پیش و پس سے ہے جدا عکسِ پریدہ میرا



پیش و پس سے ہے جدا عکسِ پریدہ میرا
جیسا جو چاھے بنا سکتا ہے چہرہ میرا
کربلا میری نجف میرا مدینہ میرا
میرے کنبے میں نظر آئے گا جلوہ میرا
آسمانوں پہ ابھی جاری ہے چرچا میرا
یک و تنہا ہے سرِ عرش یوں سجدہ میرا
کربلا ہوں میری دہلیز پہ آئے گا ضرور
دور سے دیکھ لیا جس نے نظارہ میرا
لطفِ سجدہ تھا عجب پشت پہ قاتل تھا سوار
اور جو سامنے میرے تھا خدا تھا میرا
ایک دن آبِ رواں کر دیا کوثر پہ نثار
اور پھر ہو گیا ہر نہر پہ قبضہ میرا
پھیل جائے گی مرے خون کی خوشبو ہر سو
چاروں جانب نظر آئے گا قبیلہ میرا
گزری صدیاں بھی مرے صبر کی صدیاں ٹہریں
آنے والا بھی زمانہ ہے زمانہ میرا






Comments