پڑا جو عکس تو ذرہ بھی آفتاب بنا



 

پڑا جو عکس تو ذرہ بھی آفتاب بنا

خدا کے نور سے جسمِ ابو تراب بنا

 

بِنائے روضۂ سرور جو کربلا میں ہوئی

مَلَک پکارے کہ اب خلد کا جواب بنا

 

جو آبرو کا ہے طالب تو کر عرق ریزی

یہ کشمکش ہوئی تب پھول سے گلاب بنا

 

مرے گناہوں کے دفتر کی ابتری کے لیے

نئے سیاق سے بگڑا ہوا حساب بنا

 

عمارتیں تو بنائیں خراب ہونے کو

اب اپنی قبر بھی او خانماں خراب بنا

 

یہ مشتعل ہوئی سینے میں آتشِ غمِ شاہ

کہ آہ سیخ بنی اور جگر کباب بنا

 

یہ غل تھا دیکھ کے دولھا دلھن کو خیمے میں

جو بے عدیل بنی ہے تو لاجواب بنا

 

ہوا پہ کیوں ہیں تنک مایگانِ بحرِ فنا

جو بڑھ گیا کوئی قطرہ تو وہ حباب بنا

 

فلک پہ نالۂ سوزاں نے آگ بھڑکائی

دھواں جو آہ کا نکلا مری، سحاب بنا

 

ترے سلام میں ہے مرثیے کا سارا لطف

انیس نظمِ غمِ شہ میں اک کتاب بنا






مصنف کے بارے میں


...

میر انیس

1803 - 1874 |


ببر علی انیس۔ اردو مرثیہ گو۔ میر مستحسن خلیق کے صاحبزادے تھے اور معروف مثنوی سحر البیان کے خالق میر غلام حسین حسن ان کے دادا تھے۔ فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ خاندانِ سادات سے تعلق تھا۔




Comments