حسین ابن علی



موج اٹھی کہیں اندر سے حسین ابن علی
حر پکارے دلِ حیدر سے حسین ابن  علی

ایک خورشید  سرِ  نوک سناں ہوگا طلوع
کہ رہے تھے علی اکبر سے حسین ابن علی

پیکرِ  نور   تھے  اک  اور  تجلی میں  اٹھے
شبِ ظلمت کے برابر سے حسین ابن علی

چاہے  سیراب کرے  سارے زمانے  کو  فرات
اس کے پانی کو بہت ترسے حسین ابن علی

صاحبِ عصر نے تلوار سے حجت نہیں کی 
تربیت یافتہ تھے گھر سے حسین ابن علی











Comments