حق کو مقصود نہ اعلاں جو سرِ خُم ہوتا



حق کو مقصود نہ اعلاں جو سرِ خُم ہوتا
سارا موجود عدم ہی میں کہیں گُم ہوتا
نطقِ حیدر ع جو نہ زنجیرِ سخن کرتا انھیں
ک" اور" ن "کے مابین تصادُم ہوتا"
یہ ذبیحہ یہ طواف و صفا مروہ سب کچھ
دین نسبت سے نہ ہوتا تو توَہُّم ہوتا
سچ بتانا جو محمد ص وہاں تنہا ہوتے
پسِ پردہ شبِ معراج تکلُّم ہوتا؟
ولدیت میں علیؑ کی جو نہ ہوتی یہ تراب
کہیں کی خاک سے پھر خاک تیَمُّم ہوتا
کر دیا جاتا اگر مرقدِ زہرا س کو عیاں
مرکزِ شہرِ مدینہ بھی وہی قُم ہوتا
کر گیا ھنس کے تبسم کے معانی کو بحال
وہ جو رو دیتا تو رونا ہی تبسُّم ہوتا
غیظ میں آتی اگر مشکِ سکینہ س اکبر
کوئی دریا نہ سمندر نہ تلاطُم ہوتا





Comments