مرے حسین کو روکو ادھر سفر نہ کرے



غم حسینؓ میں آنکھیں جو اپنی تر نہ کرے
وہ پھر گلہ نہ کرے گر دعا اثر نہ کرے

فلاح چاہیے دنیا و حشر میں جس کو
علیؓ کی رہ پہ چلے رخ ادھر ادھر نہ کرے

انھی کے صدقے زمانے میں رزق بٹتا ہے
جو وہ نہ چاہیں تو سایہ کوئی شجر نہ کرے

علیؓ  کی والدہ آئی ہیں چل کے کعبہ میں
مجال کیا ہے کہ دیوار کو وہ در نہ کرے

یہ کوفہ والے ازل سے بہت منافق ہیں 
مرے حسینؓ  کو روکو ادھر سفر نہ کرے





مصنف کے بارے میں


...

حسیب الحسن

1995 - 1995 | خوشاب





Comments