نہ منصب سے غرض، نے خواہشِ جاگیر رکھتے ہیں



 

 

نہ منصب سے غرض، نے خواہشِ جاگیر رکھتے ہیں

جو رکھتے ہیں تو عشقِ روضۂ شبیر رکھتے ہیں

 

خیالِ زلف و روئے حضرتِ شبیر رکھتے ہیں

ہم اپنی چشم میں دن رات کی تصویر رکھتے ہیں

 

شبِ ہفتم سے ہے غیظ و غضب عباسِ غازی کو

نہ کاندھے سے سپر، نہ ہاتھ سے شمشیر رکھتے ہیں

 

ٹپک پڑتے ہیں مثلِ شمع آنسو، جلنے والوں کے

مرے دل سوز نالے بھی عجب تاثیر رکھتے ہیں

 

بِلا قید آئیں سائل، تھا یہ حکمِ حیدرِ صفدر

سخی جو ہیں وہ دروازے میں کب زنجیر رکھتے ہیں

 

تجرد پیشہ ہیں ، ہم کو عداوت ہے تعلق سے

کمر میں بہرِ قطعِ آرزو، زنجیر رکھتے ہیں

 

نبی کے نقشِ پا ہیں، یہ زمانہ جن سے روشن ہے

مہ و خورشید کب اس طرح کی تنویر رکھتے ہیں

 

ورائے فقر کیا ہے اور، گھر میں ہم فقیروں کے

وہ دیوانے ہیں دروازے میں جو زنجیر رکھتے ہیں

 

خوشی ہے قربِ حق کی، آرزو امت کی بخشش کی

گلا خود زیرِ خنجر حضرتِ شبیر رکھتے ہیں

 

بھلا دیکھیں فشارِ قبر یاں تک کیوں کر آتا ہے

کفن میں ہم غبارِ تربتِ شبیر رکھتے ہیں

 

وہ کٹواتے ہیں امت کے لیے سوکھے گلے اپنے

جو فردوسِ بریں میں جوئے شہد و شِیر رکھتے ہیں

 

علی کی تیغ سے کھودی ہے رن میں قبر چھوٹی سی

لحد میں آپ حضرت لاشۂ بے شِیر رکھتے ہیں

 

وطن سے جن سبھوں نے شاہ کو مہماں بلایا تھا

وہ تلواروں پہ باڑھیں ترکشوں میں تیر رکھتے ہیں

 

چبھو دیتا ہے خولی نوکِ نیزہ پشتِ عابد پر

زمیں پر ہاتھ سے جب پاؤں کی زنجیر رکھتے ہیں






مصنف کے بارے میں


...

میر انیس

1803 - 1874 |


ببر علی انیس۔ اردو مرثیہ گو۔ میر مستحسن خلیق کے صاحبزادے تھے اور معروف مثنوی سحر البیان کے خالق میر غلام حسین حسن ان کے دادا تھے۔ فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ خاندانِ سادات سے تعلق تھا۔




Comments