آ کے جو بزمِ عزا میں رو گئے



 

آ کے جو بزمِ عزا میں رو گئے

  مجرئی! وہ فردِ عصیاں دھو گئے

 

یاد آیا دامنِ مادر کا چین!

پاؤں پھیلا کر لحد میں سو گئے

 

اشک کیا نکلیں کڑے احوال پر

سنتے سنتے قلب پتھر ہو گئے

 

موت آئی ہے محبّو، "الفراق"

آج سب وعدے برابر ہو گئے

 

ہاتھ سے جاتا رہا نقدِ حیات

جان لے کر آئے، بے جاں ہو گئے

 

عالمِ فانی میں ہم کو کیا ملا

اور کچھ اپنی گرہ سے کھو گئے

 

راحت آبادِ عدم ہے خوب جا

پھر نہ آئے وہ، جہاں سے جو گئے

 

ہتھکڑی اور بیڑیوں کو دیکھ کر

دست و پا عابد کے ٹھنڈے ہو گئے

 

چھد گیا مثلِ گہر ناوک سے حلق

لعل سی جاں اصغر اپنی کھو گئے

 

خون گردن سے جو نکلا گرم گرم

بھر کے آہِ سرد ٹھنڈے ہو گئے

 

آ کے تربت پر پکارے شاہِ دیں

ہائے آج اصغر اکیلے ہو گئے

 

احمد و زہرا و حیدر اور حسن

آ کے سب لاشے پہ حُر کے رو گئے

 

عالمِ پیری میں یہ غفلت انیس

رات بھر جاگے، سحر کو سو گئے






مصنف کے بارے میں


...

میر انیس

1803 - 1874 |


ببر علی انیس۔ اردو مرثیہ گو۔ میر مستحسن خلیق کے صاحبزادے تھے اور معروف مثنوی سحر البیان کے خالق میر غلام حسین حسن ان کے دادا تھے۔ فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ خاندانِ سادات سے تعلق تھا۔




Comments