بجناب بی بی فاطمۃ الزہرا سلام ﷲ علیہا



مرے سامنے حَرم تھا، مجھے دیر ہو رہی تھی

سو، وجود بھی عدم تھا، مجھے دیر ہو رہی تھی

وہ ہنر کہاں سے لاتا؟ کہ یہ غم نمود پاتا

نم ِخود نمو بہم تھا، مجھے دیر ہو رہی تھی

ابھی شام ڈھل رہی تھی، ابھی رات جل رہی تھی

ابھی  وا  دَرِ کرم تھا، مجھے دیر ہو رہی تھی

نہ بیاں میں کوئی دم تھا، نہ قلم گہر رقم تھا

مری جاں پہ قرضِ غم تھا،مجھے دیر ہو رہی تھی

کوئی رنج تھا، نہ غم تھا، نہ زیادہ تھا نہ کم تھا

مرا عشق ہم قدم تھا، مجھے دیر ہو رہی تھی

مرے ساتھ ڈھل رہا تھا ، مرے ساتھ چل رہا تھا

ابھی شہر ہم قدم تھا، مجھے دیر ہو رہی تھی

وہی منزل ِسبل تھا، وہی منتہائے کل تھا

پسِ جاں عجب اُدھم تھا، مجھے دیر ہو رہی تھی

نہ غلِ دَر ِقفس تھا، نہ وہ نالۂ جرس تھا

مرے سر پہ بارِ غم تھا، مجھے دیر ہو رہی تھی

کہیں راہ کھو نہ جائے، کہیں رات ہو نہ جائے

یہی خوف ہر قدم تھا، مجھے دیر ہو رہی تھی

مرے ساتھ پا پیادہ، مرا ماہتاب زادہ

مرے ساتھ غرقِ َرم تھا، مجھے دیر ہو رہی تھی

مرا دکھ بہت بڑا تھا، سو پسِ مژہ پڑا تھا

یہی زادِ راہِ غم تھا، مجھے دیر ہو رہی تھی

ابھی صحن میں کھڑی تھی، ابھی رات دو گھڑی تھی

ابھی میرے دم میں دم تھا، مجھے دیر ہو رہی تھی

وہ کہیں چلا نہ جائے، وہ پھر آئے یا نہ آئے

مرے پاس وقت کم تھا، مجھے دیر ہو رہی تھی

لب ِ عرض پاش کیا تھا؟ فقط ارتعاش سا تھا

مجھے حوصلہ نہ دَم تھا، مجھے دیر ہو رہی تھی

مجھے تاب ِ یک نفس تھی، نہ مجالِ پیش وپس تھی

نہ خیالِ بیش و کم تھا، مجھے دیر ہو رہی تھی

کہیں بَین ہو رہا تھا، کوئی مجھ میں رو رہا تھا

ابھی میرے دم میں دم تھا، مجھے دیر ہو رہی تھی

وہ سوار آ رہا تھا کہ غبار جا رہا تھا

گلِ گرد غرقِ رَم تھا، مجھے دیر ہو رہی تھی

سرِ راہِ شاہِ والا، ابھی ٹوٹنے ہی والا

مرے عشق کا بھرم تھا، مجھے دیر ہو رہی تھی






مصنف کے بارے میں


...

خالد احمد

1944 - 2013 |


خالد احمد




Comments