باقی رہتی ہے سچائی، سچائی کا سراغ



 

باقی رہتی ہے سچائی، سچائی کا سراغ

کھول گئے یہ رازِ نہاں اک بچہ اور چراغ

اس کے لیے بے معنی ہیں سونے کی طشتریاں

جس کے پاس ہوں اپنا جھنڈا، نعرہ اور چراغ

سارا دشت ہے جائے نماز اور ہر ٹیلہ محراب

اس مسجد میں روشن ہیں وہ سجدہ اور چراغ

تیرا قصہ محل، حکومت، سطوت اور سپاہ

میری کہانی میرا حصہ خیمہ اور چراغ

ملے ہوئے ہیں جیسے تپتی ریت اور پیاسے ہونٹ

جڑے ہوئے ہیں اسی طرح سے نوحہ اور چراغ

جلتی ریت پہ کس نے اپنے لہو سے لکھا تھا

میں مر جاؤں تو ہو جائے پیدا اور چراغ

ظلم کی ایک کہانی دہراتے رہتے ہیں طریرؔ

شام، لہو، صحرا، سناٹا، دریا اور چراغ






مصنف کے بارے میں


...

دانیال طریر

- 2015 |


مسعود دانیال اور تخلص طریر ۔ اردو میں ایم اے کیا اور جامعہ بلوچستان کوئٹہ میں بطور لیکچرر شعبہ اردو اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔ زمانہ طالب علمی سے ہی ادبی سفر کا آغاز کیا اور ادبی دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ۸۰ کی دہائی میں صوبہ بلوچستان کے شہر لورالائی سے طلوع ہونے والے یگانہء روزگار فاضل اور عالمی ادبیات کے نیّرِ تاباں گزشتہ سال اجل کے ہاتھوں اُفقِ ادب سے غروب ہوکر عدم کی بے کراں وادیوں میں اوجھل ہو گئے۔ آپ ایک ادبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ۲۰۰۵ میں پہلا شعری مجموعہ آدھی آتما منظر عام پر آیا اس شعری مجموعے کو حکومت بلوچستان نے صوبائی ایوارڈ سے نوازا۔ ان کی دیگر تصانیف میں ۲ بلوچستانی شعریات کی تلاش(جلد اول ) سال اشاعت 2009 ۳۔معنی فانی (شاعری) سالِ اشاعت ، 2012 ۴۔معاصر تھیوری اور تعین ِ قدر (تنقید)سالِ اشاعت 2012 ۵۔جدیدیت، ما بعد جدیدت اور غالب ۶۔خواب کمخواب(شاعری) ۷۔خدا مری نظم کیوں پڑھے گا (طویل نظم) شامل ہیں۔




Comments