سبطِ نبی کے سینے پہ قاتل سوار ہے



دنیا میں آج حشر کا دن آشکار ہے

سبطِ نبی کے سینے پہ قاتل سوار ہے

چلّا رہی ہے خیمے سے زینب اتر لعیں

بھائی کا میرے زخموں سے سینہ فگار ہے

کہتے تھے شاہ شمر سے مجھ کو نہ ذبح کر

دنیائے چند روزہ کا کیا اعتبار ہے

مر جاؤں گا میں آپ ہی اب تھوڑی دیر میں

قالب میں روح کا کوئی دم کو قرار ہے

اُنّیس سو ہیں تیغ و سنان و تبر کے زخم

سنگِ ستم کے خوں سے بدن لالہ زار ہے

قرآں ہے صاف سینہ یہ بیٹھا ہے جس پہ تو

بوسہ گہِ رسول پہ خنجر کی دھار ہے

ہے زلزلہ زمیں کو گہن میں ہے آفتاب

بارش ہے خوں کی چشمِ فلک اشکبار ہے

ہے عنقریب پھونکے سرافیل صور کو

بس حکمِ کبریا کا فقط انتظار ہے

اب آگے کر بیاں نہ انیسِ جگر فگار

یہ دن وہ ہے کہ سارا جہاں اشکبار ہے







مصنف کے بارے میں


...

میر انیس

1803 - 1874 |


ببر علی انیس۔ اردو مرثیہ گو۔ میر مستحسن خلیق کے صاحبزادے تھے اور معروف مثنوی سحر البیان کے خالق میر غلام حسین حسن ان کے دادا تھے۔ فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ خاندانِ سادات سے تعلق تھا۔




Comments