زباں پر مدح ہے باغِ علی کے نونہالوں کی



زباں پر مدح ہے باغِ علی کے نونہالوں کی

گلستاں سے ہیں رنگیں مجلسیں نازک خیالوں کی

وہ پہلو اور پیکانِ سہ پہلو، کیا قیامت ہے

وہ سینہ شہ کا اور نوکیں ستمگاروں کے بھالوں کی

کمر کس کر علی اکبر نے جب سر پر رکھا شملہ

بلائیں لے لیں اٹھ کر ماں نے گھونگر والے بالوں کی

جوانانِ حسینی نے صفیں توڑیں، پرے اُلٹے

نہ بھولے گی لڑائی تا قیامت، مرنے والوں کی

قلم بھی رہ گیا ہر بار نقطہ دے کے ناخن پر

نہ سوجھی جب کوئی تشبیہ روئے شہ کے خالوں کی

علی اکبر کے ابرو دیکھتا تھا جو، وہ کہتا تھا

یہ تصویریں ہیں دونوں چاند کے پیچھے ہلالوں کی

"بحمد اللہ!" عابد کہتے تھے جب پوچھتیں زینب

"پھپھی قربان اب کیا شکل ہے تلووں کے چھالوں کی"

معاذاللہ! رعبِ دلبرانِ حضرتِ زینب

علی کا رعب، چتون شیر کی، آنکھیں غزالوں کی

جھکے تھے سر، عرق چہروں پہ تھا اور بند تھیں آنکھیں

پڑی تھیں چادریں سیدانیوں کے منہ پہ بالوں کی

جھکا تھا پشت پر ایک اک کی، سر ایک ایک بی بی کا

یہ نقشہ قیدیوں کا تھا، یہ صورت پردے والوں کی

اٹھائے یہ سکینہ نے جفائے شمر کے صدمے

کہ رنگت ہو گئی تھی سوسنی، اُن گُل سے گالوں کی

ہوا اک حشر، جب زینب نے پوچھا آ کے مقتل میں

کہاں قبریں بنی ہیں، میرے دونوں مرنے والوں کی

عزا دار، اِس طرف سب تعزیے شہ کے اٹھاتے ہیں

اُدھر نقلیں لکھی جاتی ہیں جنت کے قبالوں کی

جو پوچھا حالِ انصار آ کے زعفر نے شہِ دیں سے

کہا شہ نے حقیقت کچھ نہ پوچھو مرنے والوں کی

جری ایسے نہ ہوں گے باغِ عالم میں کبھی پیدا

زباں سے کیا بیاں تعریف ہو یوسف جمالوں کی

غمِ اصغر میں، بانو کہتی تھیں، مرتی ہوں اے بیٹا

سُنگھاؤ اٹھ کے خوشبو اپنے گھونگھر والے بالوں کی

رفیقانِ حسین ابنِ علی کیا کیا بہادر تھے

سناں کھائی ہر اک نے چاند سے سینے پہ بھالوں کی

جب آتا ذکر بیٹوں کا، تو زینب سب سے کہتی تھیں

خدا بخشے ابھی کیا عمر تھی اُن مرنے والوں کی

جگہ جب مول لی شہ نے، تو ہاتف نے کہا رو کر

یہیں بستی بسے گی، فاطمہ کے نونہالوں کی

پڑے تھے خاک پر اہلِ حرم، تکیہ نہ بستر تھا

ہوئی تھی شکل زنداں میں یہ اُن یوسف جمالوں کی

کہا زینب سے بیٹوں نے اجازت آپ تو دیجے

سِنانیں شوق سے ہم کھائیں گے سینوں پہ بھالوں کی

بوقتِ جوشِ گریہ فاطمہ کہتی تھیں محبّوں سے

جگہ آنکھوں میں اور دل میں ہے اِن سب رونے والوں کی

جب آئے غیض میں عباس فوجِ شام کے آگے

صفیں ہٹ ہٹ گئیں میدان سے جنگی رسالوں کی

گرے جب شاہ گھوڑے سے، ندا ہاتف کی یہ آئی

جگہ جھاڑی ہوئی ہے، فاطمہ زہرا کے بالوں کی

کبھی مقتل، کبھی کوفہ، کبھی صحرا، کبھی زنداں

حقیقت کچھ نہ پوچھو فاطمہ کبریٰ کے چالوں کی

جب آئی لوٹنے کو فوج خیمے میں ہوا محشر

صدا پہنچی فلک پر فاطمہ زہرا کے نالوں کی

چمکتی برق کی صورت تھی ہر شمشیر میداں میں

برستے سر تھے ہر جا پر گھٹا چھائی تھی ڈھالوں کی

انیس اب تو ہلال و بدر کو یکساں سمجھتے ہیں

رہی ہے منصفوں میں قدر یہ صاحب کمالوں کی






مصنف کے بارے میں


...

میر انیس

1803 - 1874 |


ببر علی انیس۔ اردو مرثیہ گو۔ میر مستحسن خلیق کے صاحبزادے تھے اور معروف مثنوی سحر البیان کے خالق میر غلام حسین حسن ان کے دادا تھے۔ فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ خاندانِ سادات سے تعلق تھا۔




Comments