سدا ہے فکر ترقی بلند بینوں کو



 

 

سدا ہے فکر ترقی بلند بینوں کو

ہم آسمان سے لائے ہیں ان زمینوں کو

 

پڑھیں درود نہ کیوں دیکھ کر حسینوں کو

خیال صنعت صانع ہے پاک بینوں کو

 

لحد میں سوئےہیں چھوڑا ہے شہ نشینوں کو

قضا کہاں سے کہاں لے گئی مکینوں کو

 

یہ جھریاں نہیں ہاتھوں پہ ضعف پیری نے

چنا ہے جامہ ہستی کی آستینوں کو

 

لگا رہا ہوں مضامین نو کے پھر انبار

خبر کرو مرے خرمن کے خوشہ چینوں کو

 

بجا ہے اس لیئے اکبر سے تھا حسین سے عشق

کہ دوست رکھتا ہے اللہ بھی حسینوں کو

 

حسین جاتے ہیں بحر نبرد میداں میں

چڑھائے مثل یدا للہ آستینوں کو

 

بھلا تردّد بے جا پہ اس میں کیا حاصل

اٹھا چکے ہیں زمیندار ان زمینوں کو

 

علم لیئے ہوئے عبّاس نکلے خیمے سے

چڑھا لیا علی اکبر نےآستینوں کو

 

مزہ یہ طرفہ ہے مضمون تک بھی یاد نہیں

مقابلہ پہ چڑھائے ہیں ہیں آستینوں کو

غلط یہ لفظ'وہ بندش بری' یہ مضموں سست

ہنر عجیب ملا ہے یہ نکتہ چینوں کو

 

فلک پہ جب ہوئ آواز ارکبو دم تو

تو غازیوں نے رکھا مرکبوں پہ زینوں کو

 

لگا وغا میں ٹپکنے لہو جو قبضہ سے

چڑھا لیا شہ والا نے آستینوں کو

 

دہان کیسہ زر بند کر پر ائے منعم

خدا کے واسطے وا کر جبیں کی چینوں کو

 

خیال خاطر احباب چاہیئے ہر دم

انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو






مصنف کے بارے میں


...

میر انیس

1803 - 1874 |


ببر علی انیس۔ اردو مرثیہ گو۔ میر مستحسن خلیق کے صاحبزادے تھے اور معروف مثنوی سحر البیان کے خالق میر غلام حسین حسن ان کے دادا تھے۔ فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ خاندانِ سادات سے تعلق تھا۔




Comments