یہ سمندر جھیل ندیاں سب برائے تشنگی



یہ سمندر جھیل ندیاں سب برائے تشنگی
کس لئے پھر ناز پانی کے اٹھائے تشنگی
ہے سرِ تنزیل حکمِ انمائے تشنگی
اپنے دانتوں سے ہے مشکیزہ اُٹھائے تشنگی
وقت جب سجدہ کرے گا عصر کی دہلیز پر
ہر طرف لہرایا جائے گا لوائے تشنگی
حشر سے پہلے نہ لگ جائے کہیں پانی میں آگ
موجِ دریا کے مقابل ہے ہوائے تشنگی
خاک سے جاری ہو چشمہ ایڑیاں رگڑے بغیر
جامِ کوثر چل کے آئے خود برائے تشنگی
ہو مفصل داستاں مضمون سے عنوان تک
نامِ اصغر ع لکھ دیا جائے بجائے تشنگی
خیمہءِ شبیر ع پر حُر ع نے کیا آ کر سوال
اے خدائے تشنگی دے کچھ جزائے تشنگی
کوئی ثابت کر نہیں سکتا میانِ کربلا
جلتے خیموں سے صدا آئی ہو ہائے تشنگی
عرصہءِ محشر تلک پانی سے پہرے اُٹھ گئے
ہم اسے کہتے ہیں اکبر معجزائے تشنگی





Comments