھتے

 

غش آتا راہ میں جس دم تو کہتے تھے عابد

وہ درد ہیں جو امّیدِ شفا نہیں رکھتے

 

تپِ دروں، غمِ فرقت، وَرَم، پیادہ روی

مرض تو اتنے ہیں اور کچھ دوا نہیں رکھتے

 

فلک پہ شور تھا، کٹتا ہے حلقِ پاکِ رسول

حسین تیغ کے نیچے گلا نہیں رکھتے

 

جہازِ آلِ نبی کیا بچے تباہی سے

تلاطم ایسا ہے اور ناخدا نہیں رکھتے

 

حسین تیغوں کے نیچے سے کس طرح ہٹتے

بڑھا کے پیچھے قدم، پیشوا نہیں رکھتے

 

گلوئے اصغرِ معصوم و تیر، واویلا

یہ ظلم وہ ہیں کہ جو انتہا نہیں رکھتے

 

شہادتِ پسرِ فاطمہ کا ہے یہ الم

کہ تابِ ضبط، رسولِ خدا نہیں رکھتے

 

فقط حسین پہ، یہ تفرقہ پڑا، ورنہ

کسی کی لاش سے سر کو جدا نہیں رکھتے

 

پنہا کے بیڑیاں کہتا تھا شمر، عابد سے

میانِ حلقۂ آہن، گلا نہیں رکھتے

 

سویم تو باپ کا کرنے دو، کہتے تھے سجاد

یہ پھول وہ ہیں، کہ جن کو اٹھا نہیں رکھتے

 

کُھلے گا حال اُنہیں، جبکہ آنکھ بند ہوئی

جو لوگ، الفتِ مشکل کشا نہیں رکھتے

 

جہاں کی عزت و خواہش سے ہے بشر کا خمیر

وہ کون ہیں؟ کہ جو حرص و ہوا نہیں رکھتے

 

انیس، بیچ کے جاں اپنی ہند سے نکلو

جو توشۂ سفرِ کربلا نہیں رکھتے






مصنف کے بارے میں


...

میر انیس

1803 - 1874 |


ببر علی انیس۔ اردو مرثیہ گو۔ میر مستحسن خلیق کے صاحبزادے تھے اور معروف مثنوی سحر البیان کے خالق میر غلام حسین حسن ان کے دادا تھے۔ فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ خاندانِ سادات سے تعلق تھا۔




Comments