ماتم کیا گیا کبھی گریہ کیا گیا



ماتم کیا گیا کبھی گریہ کیا گیا
گھر اپنا کربلا کا علاقہ کیا گیا
فطرت پہ اختیار سے قبضہ کیا گیا
یعنی دیا بجھا کے اجالا کیا گیا
عادل نے صبر و حرب میں برتا یو‍ں اعتدال
کچھ کم کیا گیا نہ زیادہ کیا گیا
روزِ ازل سے نوکِ سناں تک اٹل حسین ع
وعدہ کیا گیا تھا سو پورا کیا گیا
اہلِ عزا کے گریے سے گھبرا کے ایک دن
کعبہ ترا لباس بھی کالا کیا گیا
حر ع کر چکا حسین ع کی ماں کا جب احترام
فہرستِ تشنگاں میں اضافہ کیا گیا
حر ع غیر بن کے آیا تھا دریا سے کاٹنے
دریا سے کاٹ کر اسے اپنا کیا گیا
مجھ کو دکھائی دیتے ہیں مسجود کے نشاں
کہتے ہیں لوگ اس جگہ سجدہ کیا گیا؟
تسنیم وسلسبیل طنابوں سے باندھ کر
صحرا میں نصب پیاس کا خیمہ کیا گیا
بن کر امام شکر کے سجدے کیے گئے
اور باپ بن کے لاشوں پہ گریہ کیا گیا
شہ ع کے سفر میں ایک وہ منزل بھی آئی جب
زینب س کی خیمہ گاہ کو کعبہ کیا گیا





Comments