رات روشن تھا عجب نُور دیے کی لو میں



رات روشن تھا عجب نُور دیے کی لو میں
کیا خُدا تھا شبِ عاشور دیے کی لو میں
پیاس ہر روز ہوئی دن کے اُجالے میں رقم
طے ہوا صبر کا دستور دیے کی لو میں
ان اصولوں پہ ابھاروں گا میں کل کا سورج
لکھ رہا ہوں جو یہ منشور دیے کی لو میں
عاجزی اپنے چراغوں کو بُجھا، راستہ کھول
رہ نہ جائے کوئے مغرور دیے کی لو میں
بے ردا کنبہ ہے مصروفِ ِنمازِ مغرب
آج اُجالا نہیں منظور دیے کی لو میں
کون ہیں دیکھو جو کاٹے ہوئے سر گنتے ہیں
جلتے خیموں سے ذرا دور دیے کی لو میں
یہ تو شبیر ع کے چہرے کی ضیا ہے اکبر
یہ چمک کب تھی سرِ طور دیے کی لو میں





Comments