ابتدا سے ہم ضعیف و ناتواں پیدا ہوئے



ابتدا سے ہم ضعیف و ناتواں پیدا ہوئے

اُڑ گیا جب رنگ رُخ سے، استخواں پیدا ہوئے

خاکساری نے دکھائیں رفعتوں پر رفعتیں

اس زمیں سے واہ کیا کیا آسماں پیدا ہوئے

علمِ خالق کا خزانہ ہے، میانِ کاف و نون

ایک کُن کہنے سے یہ کون و مکاں پیدا ہوئے

ہاتھ خالی آئی لاشوں پر شہیدوں کے نسیم

پھول بھی اس فصل میں ایسے گراں پیدا ہوئے

نوبتِ جمشید و دارا و سکندر اب کہاں

خاک تک چھانی، نہ قبروں کے نشاں پیدا ہوئے

جب کوئی آیا عدم سے یاں، تو بولی ہنس کے موت

اور لو، دو چار دن کے میہماں پیدا ہوئے

ضبط دیکھو، سب کی سُن لی اور نہ کچھ اپنی کہی

اس زباں دانی پہ ایسے بے زباں پیدا ہوئے

جان دی حُر نے تو حضرت نے دیا باغِ ارم

میہماں ایسے، نہ ایسے میزباں پیدا ہوئے

یک بیک ایسا زمانے میں ہوا ہے انقلاب

قدر داں سب اٹھ گئے، نا قدر داں پیدا ہوئے

بود و نابودِ علی اصغر کا کیا کیجے بیاں

بے زباں دنیا سے اُٹھے بے زباں پیدا ہوئے

دیکھ کر لاشوں کو حضرت کہتے تھے وا غربتا

موت لے آئی کہاں ان کو کہاں پیدا ہوئے

شور بختی آئی حصے میں انہیں کے، وا نصیب

تلخ کامی کے لیے شیریں زباں پیدا ہوئے

احتیاطِ جسم کیا، انجام کو سوچو انیس

خاک ہونے کو یہ مشتِ استخواں پیدا ہوئے






مصنف کے بارے میں


...

میر انیس

1803 - 1874 |


ببر علی انیس۔ اردو مرثیہ گو۔ میر مستحسن خلیق کے صاحبزادے تھے اور معروف مثنوی سحر البیان کے خالق میر غلام حسین حسن ان کے دادا تھے۔ فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ خاندانِ سادات سے تعلق تھا۔




Comments