خوشا زمینِ معلیٰ، زہے فضائے نجف




خوشا زمینِ معلیٰ، زہے فضائے نجف
ریاضِ خلد بھی ہے شائقِ ہوائے نجف

یہ شوق ہے کہ نہ بیدار ہوں قیامت تک
جو خواب میں کبھی نقشہ مجھے دکھائے نجف

پہنچ کے خلد میں جب دیکھتے ہیں قصرِ رفیع
پکار اٹھتے ہیں زوّار، ہائے ہائے نجف

مریض کے لیے اکسیر ہیں یہ دو نسخے
غبارِ مرقدِ شبیر اور ہوائے نجف

جسے خدا سے محبت ہے اس کو کعبے سے
جسے ولائے علی ہے، اسے ولائے نجف

ملی انگوٹھی بھی ویسی ہی، تھا نگیں جیسا
نجف برائے علی تھا، علی برائے نجف

وہاں قدم کا ہے کیا کام، اے ادب، توبہ
سروں سے چلنے کے قابل ہیں کوچہ ہائے نجف

جسے بہشت میں آنا ہو، آئے وہ مجھ تک
ہر اک دیار میں آتی ہے یہ صدائے نجف

علی کی قبر کے زوّار، پاک دامن ہیں
گناہ ڈھنپ گئے، جب اوڑھ لی ردائے نجف

شراب بنتی ہے سرکہ، علی کی دہشت سے
یہ انقلاب نہ دیکھا کہیں، سوائے نجف

اِدھر سے کوششِ کامل ہے، اُس طرف سے کشش
انیس ہم نہ رہیں گے کہیں، سوائے نجف






مصنف کے بارے میں


...

میر انیس

1803 - 1874 |


ببر علی انیس۔ اردو مرثیہ گو۔ میر مستحسن خلیق کے صاحبزادے تھے اور معروف مثنوی سحر البیان کے خالق میر غلام حسین حسن ان کے دادا تھے۔ فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ خاندانِ سادات سے تعلق تھا۔




Comments