رنجِ دُنیا سے کبھی چشم اپنی نم رکھتے نہیں



 

رنجِ دُنیا سے کبھی چشم اپنی نم رکھتے نہیں

جُز غمِ آلِ عبا ہم اور غم رکھتے نہیں

 

کربلا پُہنچے زیارت کی ہمیں پروا ہے کیا؟

اب ارم بھی ہاتھ آئے تو قدم رکھتے نہیں

 

در پہ شاہوں کے نہیں جاتے فقیر اللہ کے

سر جہاں رکھتے ہیں سب، ہم واں قدم رکھتے نہیں

 

دیکھنا کل ٹھوکریں کھاتے پھریں گے اُنکے سر

آج نخوت سے زمین پر جو قدم رکھتے نہیں

 

کہتے تھے اعدا کہ بچے بھی علی کے شیر ہیں

جب بڑھاتے ہیں تو پھر پیچھے قدم رکھتے نہیں

 

چادریں جب چھینیں رانڈوں کی تو عابد نے کہا

کچھ حیا و شرم یہ اہلِ ستم رکھتے نہیں

 

مرثیے اِک دن میں کیا سب کہہ کے اُٹھو گے انیس

ہاتھ سے کیوں آج قرطاس و قلم رکھتے نہیں






مصنف کے بارے میں


...

میر انیس

1803 - 1874 |


ببر علی انیس۔ اردو مرثیہ گو۔ میر مستحسن خلیق کے صاحبزادے تھے اور معروف مثنوی سحر البیان کے خالق میر غلام حسین حسن ان کے دادا تھے۔ فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ خاندانِ سادات سے تعلق تھا۔




Comments