بجناب امام زین العابدین علیہ السلام



نکلے تھے جلتے شہر سے چھوڑ کے گھر بَرَہنہ پا

ہم نے پھر اُس کے ساتھ کی عمر بسر بَرَہنہ پا

ہاں! یہی کار زار تھا ، ہاں! یہی خار زار تھا

سر بہ کف اپنے ساتھ تھا، وہ بھی مگر بَرَہنہ پا

یاد نہیں کسی کو بھی، بھول گئے جسے سبھی

ہم ہیں اُسی شکست کے زیرِ اثر بَرَہنہ پا

منزلِ عشق ہو گئی، شام دمشق ہو گئی

صبح سے آفتاب تھا، گرمِ سفر بَرَہنہ پا

اہلِ الم کے ساتھ تھی، موجِ نمِ فرات بھی

آبلے پھوڑتے رہے ، راستے بھر بَرَہنہ پا

عجزِ کمالِ فن لیے، فکرِ جمالِ فن لیے

شیش محل تک آ گئے آئنہ گر، بَرَہنہ پا

مستِ جمالِ سرمگیں! ڈھونڈ اُسے یہیں کہیں

دیکھا تھا وہ ابھی یہیں، خاک بہ سر، بَرَہنہ پا

شہر بدر کیے گئے، مہبطِ زر نگار سے

خالدِ کم عیار سے بَرہنہ سر، بَرَہنہ پا






مصنف کے بارے میں


...

خالد احمد

1944 - 2013 |


خالد احمد




Comments