باغوں پہ کُھل رہے ہیں معانی بہار کے



باغوں پہ کُھل رہے ہیں معانی بہار کے
حُر ع آ رہا ہے مہلتِ یک شب گزار کے
دل سے ہر ایک خواھشِ دنیا کو مار کے
سر کر لیے فقیر نے دنیا کے معرکے
عباس ع اور ثانیِ زہراس ، پئے حسین ع
دو ہی صحیفے دیکھے گئے اعتبار کے
اصغر ع کو لے کے گود میں خیموں سے جب چلے
شہ ع نے ہزار بوسے لیے شہ سوار کے
سجدے میں ہے حسین ع کا سر یا الہٰی
آج
پرچم بلند ہوں گے ترے اقتدار کے
سر ہے درِ بتول س پہ نظریں فلک پہ ہیں
منظر دکھائی دینے لگے آر پار کے
آدم تا عیسی اترے ہیں اصغر ع کی قبر میں
پاؤں دبانے آئے ہیں سب شیر خوار کے
اصغر ع کا ہے تبسمِ معصومیت دلیل
اس نے دکھائے حوصلے پروردگار کے
لبیک کہہ کے وقتِ سحر ہو گا وہ طلوع
حر ع تو ابھی سرور میں ہے انتظار کے
نورِ بتول بھی ہے علی ع کے جہاد میں
کچھ وار کے کمال ہیں کچھ ذوالفقار کے
اکبر بیانِ میثمِ تمار ع سنتا جا
مطلب بدلنے والے ہیں کچھ پل میں دار کے





Comments