سلام بہ کربلا



اے فلکِ کربلا ، تشنہ لب و تشنہ کام

دیکھ سرِ دشت ہے سبطِ رسولِ انامؐ

قافلۂ صدق کا شاہ سوارِ عظیم

راحلۂ صبر کا راہ برِ خوش خرام

دیکھ تری خاک پر کس کا گرا ہے لہو

کس نے لٹایا ہے گھر، کس کے جلے ہیں خیام

اے نگہِ دشتِ شام! دیکھ ذرا غور سے

اپنے شہیدوں کا خوں، اپنے اسیروں کی شام

کس نے بتایا تجھے، کس نے دکھایا تجھے

کذب بیانوں پہ ہے کارِ شجاعت حرام

سبطِؓ نبی ؐ کے سوا، ابنِ علیؓ کے سوا

کون ہوا سرخ رُو، کس کو ملا ہے دوام

تیرے کفِ گِل پہ ہے لمسِ قدومِ حسینؓ

رہ گزرِ کربلا! تجھ پہ ہزاروں سلام






Comments