مرا رازِ دل آشکارا نہیں



 

مرا رازِ دل آشکارا نہیں

وہ دریا ہوں، جس کا کنارا نہیں

 

وہ گُل ہوں جدا سب سے ہے جس کا رنگ

وہ بُو ہوں کہ جو آشکارا نہیں

 

وہ پانی ہوں شیریں، نہیں جس میں شور

وہ آتش ہوں، جس میں شرارا نہیں

 

بہت زالِ دنیا نے دیں بازیاں

میں وہ نوجواں ہوں، جو ہارا نہیں

 

جہنم سے ہم بے قراروں کو کیا

جو آتش پہ ٹھہرے، وہ پارا نہیں

 

فقیروں کی مجلس ہے سب سے جدا

امیروں کا یاں تک گزارا نہیں

 

سکندر کی خاطر بھی ہے سدِّ باب

جو دارا بھی ہو تو مدارا نہیں

 

گئے پہنے نعلین واں مصطفیٰ

فرشتے کا جس جا گزارا نہیں

 

فقیروں کو پیسو، نہ اے منعمو!

تمہارا خدا ہے، ہمارا نہیں؟

 

انہیں کو وہ رزاق دیتا ہے رزق

جنہیں نانِ جو کا سہارا نہیں

پھرے دوست، جب ہو گئی قبر بند

کھُلا اب کہ کوئی ہمارا نہیں

 

گرے ڈگمگا کر زمیں پر حسین!

کسی نے فرس سے اتارا نہیں

 

ترے صبر کے میں فدا یا حسین!

چھُری کے تلے دم بھی مارا نہیں

 

ہے صف بستہ گویا ملائک کی صف

یہ بزمِ شہِ دیں صف آرا نہیں

 

کسی نے تری طرح سے اے انیس

عروسِ سخن کو سنوارا نہیں






مصنف کے بارے میں


...

میر انیس

1803 - 1874 |


ببر علی انیس۔ اردو مرثیہ گو۔ میر مستحسن خلیق کے صاحبزادے تھے اور معروف مثنوی سحر البیان کے خالق میر غلام حسین حسن ان کے دادا تھے۔ فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ خاندانِ سادات سے تعلق تھا۔




Comments