چہلم ہے آج سرورِ عالی مقام کا



 

چہلم ہے آج سرورِ عالی مقام کا

عریاں ہے سر رسول علیہ السلام کا

 

زنداں سے چھُٹ کے آئے ہیں مقتل میں اہلِ بیت

لاشہ اٹھانے سبطِ رسولِ انام کا

 

تیاریاں ہیں دفنِ شہیدانِ پاک کی

مرقد بنا ہے ان میں ہر اک نیک نام کا

 

فضّہ پکاری بی بیو! آ کر شریک ہو

سجاد دفن کرتے ہیں لاشہ امام کا

 

بھائی کے ساتھ گاڑ دو اے کاش مجھ کو بھی

تھا یہ بیان زینبِ ناشاد کام کا

 

کہتی تھی بانو ملتا جو اک جام شِیر کا

دلواتی فاتحہ علی اصغر کے نام کا

 

یا رب دعا ہے تجھ سے یہ ہر دم انیس کی

روضہ دکھا حُسین علیہ السلام کا






مصنف کے بارے میں


...

میر انیس

1803 - 1874 |


ببر علی انیس۔ اردو مرثیہ گو۔ میر مستحسن خلیق کے صاحبزادے تھے اور معروف مثنوی سحر البیان کے خالق میر غلام حسین حسن ان کے دادا تھے۔ فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ خاندانِ سادات سے تعلق تھا۔




Comments