دشت میں یہ بہار نعمت ہے



دشت میں یہ بہار نعمت ہے
کربلا کا غبار نعمت ہے
تیغ کی تیغ اور سپر کی سپر
سایہءِ ذوالفقار نعمت ہے
اک ترا اسم اسمِ رحمتِ جاں
اک ترا انتظار نعمت ہے
اس میں اک تعزیہ ہے مولیٰ ع کا
یہ دلِ سوگوار نعمت ہے
چشمِ گریہ دوام ذکرِ حسین ع
اس سے بڑھ کر بھی یار نعمت ہے
روزِ عاشور خون کا پرسہ
اہلِ غم کو ہزار نعمت ہے
مجھ کو حُر ع نے بتایا ہے اکبر
دیکھ زحمت کے پار نعمت ہے






Comments