سماں مل کر بہتر نے یہ کیسا باندھ رکھا ہے



سماں مل کر بہتر نے یہ کیسا باندھ رکھا ہے
بدن پہ بے کفن لاشوں نے کعبہ باندھ رکھا ہے
رگیں کٹ جائیں گی لیکن تلاوت کٹ نہ پائی گی
گلے پر شہ ع نے پیغمبر ص کا بوسہ باندھ رکھا ہے
سبیلوں کی غلامی کر رہا ہے آج بھی پانی
کسی مشکیزے نے تسمے سے دریا باندھ رکھا ہے
جبیں سجدے سے سجدہ خاک سے اور خاک قدموں سے
تسلسل نے مرا مولیٰ ع سے رشتہ باندھ رکھا ہے
ستارہ بھر گیا تھا روشنی سورج کے چلُو میں
اُسی چُلُّو نے دنیا میں اجالا باندھ رکھا ہے
کمانِ حرملا لع کو کیا خبر تھی تیر کا کب سے
علی اصغر ع نے گردن سے نشانہ باندھ رکھا ہے
زمانہ جس کو اکبر قیدی و لاچار سمجھا ہے
اُسی قیدی نے قدموں سے زمانہ باندھ رکھا ہے





Comments