جز پنجتن کسی سے تولّا نہ چاہیے



جز پنجتن کسی سے تولّا نہ چاہیے
غیر از خدا کسی کا بھروسا نہ چاہیے
ہم عازمِ سفر ہیں بتاؤ مسافرو
کیا اس سفر میں چاہیے اور کیا نہ چاہیے
ہر اک کے واسطے ہے ترقی بقدرِ حال
اَسفل کو فکرِ منصبِ اعلیٰ نہ چاہیے
ہر کوہ پر نہ ہوگی تجلی مثالِ طور!
ہر ہاتھ کے لیے یدِ بیضا نہ چاہیے
پانی کا ذکر کرتی سکینہ تو کہتے شاہ
بی بی محال شے کی تمنا نہ چاہیے
کہتی تھی فضّہ شام میں بازاریو ہٹو!
زہرا کی بیٹیوں کا تماشا نہ چاہیے
یہ کون بی بیاں ہیں تمہیں کچھ خبر بھی ہے
آلِ رسول پر ستم ایسا نہ چاہیے
مرقد چراغِ داغ سے روشن رہے انیس
شب کو اکیلے گھر میں اندھیرا نہ چاہیے





مصنف کے بارے میں


...

میر انیس

1803 - 1874 |


ببر علی انیس۔ اردو مرثیہ گو۔ میر مستحسن خلیق کے صاحبزادے تھے اور معروف مثنوی سحر البیان کے خالق میر غلام حسین حسن ان کے دادا تھے۔ فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ خاندانِ سادات سے تعلق تھا۔




Comments